ابھی تو پارٹی شروع بھی نہیں ہوئی

ابھی تو پارٹی شروع بھی نہیں ہوئی

سوال صرف ایک ہی ہے جس نے سارے ملک کو کئی روز تک سولی پر چڑھائے رکھا کہ شہباز گل پر تشدد کب ہوا ۔ ملک کے بیشتر علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور سیلاب ہر جگہ تباہیاں پھیلا رہا ہے ۔ بستیوں کی بستیاں اجڑی پڑی ہیں ۔ گاو¿ں دیہات تو کیا کراچی ایسے بڑے شہروں کا برا حال ہے ۔ سندھ جنوبی پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان میں سیلابی پانی ہر جگہ اپنے نشان چھوڑ رہا ہے ۔ سندھ میں چاول کی فصل مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور اور یہی حال جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا ہے ۔ دالیں جو امیر غریب سب کی مرغوب غذا ہے آنے والے دنوں میں قلت کے سبب مہنگی ہو جائیں گے ۔ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہو کر ویرانوں میں بیٹھے حکومتی امداد کے منتظر ہیں لیکن بغیر کسی وقفہ کے ایک کے بعد دوسرا بارش کا سلسلہ کچھ کرنے کا موقع ہی نہیں دے رہا ۔ اس گھبیر صورت حال میں کہ جب ہر روز انسانی المیے جنم لے رہے ہیں تو ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ملک کی سیاسی قیادت اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے رکھتے ہوئے ملک و قوم کی بہتری کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوا ہے اور نہ ہوتا نظر آ رہی ہے بلکہ ہر گذرتے لمحہ کے ساتھ ملک میں سیاسی پارہ بلند سے بلند ہوتا جا رہا ہے اور جس جماعت اور جس سیاسی رہنما کو سب سے زیادہ ملک و قوم کی فکر ہے وہی اس سارے تناﺅ کی سیاست کا باعث بنا ہوا ہے ۔ اس وقت ملک جس سیلابی کیفیت سے دوچار ہے اس میں تو معمول کی کیا ہر قسم کی سیاست کو ترک کر کے اس قدرتی آفت سے نمٹنے میں لگ جانا چاہئے لیکن شومئی قسمت ایسا نہیں ہوا ۔ ہر دوسرے دن جلسہ اور ظاہر ہے کہ سیاسی جلسہ اچھی خاصی سیاسی عیاشی ہوتی ہے اور اس پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں کاش یہ پیسہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں پر خرچ ہوتا تو ملک و قوم کے لئے بڑے مثبت نتائج نکلتے ۔

