وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا

موجودہ دور پر نظر ڈالی جائے تو فتنوں کی بھرمار لگی ہوئی ہے، ہر طلوع ہوتے آفتاب کے ساتھ ایک نیا فتنہ سامنے آتا ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنی کامل قدرت سے بے شمار مخلوقات کو پیدا فرمایا مگر ان تمام میں سے عبادت کا حکم فقط دو یعنی کہ انسان اور جنات کو ہی دیا گیا۔ ہمزاد فارسی کا لفظ ہے یعنی ہمہ وقت ساتھ رہنے والا۔ قرآن کریم میں اسے ”قرین“ یعنی ساتھ رہنے والا کہتے ہیں۔ قرین اور ہمزاد سے مراد جن اور فرشتہ کے ہیں۔ مسلم شریف کی حدیث مبارکہ میں ہے کہ ہر انسان کے لیے ایک جن اور ایک ہمزاد ملائکہ مقرر کر دیا جاتا ہے۔ پیدائش کے وقت سے لے کر موت تک یہ کسی سایہ کی مانند انسان کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ فرشتہ اس کو خیر کا مشورہ دیتا ہے اور شیطان شر کا حکم دیتا ہے، خیر کا مشورہ دینے والے فرشتے کو ملھم اور شیطان کو وسواس کہتے ہیں۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ اس کا ہمزاد کہے گا اے ہمارے رب میں نے اسے گمراہ نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا۔ اس شیطان ہم نشیں یا ہمزاد کے علاوہ بھی انسان کو صحیح راستے سے گمراہی کی طرف مائل کرنے کے لیے ابلیس اور اس کی پوری ذریت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اس نے کہا باسبب اس کے کہ آپ نے مجھ کو گمراہ کیا میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے لیے آپ کی سیدھی راہ پر بیٹھوں گا، پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور ان کی دائیں  جانب سے بھی اور ان کی بائیں جانب سے بھی اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائیں گے۔ ہمزاد ماضی اور حال تو جانتا ہے مگر مستقبل کے کسی بھی علم سے نابلد ہوتا ہے کیونکہ آنے والے وقت کا علم فقط ربِ ذوالجلال کی ذات کو ہے۔ ہر جسمانی وجود کے اوپر ایک اور جسم ہے، اس جسم کو علما ہیولیٰ کہتے ہیں۔ اس جسم کے طول و عرض اور جسم میں تمام خدوخال مثلاً ہاتھ، پیر، آنکھ، ناک، دماغ سب موجود ہوتا ہے۔ انسان کے ہر بچے کے ساتھ پیدا ہونے والا جن کا بچہ شکل و صورت میں بالکل اس انسان کے مشابہ ہوتا ہے، علم، 

معلومات، جذبات اور احساسات میں اس کی حیثیت ایک بیک اپ ہارڈ ڈسک کے جیسی ہوتی ہے۔ ہر شر کی ابتدا شیطان سے ہے۔ شیطان سے انسان کی دشمنی تخلیقِ آدم علیہ السلام کے وقت سے چلی آ رہی ہے، اللہ سبحانہ تعالیٰ نے شیطان کو قیامت کے دن تک کے لیے زندگی دی ہے اور پھر اس عطا شدہ قوت کے بل بوتے پر شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کو چیلنج کر دیا کہ وہ آدم علیہ السلام کے بیٹوں کو اللہ کا باغی و نا فرمان بنا کرجہنم کا ایندھن بنا دے گا۔ وہ شیاطین جن کا تعلق انسانوں کی دنیا سے ہے اور یہ کفر اور گمراہی کی طرف بلانے والے ہیں۔ جو خود بھی اللہ تعالیٰ کے احکامات سے سرتابی کی وجہ سے گمراہ ہو گئے اور دوسروں کو بھی راہِ راست سے گمراہ کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ حضرت مالک بن دینارؓ فرماتے ہیں، میرے لیے انسانی شیطان جنوں کے شیطان سے زیادہ سخت ہے۔ اس لیے کہ جب میں اللہ رب العزت کی پناہ مانگتا ہوں تو جنوں کا شیطان مجھ سے کوسوں دور بھاگ جاتا ہے اور انسانوں کا شیطان میرے قریب آ جاتا ہے اور مجھے اعلانیہ گناہوں کی طرف کھینچتا ہے۔ آج کل صورت حال بڑی نازک ہے، پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہر شخص کو اپنی بات کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے، کوئی ڈھکے چھپے الفاظ میں دینِ حق کا مذاق اُڑا رہا ہے تو کوئی کھلم کھلا الفاظ میں، کسی کو سود خوری جائز نظر آتی ہے تو کوئی مرد و زن برابر ہیں کی تائید میں دلائل دے رہا ہے۔ کسی کو موسیقی میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی تو کسی کو مذہبی وضع قطع والے ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ ابلیس کے یہ چیلے ہمیں دکھائی بھی دیتے ہیں اور ہمارے ساتھ ہمہ وقت موجود بھی رہتے ہیں۔ یہ انسان نما شیاطین ہر دور میں پائے جاتے ہیں جو انسان سے گمراہی کے بڑے بڑے کام کراتے ہیں۔ انسان کی فطرت کو دیکھتے ہوئے شیطان انہیں مزید شیطانیت پر اُکساتا ہے اور اپنے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے جیسے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں فرعون نے ان کی بھرپور مخالفت کی، حضرت ابراہیمؑ کے زمانے میں یہی کام نمرود نے سر انجام دیا۔ شیطان نے اس انسان نما شیطان کے روپ میں خلیل اللہ کے لیے آتش کدہ تیار کیا مگر حکمِ خداوندی کے باعث وہی آتش کدہ باغ و بہار بن گیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں کے ذریعے حضرت یعقوب علیہ السلام سے الگ کیا، حضرت عیسیٰؑ کے متعلق شیطان نے یہودیوں کو ورغلایا۔ جن شیطان کی جب انسان پر غلبہ پانے، گمراہ کرنے اور اسے اس کے نفس کے ذریعے بہکانے کی طاقت جواب دے جاتی ہے تو پھر وہ انسان نما شیاطین سے مدد طلب کرتا ہے۔ انسانی شیطان اور جن شیطان میں فرق صرف اتنا ہے کہ انسان نما شیاطین کو اذان نہیں بھگاتی اور نہ ہی وہ ماہ رمضان میں قید کیے جاتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں