ایک کے بعد ایک

 ایک کے بعد ایک

ایک کے بعد ایک مقبول عوامی لیڈر نااہلی کی بھینٹ کیوں چڑھا دیا جاتا ہے؟یہ سوال ہر کوئی پوچھ بھی رہا ہے اور جانتا بھی ہے،وطن عزیز میں ایسے فیصلے کوئی نئی بات نہیں ہماری تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے، حسین شہید سہروردی کی حکومت غیر آئینی طریقے سے ختم کی گئی تو مشرقی پاکستان میں احسا س محرومی نے جنم لیا نتیجے میں ایوب خان کو اقدام کرنا پڑا،احساس محرومی بتدریج نفرت میں بدلا اور آخر کار ملک دولخت ہو گیا،ذوالفقار بھٹو کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کے نتیجے میں ملک دس سال کیلئے جمہوریت سے محروم رہا،اگر چہ بھٹو سے بھی کچھ غلطیاں سرزد ہوئیں،ضیاء دور میں غیر جمہوری سیاستدانوں کی نرسری لگائی گئی جس نے سیاست میں خریدو فروخت اور کرپشن کو رواج دیا،اسی نرسری میں پرورش پانے والوں نے بینظیر بھٹو کیخلاف غیر جمہوری قوتوں سے گٹھ جوڑ کر کے ان کے راستے محدود بلکہ مسدود کئے،آخر کار بینظیر بھٹو کو راستے سے ہٹا دیا گیا، یہی راستہ میاں نواز شریف کو دکھایا گیا تو اب یہی رویہ عمران خان کیساتھ روا رکھا جا رہا ہے مگر کیا ان ہتھکنڈوں سے عمران خا ن کے راستے روکے جا سکیں گے،کیا ان کو سیاسی میدان سے باہر کیا جا سکے گا؟یا ایسے ہی بے بنیاد مقدمات میں سزائیں سنا کر عدالتوں میں مصروف رکھا جائے گا۔اس ملک میں مائنس ون کا کھیل کب تک جاری رہے گا،اس پر کسی اورکو نہیں سب سے زیادہ سیاستدانوں کو سوچنا ہوگا۔

پاک بھارت کرکٹ میچ میں جو سنسنی،جوش،جزبہ دیکھنے کوملتا ہے اس سے گمان ہوتا ہے یہ کھیل نہیں بلکہ یدھ ہو رہا ہے کچھ یہی کیفیت آج ملکی سیاست کی ہے،چہرے بدلے،دوست دشمن تبدیل ہو گئے،ہیرو ولن اور ولن ہیرو بن گئے،چلن اور طرز عمل مگر وہی چار دہائیاں قبل والا ہے،کبھی یہ معرکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں بپا تھا مگر آج ان دونوں جماعتوں سمیت 13جماعتی اتحاد ایک جانب اور اکیلے عمران خان دوسری جانب ہیں،ن لیگ اور پی پی پی میں چالیس سال دیرینہ دشمنی کن وجوہ سے دوستی میں بدلی یہ کوئی خفیہ راز نہیں،کوئی زبان سے اقرار کرے نہ کرے جانتے مگر سب ہیں کہ ہدف دونوں کا عمران خان ہیں اگر چہ اس13جماعتی اتحاد کی جماعتوں کو بھی ایک دوسرے پر تحفظات ہیں مگر ان کا واحد ایجنڈا عمران خان کو اقتدار سے دور رکھنا بلکہ سیاسی میدان سے ہی آؤٹ کرنا ہے تاکہ کوئی ان سے سوال کرنے والا ہو نہ احتساب کا مطالبہ کرنے والا،اسی بنیاد پر عمران خان کو الیکشن کمیشن کے ذریعے توشہ خانہ کیس میں نا اہل قرار دلایا گیا،یہ پہلا موقع نہیں جب ملک کی مقبول ترین قیادت کیخلاف موروثی سیاسی قوتیں متضاد الخیال ہونے کے باوجود یک نکاتی ایجنڈا پر متحد ہوئی ہوں،اس سے قبل حسین شہید سہروردی اور ذوالفقار علی بھٹو کیساتھ بھی یہی کچھ ہوا تھا۔

