جذباتی رشتوں کی کہانی ۔۔۔۔۔ میری زبانی

آج ان کے چہرے پر خوشی کی انتہاءتھی ۔پہلی بار اپنے والد کو خوشی اور جدائی کے آنسوﺅں میں ڈوبتے دیکھا تھا ۔والد صاحب کے ان جذبات نے سخت سردیوں کی رات میں ماحول کو گر ما دیا تھا ۔ سردیوں کی رات کے بارہ بجے کے قریب کا وقت اورماحول میں سردی اور گرمی  کے احساسات نے کمرے میں ایک عجیب سا سماں باندھ دیا تھا ۔
اسی لمحے میرے والد صاحب میری طرف دیکھنے لگے اور بولے کہ” میرے پانچ دوست تھے ۔ہم ہندوستان کے صوبے پنجاب کے ضلع فتح گڑھ کے چھوٹے سے گاﺅں "پمور"  میں رہتے تھے ۔ وہاں میر ے عزیز رشتہ داروں کے علاوہ متعدد دوست بھی تھے۔ ان دوستوں میں سردار (بابا گروو نانک  کے پیرو کار )بھی شامل تھے ۔ ان  دوستوں میں سے ایک سردارہنڈ ل بھی تھے “۔پھر انہوں نے 1929سے 1947تک  کے ہندوستان میں رہنے کے دوران پیش آنے والے واقعات سنائے ۔
یہ2014کی سردیوں کی بات ہے جب میں نے اپنے والد صاحب سے ان کے انڈیا میں قیام اور ابتدائی ایام کے بارے میں پوچھا اور تمام تفصیلات حاصل کیں ۔ چونکہ میرے والد صاحب کو لاہور میں رہنا مشکل لگتا تھا اسلیے وہ گاﺅں (جلالپور بھٹیاں ) میں ہی رہنا پسند کرتے تھے ۔ بس ان سے ملاقات کے بعد میں لاہور واپس آگیا ۔ یہاں آکر پہلا کام تھا کہ اپنے اباﺅ اجداد کے گھر کے بارے میں معلومات کیسے حاصل کی جائیں اور اصل گھر کو کیسے تلاش کریں ۔ اس سلسلے میں گوگل سے مدد لی ۔
”فیس بک “سے اس گاﺅں جہاں دادا ابو اور باقی لوگ رہتے تھے کے ایک گردوارے کا اکاﺅنٹ ملا۔ اس اکاﺅنٹ پر والد صاحب کی طرف سے بتایا ہوا تمام ڈیٹا فراہم کیا ۔ دو دن تک تو کوئی جواب موصول نہیں ہوا تاہم تیسرے دن صبح جب میں نے اپنافیس بک اکاﺅنٹ کھولا تو ایک پیغام آیا ہو ا تھا ۔جس کو پڑھنے کے بعد میری خوشی کی انتہا نہ رہی ۔
میرے بتائے ہو ئے سارے ڈیٹا کے مطابق وہاں پر والد صاحب کے ایک دوست سردار ہنڈل سنگھ کا پتہ چلا جو کہ بالکل خیریت سے تھے ۔ گردوارے والوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ جو ڈیٹا آپ نے فراہم کیا اس کے مطابق دادا ابو کا گھر ابھی تک اسی حالت میں ہی ہے ۔ بلکہ اس گھر کے اوپر کے پورشن کے لیے جمع کی گئی اینٹیں ابھی تک ویسے ہی پڑی تھیں ۔ کیونکہ پارٹیشن سےچند ماہ پہلے گھر کا نیچے والا پورشن مکمل ہوا تھا اور اوپر والے پر کام جاری تھا جو 1947ء میں اسی حالت میں چھوڑنا پڑا۔   بعد میں اس پورشن کو مکمل نہ کرنے کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ ہمارے دادا جان اور ان کی اولاد (تایا ابو ، اور والد ) کے آجانے کے بعد اس گھر میں کچھ عرصہ بعد ہی ایک غریب ”حجام “ آکر رہنے لگ گیا تھا ۔ جس سے اس گھر کی تعمیر کے لیے اتنی رقم اکھٹی نہ ہو سکی کہ وہ مکمل مزید تعمیرو مرمت کر سکے ۔ گردوارے والوں نے ہمارے گھر کی تمام تصاویر بھی بھیج دیں تھیں ۔ انہوں نے والد صاحب کے ایک دوست سردار ہنڈل کا موبائل بمبر بھی فراہم کر دیا تھا۔