جیسا کہ عرض کیا کہ معمول کی سیاست ہو تو پھر بھی چل جاتی ہے لیکن ہر جلسے میں کوئی نہ کوئی ایسا لچ تلنا کہ ملک میں ہر بندہ سب کچھ بھول کر خان صاحب کی تقریر اور ان کے آفٹر شاکس پر گفتگو کرتا نظر آئے تو سوچیں کہ ملک میں مثبت سیاست کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے ۔ گذشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ یہ جو آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے کہ لٹ گئے مر گئے کچھ نہیں بچا تو کیا ہوا ہے کہ ایک بندے شہباز گل کو پولیس نے پکڑا ہے اور وہ بھی اس جرم میں کہ جس کا اقرار عمران خان سے لے کر تحریک انصاف کا ہر بندہ کر رہا ہے اور اس پر پولیس تشدد کا ڈھول اس قدر زور شور سے پیٹا جا رہا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اور خان صاحب نے تو تمام اخلاقی حدود کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شہباز گل کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام بھی لگا دیا ۔ اس سارے پٹ سیاپے میں حکومتی جانب سے ہر بندہ خان صاحب کے الزامات کا دفاع کر رہا تھا اور کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ آخر شہباز گل پر تشدد ہوا کب ۔ اس لئے کہ شہباز گل کو جب گرفتار کیا گیا تو اس کے دوسرے دن ہی عدالت میں پیش کر کے ان کا دو روزہ ریمانڈ لیا گیا اور دو دن کے بعد جب انھیں مزید ریمانڈ کے لئے عدالت میں پیش کیا گیا تو اس وقت ہم نہیں کہہ رہے بلکہ پوری دنیا نے ٹی وی اسکرینوں پر دیکھا کہ وہ ہٹے کٹے تھے ۔ عدالت نے ان کا مزید ریمانڈ دینے سے منع کر دیا اور انھیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ۔ اس دوران تشدد کا شور شروع ہوا جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اور اب بھی کونے کھدروں سے کچھ دھیمے سروں میں آوازیں آ رہی ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر دوران ریمانڈ گل صاحب پر کسی بھی قسم کا تشدد ہوا ہوتا تو تحریک انصاف جو میڈیا میڈیا کھیلنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی کیا اڈیالہ جیل سے گل صاحب کی درجنوں وڈیوز ریلیز نہ کر چکی ہوتی اور یہ بھی نہیں کہ کوشش نہیں کی گئی کچھ تصویریں اور ایک ادھوری وڈیو ریلیز کر کے کہا گیا کہ یہ گل صاحب ہیں لیکن پھر جب وہ پوری وڈیو سوشل میڈیا پر کسی نے اپ لوڈ کر دی تو جعلی وڈیو ریلیز کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی ۔اندازہ کریں کہ جو لوگ جعلی وڈیوز کو ریلیز کرنے سے باز نہیں آئے تو اگر حقیقت میںشہباز گل پر کوئی تشدد ہوا ہوتا تو کیا اس کی وڈیوز ریلیز نہیں ہونی تھی ۔ دوسری بات کہ اگر تشدد ہوا ہوتا تو اڈیالہ جیل تو پنجاب پولیس کے کنٹرول میں ہے تو کیا شہباز گل کو علاج کے لئے کسی ہسپتال میں داخل نہ کرایا جاتا اور اس دوران کون سا زہریلا پروپیگنڈا تھا جو نہیں ہونا تھا ۔اس کا صاف مطلب ہے کہ جب شہباز گل کو اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تو اس وقت تک ان پر کوئی تشدد نہیں ہوا تھا اور اس بات کا امکان تو نہ ہونے کے برابر ہے کہ جیل تحویل میں تحریک انصاف کی حکومت اپنے ہی قیدی پر تشدد کرے گی ۔ اس کے بعد وہ پیر 22اگست تک پمز ہسپتال میں رہے تو سوال یہی ہے کہ شہباز گل پر تشدد آخر کب ہوا تھا تو جناب تحریک انصاف کے ساتھ صرف یہ ہوا تھا کہ ان کے ایک بندے کو گرفتار کیا گیا تھا اور ملک میں حشر اور نشر بپا کر دیا گیا تھا ۔ سوچیں کہ اگر واقعی ان کے ساتھ کچھ غلط ہو تو یہ کیا کچھ نہیں کریں گے ۔

 اب بھی تحریک انصاف کے ساتھ کچھ نہیں ہو رہا اگر عمران خان کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوئی ہے تو کسی اور کے بیان پر نہیں بلکہ اسلام آباد کے جلسہ میں ایڈیشنل جج زیبا چوہدری کا نام لے کر خان صاحب نے جو نازیبا ریمارکس دیئے ہیں تو اس پر کوئی بھی حکومت ہوتی تو اس نے یہی کرنا تھا کیا ہم بھول گئے کہ مسلم لیگ نواز کے طلال چوہدری ، دانیال عزیز اور نہال ہاشمی اسی وجہ سے نا اہل ہو چکے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی نے تو توہین عدالت میں اپنی وزارت عظمیٰ بھی گنوائی تھی اور پانچ سال کے لئے نا اہل ہو کر گھر آ گئے تھے ۔ اس کے علاوہ کوئی بتائے کہ اس حکومت کو آئے چار ماہ سے زیادہ ہو چکے ہیں تو تحریک انصاف کے کتنے کارکنوں اور عہدیداروں کو گرفتار کیا گیا یا ان پر سنگین الزامات کے تحت مقدمات بنائے گئے ۔ ایک اینکر تھے جنھیں عدالت نے رہا کر دیا ۔ گل صاحب سے ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق ایک ریوالور اور ایک سیٹلائٹ فون ان کے پارلیمنٹ لاجز والے کمرے سے برآمد ہوا ہے اور ریوالور کا لائسنس نہ ہونے پر شہباز گل پر غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر مقدمہ کا اندراج کیا گیا ہے ۔دہشت گردی کی ایف آئی آر کے اندراج کے بعد خان صاحب کو راہداری ضمانت مل چکی ہے اور اگر 25تاریخ کو ان کی ضمانت منسوخ ہو گئی تو خان صاحب کو گرفتار کرنا حکومت کی مجبوری ہو گی تو جناب ابھی تو پارٹی شروع بھی نہیں ہوئی اور آپ حواس کھو بیٹھے ہیں جب پارٹی شروع ہو گی تو اس وقت آپ کا کیا بنے گا ۔

مصنف کے بارے میں