پانامہ فیصلہ ، کس کا فائدہ کس کا نقصان؟

پانامہ فیصلہ ، کس کا فائدہ کس کا نقصان؟

قفل ٹوٹا خدا خدا کر کے ۔۔۔گو کہ اکثریتی توقعات کے عین مطابق نہیں مگر آخر کار پانامہ کا محفوظ فیصلہ سامنے آ ہی گیا....


پانامہ کیس کے فیصلے پر حکومتی جماعت اور حزب اختلاف دونوں کا ردعمل ہی حیران کن تھا۔ دونوں نے فیصلے کواپنے اپنے حق میںثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی( مگر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لینے سے کبوتر کی بچت یقینی نہیں ہو جاتی)۔ حکومتی جماعت اور حزب اختلاف دونوں نے ہی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلے کو فراخ دلی سے قبول کیا۔

فیصلے کے مطابق تشکیل دی جانے والی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی تحقیقا ت اور دو ماہ کی مہلت میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے لئے سود مند ثابت ہو نگی یا نہیں ؟اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا مگراس فیصلے سے مخالف فریق یعنی پاکستان تحریک انصاف کو اتنا فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اب انکے لگائے گئے الزامات کے ثبوت ان سے نہیں مانگے جائیں بلکہ اس حوالے سے شواہد اکٹھے کرنے کے لئے آئی ایس آئی ، ایم آئی ، ایف آئی اے ،نیب ، سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور سٹیٹ بنک آف پاکستان کے نمائندوں پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم فرائض سرانجام دے گی اور ہر دو ہفتے بعد عدالتی بنچ کو جواب جمع کرانے کی پابند بھی ہوگی۔

اپوزیشن کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنا یقیناََ ایک مثبت اقدام ہے مگرتحقیقاتی ٹیم میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندوں کی موجودگی کے باوجود ہمیشہ کی طرح غلط موقع پر احتجا ج کی کال دینا ناقابل فہم ہے ۔

جہاں اتنا انتظار کیا وہاں کچھ اور سہی ۔پا نامہ پیپرز کے منظر عام پر آنے سے جہاں دنیا بھر میں اثرو رسوخ رکھنے والی شخصیات کی پوزیشن خراب ہوئی اورکچھ نے اخلاقی طور پر تحقیقات سے قبل ہی استعفیٰ دے دیا (جن میں ایک مثال پانامہ پیپرز کے منظر عام پر آنے کے محض دو دن بعد آئس لینڈ کے وزیر اعظم کا استعفیٰ ہے )وہاں ہی پاکستان کی سیاست نے بھی ایک نیا موڑ اختیار کیا اور حزب اختلاف نے الیکشن میں دھاندلی کے بجائے پانامہ کو بنیاد بنا کر احتجاج کرنا شروع کر دیا ۔یہاں پانامہ پیپرز شائع ہونے پر اپنا لکھا ایک شعر یاد آ گیا۔۔۔

اک پانامہ کھلنے پر اتنا ہنگامہ ہے بھرپا

نہ جانے روز محشر اعمال نامے کھلنے پر کیا ہو گا

احتجاج ، کمیشن اور سپریم کورٹ کے بنچ کے فیصلے بعداب پھر جے آئی ٹی کا قیام قانونی تقاضوں کے عین مطابق سہی مگر یہاں تو سوال یہ ہے کہ20اپریل کو پانامہ کیس کا تاریخی فیصلہ کس کے خلاف یا حق میں آیاکیونکہ اس فیصلے کا سوائے پیپلز پارٹی کے سب جماعتوں نے ہی خیر مقدم کیا اور مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں ۔پاکستان تحریک انصاف کے تناظر میں اس فیصلے کو دیکھا جائے توجے آئی ٹی کی تشکیل کے علاوہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان سے تفتیش کے لئے 14سولات پر مشتمل ٹی او آرز بھی دے دئیے گئے ہیں۔

ماضی میں مختلف کیسز کے لئے بنائے جانے والے کمیشن اور جے آئی ٹی کے بے مقصد نتائج کے برعکس اس دفعہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی تحقیقات مکمل کر کے جواب جمع کرانے کے لئے ڈیڈ لائن مقرر کی ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کو اپنی مقررہ مدت میں معاشی تعاون و ترقی تنظیم کے تحت پانامہ اور دوسرے ممالک سے اپنے شہریوں کے بیرون ملک اثاثوں کے حوالے سے ٹیکس اور مالی معاملات کی معلومات تک رسائی نہیں مل سکے گی(پاکستان اس تنظیم کا حصہ سب سے آخر میں بنا ہے اس لئے اسے معلومات تک رسائی کے لئے ستمبر 2018 تک کا انتظار کرنا ہوگا)۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ عدالت کے 5رکنی بنچ نے فیصلے کے دوران اس زاویے کو نظر انداز کو دیا ہے ۔مگر پی ٹی آئی کے لئے یہ فیصلہ ہر لحاظ سے خوش آئند ہے (اگر انھوں نے اپنے غلط اقدامات سے ایک مرتبہ پھر ن لیگ کوفائدہ نہ پہچایا تو)۔دوسری جانب اگر ن لیگ کی بات کی جائے تو پانامہ کے فیصلے پرمٹھائیاں تقسیم کرنے کا اس کے علاوہ کوئی جواز نہیں نظر آتا کہ وزیر اعظم نااہل ہونے سے بچ گئے ۔

یہ بھی درست ہے کہ ایک منتخب جمہوری حکومت کے وزیر اعظم کی نااہلی جمہوریت کے لئے کسی صورت خوش آئند نہیں ہے مگرآئین کے ا ٓرٹیکل 62 اور63کے مطابق وزیر اعظم کو عدالتی یا تحقیقاتی ٹیم کے فیصلے کا انتظار کرنے کے بجائے اخلاقیات کی بنیاد پراستعفیٰ پیش کر دینا چاہیے تھا اور اب جو انھیں دو ماہ کی مزید مہلت ملی ہے اور مریم نواز کو پانامہ کیس میں عدالت کی جانب سے نظر انداز کیے جانے کے باعث میاں نواز شریف کے پاس انہیں متبادل وزیر اعظم بنانے کا آپشن بھی موجود ہے تو توانھیں اپنے اقدامات کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے ملک اور پارٹی کے وسیع تر مفاد میں مستقبل میں کم سے کم نقصان پر سمجھوتا کر لینا چاہیے ۔کیونکہ ایسے موقع پر جب الیکشنز سر پر ہیں انکی عدالت یا اداروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش عمران خان کو کوئی سیاسی فائدہ پہنچائے یا نہ پہنچائے پاکستان پیپلز پارٹی کے روشن مستقبل کی ضمانت ضرور ہو گی۔

روبا عروج نیو ٹی وی کی رپورٹر ہیں،  

روزنامہ نئی بات میں کالم بھی لکھتی ہیں