امریکا نے ترکی میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ویزہ سروس معطل کر دی

امریکا نے ترکی میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ویزہ سروس معطل کر دی
Photo by Ajel News

انقرہ : امریکا نے ترکی میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی ویزہ سروس عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق انقرہ میں امریکی سفارت خانہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے جس کے مطابق ترکی میں امریکی شہری محفوظ نہیں ہیں اور اُن کو اغوا کیا جا سکتا ہے۔ جس کے باعث امریکا ترکی میں موجود اپنے تمام مششنز سے ویزہ سروس کو عارضی طور پر معطل کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ جدید ایس 400 میزائل تجربے پر امریکا اور ترکی کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ ترکی اُس کا اتحادی ہونے کے ناطے روس سے حاصل کیے ہوئے جدید میزائل سسٹم کو استعمال میں نہ لائے لیکن ترکی کا کہنا ہے کہ وہ ملکی دفاعی کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔

واضح رہے کہ ترکی نے روس سے حاصل کیے جدید ایس 400 میزائل کا تجربہ کرکے امریکا کو آگ بگولہ کر دیا ہے۔

میزائل تجربے سے پہلے ترکی کی حکومت نے ساحلی علاقے پر غیر ضروری اقدامات پر پابندی کے لئے نوٹسز جاری کیے تھے تاکہ تجربے کا عمل ٹھیک طرح سے جاری رہے۔

اس سے قبل لیبیا میں فوجی مداخلت، مشرقی بحیرہ روم میں قدرتی وسائل کی تلاش کی وجہ سے پڑوسی اور یورپی ممالک کے ساتھ تنازعات اور آرمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان جاری لڑائی میں قراباغ میں جنگجو بھیجنے پر ترکی سخت تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعہ کے روز ترک وزارت دفاع نے بحر اسود کی فضا میں ایک میزائل داغا۔ میزائل داغے جانے کے بعد اس کے نتیجے میں اٹھنے والا دھواں عمودی حالت میں دیکھا جاسکتا ہے۔ خبر ہے کہ یہ میزائل روس کے 'ایس 400' دفاعی نظام کے تجربے کا حصہ ہے۔

میزائل تجربے کی ویڈیو ساحلی شہر سینوب میں بنائی گئی۔

حالیہ ایام میں ترکی نے ساحلی علاقے میں جہاز رانی اور فضائی آمد ورفت کے حوالے سے ایک الرٹ جاری کیا تھا۔

روس سے حاصل کردہ 'ایس 400' دفاعی نظام پر ترکی اور امریکا کے درمیان سخت کشیدگی رہی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ نیٹو کے کسی رکن ملک کا روس سے جدید ترین اسلحہ خریدنا نیٹو کے رکن ممالک کے لیے خطرہ ہے۔

اس کے علاوہ ترکی اور امریکا نے مشترکہ طور پر 'ایف 35' جنگی طیارے تیار کرنے کے ایک پروجیکٹ پرکام شروع کیا تھا مگر روس سے'ایس 400' دفاعی نظام خریدنے پر امریکا نے ترکی کےساتھ یہ ڈیل منسوخ کردی تھی۔