بڑھتے عالمی تنازعات

بڑھتے عالمی تنازعات

دنیا تیزی سے کسادبازاری کی طرف جارہی ہے جس کی شدت کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ریاستیں باہمی شراکت داری میں اضافہ کریں اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اُٹھائیں مگر عالمی منظر نامے پر نگاہ دوڑائیں تو ایسا ہونے کی بجائے صورتحال بالکل اُلٹ ہے بین الریاستی تنازعات میں اضافہ تو دیکھنے میں آرہا ہے مگر تعاون کی راہیں مسدود نظر آتی ہیں جس سے اِن خدشات کو تقویت مل رہی ہے کہ مستقبل میں دنیا کو ایسے شدید بحرانوں کا سامنا ہو سکتا ہے جس سے نہ صرف صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے خوراک کی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے رواں برس ایک طرف افریقہ میں قحط سالی ہے جبکہ کئی ایشیائی ممالک کو سیلاب جیسی قدرتی آفت کا سامنا ہے اِن سنگین حالات کے ادراک کی بجائے عالمی طاقتیں کھینچاتانی اور تنازعات بڑھانے میں مصروف ہیں اِن حالات میں اقوامِ متحدہ سے توقع تھی کہ وہ تنازعات کے خاتمے کے لیے مصالحانہ کردارادا کرتی مگر ایسا نہیں ہو رہا بدھ کے روز اقوامِ  متحدہ کے ریزیڈنٹ اور ہیومن کوارڈینیٹرجولین ہرنیز نے صحافیوں کو یہ بتا کر حیران کر دیا کہ سیلاب سے مصائب میں مبتلا لوگوں کی بحالی کے لیے صرف ساٹھ لاکھ ڈالر کی رقم موصول ہوئی ہے حالانکہ مسئلے کی سنگینی اور حجم کو دیکھتے ہوئے نقصانات کاابتدائی تخمینہ 160ملین ڈالر لگایا گیا تھا جس کا ممبر ملکوں نے مثبت جواب دیا مگروعدوں کے مطابق ابھی تک رقم موصول نہیں ہوسکی کئی دہائیوں سے کشمیر ہو یا شام یا پھر فلسطین ،اقوامِ متحدہ اپنی ہی پاس کردہ قرار دادوں پر عملدرآمد کرانے میں آج تک ناکام ہے جس سے سوال یہ پیدا ہوگیا ہے کہ ہنگامی حالات میں کیا اُس میں اتنی سکت ہے کہ طاقتور ممبر ممالک سے کچھ منواسکے؟ حالات کو دیکھتے ہوئے اِس سوال کا ہاں میں جواب دینا غلط ہوگا۔

طاقتور اور امیرممالک نے محض اپنی قوت برقرار رکھنے کے لیے ہتھیاروں کی بے جا دوڑ شروع کر رکھی ہے نت نئے ایسے ہتھیار ایجاد کیے جارہے ہیں جودورمار اور ہلاکت خیزی میں پہلے سے موجود ہتھیاروں سے کئی گُنا زیادہ ہیں نئے ایجادکیے گئے ہتھیاروں کی استعداد جانچنے کے لیے کیونکہ لڑائی کے میدان ضروری ہیں اسی لیے تنازعات کو ہوادی جاتی ہے کمزور ممالک کی دولت ہتھیانے کے لیے خطرات پیدا کیے جاتے ہیں تاکہ بڑے پیمانے پر ہتھیاروں فروخت ہو اِس طرح امیر ممالک کی نہ صرف دولت میں اضافہ ہوتارہتا ہے بلکہ ہتھیاروں کی استعداد کے بارے میں بھی یہ معلوم ہوتارہتا ہے اب سوال یہ ہے کہ جب تمام ممالک ہی امن کے خواہاں اور دعویدار ہیں تو وہ  پھرعملی طور پر بنی نوح انسان کے لیے کیوں خطرات بڑھاتے ہیں اِس کا جواب یہ ہے کہ ملکی دولت بڑھانے کے ساتھ ہتھیاربنانے والی فیکٹریوں کے مالکان کادبائو ہے جو سیاسی جماعتوں کی مالی معاونت کرتے ہیں یہی جماعتیں جب اقتدارمیں آتی ہیں تو عطیات دینے والوں کے مفاد کی نگہبانی کرتی ہیں ایک اور اہم نُکتہ دیگر ہم عصر ریاستوں کو معاشی طور پر مستحکم ہونے سے روکناہے جس کے نتیجہ میں اکثر ممالک کی دولت کا ایک بڑا حصہ دفاع پر خرچ ہورہا ہے اب جبکہ ماہرین مسلسل کساد بازاری کی نشاندہی کررہے ہیں پھر بھی طاقتور اور امیر ممالک کے طرزِ عمل میں فرق نہیں آیا تنازعات کی بڑی وجہ یہ ہے بڑی طاقتوں کا حریف ریاستوں کو غیر مستحکم کرنا اور معاشی نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی ہے اسی بنا پر کم ہونے کی بجائے بڑے تنازعات بڑھتے جارہے ہیں۔