بس پھر کیا تھا میں نے سارا ڈیٹا موصول ہونے کے بعد اگلے ہی دن گاﺅں جانے کا پروگرام بنایا اگلے دن گاﺅں پہنچا اپنے والد صاحب کو کہا کہ آج آپ کو بڑا سرپرائز ملنے والا ہے ۔انہوںنے کہا کہ” کیا سرپرائز دینے والے ہو“ میں نے کہا کہ” میر ے پاس دادا ابو کے گھر کی تمام تصاویر ہیں وہ بھی تازہ ترین“ ۔ پہلے ان کو یقین نہیں آیا مگر جب میں نے انہیں گھر کی تصاویر دکھائیں تو وہ دنگ رہ گئے ۔
تصاویر دیکھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میرے والد صاحب کے لیئے وقت رُک سا گیا ہو۔وہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر نم دار آواز میں انہوں نے گھر کے بارے میں بتانا شرو ع کر دیا کہ یہ کمرہ میرا اور دوسرے بھائیوں کا ہے۔اس کے بعد اس گھر میںموجود دوسرے کمروں اور جگہوں کے بارے میں بتایا کہ کہاں بھینس اور بکریاں باندھتے تھے ۔ دادا دادی کا کون سا کمرہ تھا۔ میں نے پھر کہا کہ ابھی سرپرائز ختم نہیں ہوا ۔وہ بولے اچھا ‘ہو رکی رہ گیا “ میں جواب دیا کہ آپ کا دوست سردارہنڈل سنگھ سے بات رواتاہوں ۔
بس پھر گردوارے کی جانب سے فراہم کیا گیا نمبر ڈائل کیا اور سردارہنڈل سنگھ سے بات کروائی۔میر ے والد صاحب 1929میں پیدا ہوئے تھے اور سردار ہنڈل سنگھ ان کے بچپن کے دوست تھے ۔میں نے اتنے لمبے عرصے کے بعد پہلی بار اپنے والد کے چہرے پر ایک الگ سی خوشی دیکھی تھی ۔والد صاحب نے اپنے دوست سے سکول کا پوچھا ۔ گاﺅں میں جہاں کھیلتے تھے اس بارے میں پوچھا ۔دوسرے دوستوں کے بارے میں پوچھا جو کہ دنیا سے جا چکے تھے ۔ دس منٹ کی کال ختم ہوئی تو سردیوں کی رات میں چار بجے تک وہی قصے اور کہانیاں سنتے گزر گئے ۔
میں نے واقعی آج پہلی بار اپنے والد کی آنکھوں میں خوشی اور دکھ کے ملے جلے آنسو دیکھے تھے ۔ اپنا سارا گھر بار چھوڑ کر پاکستان آنے کے بعد سے لیکر اب تک کی کہانی سننے کو ملی ۔میرے والد صاحب کے دل میں ابھی بھی یہ خواہش تھی کہ ایک بار دادا ابو اور اپنے گاﺅں کو دیکھ لیں ۔میں نے والدصاحب سے کہا کہ ہم مل کے ایک دن جائیں گے مگر ان کی صحت نے ساتھ نہ دیا اور یوں 29اگست 2015کو وہ اس دارِ فانی سے کو چ کر گئے ۔میرے والد کی وہ خواہش ادھوری ہی رہ گئی اور شاید وہی خواہش اب میرے دل میں ہے کہ میں اپنے والد کے گاﺅں کو ایک بار دیکھ سکوں ۔شاید مجھے سکون مل سکے کہ میں نے اپنے والد کو ان کے گاﺅں کی گلیاں دکھا دیں ہیں۔

مصنف کے بارے میں

محمد اکرم شانی

محمد اکرم شانی  سینئیر صحافی, بلاگر  اور سوشل میڈیا ایکسپرٹ ہیں ،آج کل  نیو ٹی وی نیٹورک سے وابسطہ ہیں.