دوحہ: قطر کا مالیاتی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ قطری بینکو ں نے انسداد دہشتگردی کے علمبردار ممالک کی جانب سے اقتصادی، سفارتی اور سماجی بائیکاٹ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کیلئے ایشیائی اور یورپی ممالک کے بینکوں سے مدد طلب کر لی۔

حکومت قطر نے عرب ممالک کی جانب سے اربوں ڈالر نکالنے پر پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کیلئے بھاری رقوم قطری بینکوں میں جمع کرا دی ہیں۔ اسکے باوجود قطری بینک نئے مالیاتی وسائل پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آنےوالے مہینوں میں قطری بینکوں سے بھاری رقم بڑے پیمانے پر نکالی جائیںگی۔ سیاسی تجزیہ نگار اور مالیاتی امور کے ماہر احمد ابو دوح نے بتایا کہ قطری بینکوں میں غیر ملکی کرنسی میں کمی 8فیصد کے لگ بھگ واقع ہوئی ہے۔ یہ قطری معیشت کو گرانے کیلئے کافی ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بحران کے نتیجے میں فائدے کی شرح نصف فیصد بڑھے گی۔ یہ چیز قطر کے سینٹرل بینک میں خارجی کرنسی اثاثوں میں انتہائی کمی کا باعث بنے گی۔ 24.5ارب ڈالر قطری بینکوں سے نکلیں گے۔ آئندہ2 ماہ کے دوران 15فیصد غیر ملکی اثاثے قطر سے باہر چلے جائیںگے۔ انہو ں نے بتایا کہ امارات ، سعودی عرب اور بحرین قطر کے بینکوں میں غیر ملکی اثاثوں کے طور پر 55ارب قطری ریال محفوظ کئے ہوئے ہیں۔ یہ قطری بینکوں کے کل اثاثوں کا 24فیصد ہے۔ قطری بینکوں کے اثاثوں میں اب تک 20فیصد کمی ہو چکی ہے۔

اس بات کا خدشہ ہے کہ دہشت گرد و جہاد ی تنظیموں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے قطر پر لگائے جانے والے الزامات اہم سیاستدانوں اور بڑے اقتصادی اداروں کو سنجیدہ فیصلے لینے پر آمادہ کر دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ قطر کو 2بنیادی اقدام کرنے ہوں گے۔ اول تو اسے ایشیا کے جنوب مشرقی ممالک پر انحصار کرنا ہو گا جو قطری گیس کے بڑے گاہک مانے جاتے ہیں، دوم ترکی کی اقتصادی مدد کابھی سہارا لینا ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ ترکی قطر کی مدد کرتے رہنے کی پوزیشن میں نہیں ۔ اطلاعات یہ ہیں کہ قطر کے نیشنل بینک نے اسٹینڈرڈ چارٹرڈبینک سے مذاکرات شروع کر دیئے ہیں۔

ایشیا کی دیگر مالیاتی منڈیوں میں اسپیشل بانڈز جاری کرنے کی تجویز بھی زیرغور ہے۔ قطر کا اسلامی بینک یورپی و ایشیائی ممالک میں مختلف قسم کے سودے کر رہا ہے۔ماہرین کا کہناہے کہ ان حالات میں سب سےزیادہ مشکلات غیر ملکی شہریوں کو خاص طور پر ورکر ز کو ہو گی اگر حالات ایسے ہی رہے تو وہ دن دور نہیں جب غیر ملکی شہریوں کو اپنے ممالک واپس لوٹنا پڑے گا ۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