سچ یہی ہے کہ اگریوکرین کو امریکہ یہ یقین دہانی نہ کراتا کہ روسی حملے کی صورت میں اُس کا تحفظ کیا جائے گا تو یوکرین کا اداکار صدر کبھی جنگ میں کودنے کی حماقت ہر گز نہ کرتا اب بھی اُکسانے والوں کی طرف سے کوشش کی جارہی ہے کہ یوکرین کے شہری چاہے مرتے رہیں مگر روس جلد یہاں سے نہ نکل سکے بلکہ یہیں الجھا رہے اسی لیے مقابلے کے لیے یوکرین کوبھاری تعداد میں ہتھیاروگولہ بارود فراہم کیا جارہا ہے اِس وقت دنیا کی سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت چین کی ہے جبکہ امریکی معیشت مسلسل زوال پذیر ہے چینی معیشت سے دولت نکالنے اور لڑائی پر خرچ کرانے کے لیے تائیوان کو چین کے مقابل لانے کی کوشش کی جارہی ہے اور ایسے حالات بنانے پر کام جاری ہے کہ کسی طرح چین بھی تائیوان پر حملہ کر دے اور پھر یوکرین کی طرح تائیوانی فوج اورعوام کو بھی لڑنے کے لیے ہتھیار فراہم کیے جائیں مقصد وہی چینی معیشت کو ترقی سے روکنا ہے اب جب نگاہیں اقوامِ متحدہ کی طرف اُٹھتی ہیں کہ ایسے تنازعات کے خاتمے کے لیے اُس کی طرف سے کیا کوششیں ہورہی ہیں تووہاں غیر جانبداری اور لاتعلقی دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے روس کی طرح چین کے پاس بھی ویٹو پاور ہیں یہ بھی یو این او کوبے بس کرنے اور مداخلت سے باز رکھنے کی اہم وجہ ہے مگر یہ بے بسی اور غیر جانبداری ہمہ گیر کسادبازاری کو جنم دینے میں کلیدی کردار کا باعث بن سکتی ہے۔

بھارت اور چین میں بھی سرحدی تنازعات وسعت اختیار کررہے ہیں لداخ کے بعد اروناچل پردیش کو چین نے نئے نقشے میں اپنا حصہ بنالیا ہے بھارت اور چین کا دفاعی حوالے سے موازنہ کرنا مناسب نہیں کیونکہ بھارت ایک ایسا کمزور ملک ہے جو کئی اندرونی تنازعات کا شکاربھی ہے اور اُس کی زیادہ تر فوج اندرونی خلفشار کو ختم کرنے کے لیے اپنے شہریوں سے ہی برسرِ پیکارہے اور سرحد پر اگر ایک بڑی جنگ شروع ہوتی ہے تو یہ فوج زیادہ دیر مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیںاسی وجہ سے مودی نقشے کی تبدیلی کے باوجود خاموش ہیں مگر چین اور بھارت میں مڈبھیڑ کا اِ مکان پھر رَد نہیں کیا جا سکتا تائیوان کا مسئلہ ہو یا اروناچل پردیش کا،اقوامِ متحدہ دخل اندازی کی ہمت نہیں کررہی جس کی کئی ایک وجوہات ہیں ایک تو چین کے پاس بھی ویٹو پاور ہے جو یواین اوکو خاموش اور غیر جانبدار رہنے کا باعث ہے جبکہ بھارت کو بھی امریکہ جیسی سُپر پاور کی تائید ہے جو اُسے مسلہ کشمیر کے حوالے سے منظور کی جانے والی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے سے روکے ہوئے ہے مگراسی طرح تنازعات بڑھتے رہے تو دنیا کی معاشی سرگرمیاں اسلحے کی تجارت تک محدود ہو سکتی ہیں حالانکہ ہتھیاروں سے زیادہ اِس وقت دنیا کا اہم مسئلہ خوراک کی قلت ہے خوراک کی قلت ختم کرنے کے لیے زرعی پیداوار بڑھانا ضروری ہے جس کے لیے لازم ہے کہ وسائل کارُخ اسلحہ کی بجائے دیگر صنعتی اور زرعی سرگرمیوں کی طرف کیا جائے مگر یہ تبھی ممکن ہے جب تنازعات کو بڑھانے نہیں حل کرنے پر توجہ دی جائے اور اقوامِ متحدہ بڑی طاقتوںکے اشارہ ابروپر حرکت کرنے کی پالیسی چھوڑ کر مصالحت کرانے پر دھیان دے۔