اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت کشیدگی بڑھا رہا ہے، پاکستان

اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت کشیدگی بڑھا رہا ہے، پاکستان
بھارتی فوج نے اپنے بیان میں تین کشمیری نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کا اعتراف کیا، پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ مودی سرکار اپنے اندورنی مسائل سے نظر ہٹانے کے لیے ایل او سی پر تناؤ میں اضافہ کر رہی ہے۔ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی محاصرے کو ایک سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور اس دوران سیکڑوں خواتین کی عصمت دری کی گئی جبکہ بزرگوں اور بچوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پیلٹ گن کے استعمال سے سیکڑوں نوجوانوں کی بینائی چھین لی گئی جبکہ بھارتی افواج نے ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ماورائے عدالت قتل کیا۔


انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے 18 جولائی کو تین کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے اور دو ماہ گزر جانے کے بعد بھارتی فوج نے اپنے بیان میں تین کشمیری نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کا اعتراف کیا، پاکستان سمجھتا ہے کہ بھارتی فوج کا بیان مظالم اور جرائم کا اعتراف ہے کیونکہ بھارتی فوج کے سنگین جنگی جرائم کا جوڈیشل انکوائری کے تحت تحقیقات ہونی چاہیے، پاکستان مطالبہ کرتا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کالے قوانین کا خاتمہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ترک صدر اردوگان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حمایت میں آواز بلند کرنے کو سراہتا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت اپنے اندورنی مسائل سے نظر ہٹانے کے لیے ایل او سی پر تناؤ میں اضافہ کر رہی ہے اور رواں برس بھارتی قابض افواج نے ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر جنگ بندی کی 2333 مرتبہ خلاف ورزیاں کیں، ان خلاف ورزیوں میں 18 نہتے شہری شہید اور 185 زخمی ہوئے۔

زاہد حفیظ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے بارہا مطالبے کے باوجود بھارت نے جودھ پور میں قتل ہونے والے 11 ہندووں کے حوالے سے معلومات فراہم نہیں کی۔ اقلیتی رکن اور پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ رمیشن کمار نے اس حوالے سے وزیر خارجہ سے ملاقات کی اور انہوں نے بھارت جانے والے ہندووں کی سیکیورٹی کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا، آج ہندو برادری کی جانب سے جودھ پور میں پاکستانی ہندو خاندان کے قتل پر مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 75واں اجلاس 29 ستمبر تک جاری رہے گا اور وزیر خارجہ اور وزیر اعظم اس میں مجازی طور پر شرکت کر رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان کل اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کریں گے جب کہ عمران خان اسلامو فوبیا، کورونا وائرس کے خلاف پاکستان کی کامیابی کو بھی اپنے خطاب میں اجاگر کریں گے۔

زاہد حفیظ کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اقوام متحدہ سے خطاب کیا اور انسانی حقوق و مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کی اور انہوں نے مل کر مشترکہ چیلنجز کے خلاف جدوجہد کرنے پر زور دیا۔