 کئی دہائیاں باری باری اقتدار کے مزے لینے والی ان جماعتوں نے ملک کو سیاسی بلکہ ذاتی جاگیر بنا لیا،کسی اور کی حکمرانی ان کو سرے سے قبول ہی نہیں،ن لیگ کو جب مرکز سے مایوسی ہوئی تو اس نے پنجاب کو اپنا مرکز بنا لیا پیپلز پارٹی نے سندھ میں پناہ لے لی جبکہ ان کی اتحادی ایم کیو ایم سندھ کے شہری علاقوں کو اپنی مستقل راج دہانی سمجھ بیٹھی،پنجاب اور سندھ کی بنیاد پر ہی وفاق میں حکومت سازی کی گئی،ایم کیو ایم نے خود کو کراچی تک محدود کر لیا،یہ جماعتیں طویل عرصہ سے جن نعروں وعدوں کی بنیاد پر عوام کو بیوقوف بنا کر اقتدار کے مزے لوٹتی رہیں ان میں سے کوئی بھی وعدے پورے نہ ہوئے،دو جماعتی جمہوری سیاست میں تیسری سیاسی قوت ان کو اپنی موت دکھائی دیتی تھی،ان کی بد نصیبی کہ عمران خان نے سیاست سے لا تعلق طبقہ کو متحرک اور فعال کیا اور تیسری قوت بن کر سامنے آئے،مولانا فضل الرحمٰن اور ولی خان کے بیٹوں سے کے پی کے ووٹ کی طاقت سے چھینا،پھر پنجاب ن لیگ کے جبڑوں سے نکالا اور ساتھ ہی 35سال سے قابض ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو اسلام آباد سے نکال باہر کیا،حالیہ ضمنی الیکشن جو ایک منصوبہ کے تحت کرائے گئے مگر پہلے پنجاب میں اور پھر مرکز میں عمران خان نے کامیابی سمیٹ کر ان قوتوں کو متحد ہو نے اور مشترکہ لائحہ عملی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔

 آئینی ماہرین الیکشن کمیشن کو عدالت نہیں مانتے ان کے نزدیک عمران خان کی نا اہلی کا فیصلہ اختیارات سے تجاوز ہے یہ اختیار اعلیٰ عدلیہ کا ہے،شائد یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنا فیصلہ جاری کرنے سے لیت و لعل سے کام لیتا رہا اور فیصلہ ایک ماہ تک نہ سنایا گیا،الیکشن کمیشن کا تعصب اور جانبداری اس کے گزشتہ آٹھ سے دس فیصلوں میں واضح دکھائی دیتی ہے،پنجاب میں حکومت تبدیلی کیلئے بھی وہ مہرہ بنے،لوٹا بننے والے20سے ارکان اسمبلی کیخلاف تحریک انصاف کی درخواست کو قابل سماعت نہ سمجھا،عدالتی حکم پر 15منتخب ارکان کو ڈی نوٹیفائی کر دیا مگر ان کے حمزہ شہباز کو دئیے گئے ووٹ شمار کئے،مخصوص نشستوں پر پانچ ارکان کا معاملہ پھر لٹکا دیا،یہ مسئلہ بھی عدالت کو حل کرنا پڑا مگر ان کے ووٹوں سے حمزہ کو وزیر اعلیٰ منتخب کرادیا،وزیر اعلیٰ کے انتخاب کا معاملہ جب پیچیدہ کیا گیا تو پھر عدلیہ نے ہی اسے سلجھایا، سوا سو سے زائد تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کو بھی اتحادی حکومت کے حق میں استعمال کیا گیا،سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے منظور کردہ استعفے متنازع بنا دئیے،موجودہ سپیکر نے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کے بجائے ارکان کو طلب کر لیا،آخر کار ان نو نشستوں پر استعفے منظور کئے گئے جن پر کم مارجن سے کامیابی ہوئی اور ن لیگ پیپلز پارٹی کے مجموعی ووٹ زیادہ تھے، مگر جیسے صوبائی نشستوں پر عمران خان نے میدان مارا ایسے ہی قومی نشستوں پر بھی اتحادی حکومت کو دھول چٹائی۔

 توشہ خانہ ایک ایسا کیس ہے جو عام سیاسی کارکن کی سمجھ میں نہیں آرہا، مریم نواز تو اسی نتیجہ کا کئی روز پہلے برملااظہار کر چکی ہیں چند روز بعد ہی الیکشن کمیشن نے وہی فیصلہ دیا جس کا مریم نے مطالبہ کیا تھا،نواز شریف اور آصف زرداری توشہ خانہ سے دو دو قیمتی گاڑیاں لے چکے ہیں اور ان کیخلاف دوسال سے ریفرنس التواء میں ہے،مگر الیکشن کمیشن نے ان کیسوں کو چھیڑا تک نہیں حالانکہ آئینی طور پر توشہ خانہ سے گاڑیاں باہر نکالی ہی نہیں جا سکتی ہیں،ممنوعہ فنڈنگ کیس میں بھی اعلیٰ عدلیہ نے تمام جماعتوں کے کیس ایک ساتھ سننے کا حکم دیا مگر الیکشن کمیشن نے صرف تحریکانصاف کے کیس کی مسلسل سماعت کی،یہ کیسا انصاف ہے کہ ایک ہی نوعیت کے الزامات پر ایک فریق کیخلاف تو تیز تریں سماعت کر کے مخالفانہ فیصلے صادر کر دئیے جائیں اور فریق ثانی کے کیس عدالتی حکم کے باوجود چھیڑے ہی نہ جائیں۔اس طرح کے اقدامات سے عمران خان اور تحریک انصاف کو میدان سے باہر نہیں کیا جاسکتا،ملک انتشار کی طرف بڑھ رہا ہے،خدارا سب ملکی ادارے ہوش کے ناخن لیں۔

مصنف کے بارے میں