لاہور ہائیکورٹ:شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں پیر تک توسیع

لاہور ہائیکورٹ:شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں پیر تک توسیع

لاہور: ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں پیر تک توسیع کردی ہے۔


تفصیلات کے مطابق شہباز شریف نے اس موقع پر عدالت میں کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں ،مجھ پر الزام ہے میں نے بطور وزیراعلی اختیارات سے تجاوز کیا۔جس پر عدالت نے  بولنے روکتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ نے وکیل کیا ہوا ہے۔عدالت کی آئندہ سماعت پر شہباز شریف کے وکیل کو دلائل مکمل کرنے کی ہدایت۔

دوران سماعت شہباز شریف کے وکیل نے دلائل دیئے کہ نیب نے جسمانی ریمانڈ کے دوران آمنا سامنا نہیں کروایا، کرپشن یہ ہوتی ہے کہ پبلک آفس کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، آج تک نیب شہباز شریف کے عوامی عہدے اور اثاثوں میں کوئی تعلق ثابت نہیں کر سکا۔ نیب تفتیش میں سیاسی مداخلت ہو رہی ہے، شہزاد اکبر جو کہتے ہیں ایک ہفتے بعد اس پر عمل ہو جاتا ہے ۔

عدالت نے استفسار کیا شہباز شریف کے خلاف کتنے گواہ ہیں۔ جس پر شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ کل ٹی وی پر شہزاد اکبر نے کہاکہ 100سے زیادہ گواہ ہو جائیں گے، عبوری ضمانت کیس میرے موکل کے خلاف بار ثبوت نیب پر ہے، نیب کو ثابت کرنا ہے کہ کہاں کس طرح کرپشن کی، نیب کو بتانا ہو گا کہ کس دفتر کا غیر قانونی استعمال کیا۔ 

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وقت ختم ہو رہا ہے جس پر شہباز شریف کے وکیل نے درخواست کی کہ کیس ملتوی کر دیا جائے ، پھر اگلی سماعت پر دلائل مکمل کر دیں گے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو دلائل مکمل کرنے کے لیے کتنا وقت چاہیے جس پر وکیل نے کہا کہ جلد از جلد دلائل مکمل کر لیں گے۔ لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کی ضمانت میں پیر تک توسیع کر تے ہوئے شہباز شریف کے وکیل کو پیر کے روز دلائل مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔

قبل ازیں جب شہباز شریف پیشی کیلئے لاہور ہائیکورٹ پہنچے تو پولیس کمانڈوز نے احاطہ عدالت کو گھیرے میں لئے رکھا۔ متعدد لیگی رہنما شہباز شریف سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کمرہ عدالت میں پہنچے جن میں امیر مقام، شائستہ پرویز ملک، عظمی بخاری، رانا ارشد، احمد پرویز، ملک احمد خان اور دیگر شامل تھے۔ عدالتی کارروائی کے آغاز سے قبل شہباز شریف اپنے وکلا سے مشاورت کرتے رہے جبکہ اعظم نذیر تارڑ اور عطااللہ تارڑ انہیں کیس سے متعلق بریفنگ دیتے رہے۔ لیگی کارکنان اس موقع پر عدالت کے باہر نعرے بازی کرتے رہے۔

کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے پنجاب پولیس کی بھاری نفری لاہور ہائیکورٹ کے باہر بھی موجود تھی جبکہ واٹر کینن بھی منگوائے گئے تھے۔ حکام نے غیر متعلقہ افراد کےعدالت آنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