2016پاکستانی کھیلوں کے لئے اتار چڑھاو کا سال رہا،متعدد کامیابیاں بھی ملیں

2016پاکستانی کھیلوں کے لئے اتار چڑھاو کا سال رہا،متعدد کامیابیاں بھی ملیں

لاہور:2016پاکستانی کھیلوں کے لیے سخت اتار چڑھاو¿ کا سال رہا، 2016 میں پاکستانی کھیلوں کے لیے ایک مشکل لیکن ایسا سال تھا جب وقتا فوقتا دنیا کے مختلف براعظموں سے پاکستانی کھلاڑی اچھی شہ سرخیوں کی وجہ بنتے رہے۔اس سال پاکستان کرکٹ ٹیم نے پہلی بارٹیسٹ کرکٹ میں ایک بن کرکھیلی جس سے ٹیم کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال ہوئی   پاکستان کا ایک بار پھر ڈنکا بجا لیکن پاکستانی ہاکی کے ستارے گردش سے باہر نہ آسکے ۔


،مقامی سیاست کی وجہ سے فٹ بال کی سیٹی سال بھر نہ بج سکی۔پاکستان نے موسم گرما میں انگلینڈ کے خلاف لندن کے دونوں ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کردی۔ مصباح اینڈ کمپنی کو لارڈز اور اوول پر ملنے والی پذیرائی، اسپاٹ فکسنگ قضیے کے بعد کرکٹ کی عالمی برادری میں پاکستانی ساکھ کی بحالی کا اعلان تھا۔اگست میں بھارت اور ویسٹ انڈیز کا پورٹ آف اسپین ٹیسٹ بارش اور خراب انتظامات کی نذر ہونے پر پاکستان پہلی بار آئی سی سی کی عالمی رینکنگ میں نمبر ایک ملک بن گیا۔

یہ ورلڈ کپ 1992 کے بعد پاکستان کرکٹ میں سب سے بڑی سے خوش خبری تھی۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن نے خود لاہور آ کر پاکستانی کپتان مصباح الحق کو نمبرایک ٹیم کا آئی سی سی گرز پیش کیا۔ 2016 میں بھی پاکستان کی محدود اوورز کی کرکٹ زوال آمادہ رہی۔ بھارت میں آئی سی سی ورلڈ ٹونٹی ٹونٹی اور بنگلہ دیش میں ایشیا ءکپ میں پاکستان کو شرمناک شکست ہوئی جس کے بعد شاہد آفریدی کو برطرف کردیا گیا۔

آفریدی کی جگہ نئے ٹونٹی ٹونٹی کپتان سرفراز احمد نے انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف لگاتارچار میچز جیت کر یہ ثابت کر دیا کہ انہیں قیادت سونپنے میں پی سی بی نے دیر کی تھی۔ آفریدی کی طرح اظہرعلی کو پاکستان کا ون ڈے کپتان برقرار رکھنا پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایک اور غلط چال ثابت ہوئی۔ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کی ایک بے سروپا ٹیم کوامارات میں ضرور کلین سویپ کیا لیکن نیوزی لینڈ اور انگلینڈ میں اسے شکست سے زیادہ سبکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔پاکستان کی جانب سے نوجوان بابر اعظم 656 رنز کے ساتھ سال کے سب سے کامیاب بیٹسمین رہے۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تین لگاتار سنچریوں کی مدد سے 360 رنز بنا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا لیکن سٹار آف دی ایئر پاکستانی ٹیسٹ کپتان مصباح الحق تھے۔

آئی سی سی نے انہیں کھیل کی اقدار کا سب سے بڑا پاسدار قرار دے کر آئی سی سی اسپرٹ آف کرکٹ کا ایوارڈ دیا۔ لارڈز پر مصباح کا سنچری بنا کر پش اپ لگانا سن 2016 کا کرکٹ کی دنیا میں سب سے یادگار لمحہ تھا۔مصباح نے ان فٹ ہونے کے باوجود فروری میں اسلام آباد یونائیٹڈ کو پاکستان سپر لیگ کا دبئی اسٹیڈیم میں اولین چمپئن بنوایا۔ سکوائش کورٹ پر حکمرانی کی طرف قدم پاکستان اگست میں پولینڈ میں مصر کو 1-2 سے ہرا کر آٹھ برس بعد دوبارہ جونیئر سکوائش میں عالمی چمپئن بن گیا۔ اسرار احمد اور عباس شوکت نے پاکستان کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔باکسنگ میںنومبر میں پیشہ ور پاکستانی باکسر محمد وسیم نے عالمی باکسنگ کونسل سلور فلائی ویٹ کا ٹائٹل جیت کر دنیا کو حیران کر دیا۔ وسیم نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ہونے والی باوٹ میں اپنےفلپینی حریف جایمل میگرامو کو 12 راو¿نڈ کے مقابلے میں مات دی۔

پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے دو دھڑوں میں بٹ جانے کے بعد اس سال قومی فٹ بال ٹیم کوئی عالمی ایونٹ نہ کھیل سکی۔ پی ایف ایف کے متنازعہ صدر فیصل صالح حیات کو فیفا کی طرف سے ملنے والی لائف لائن کے بعد بھی انہیں ان کے سرکاری حمایت یافتہ مخالفین نے لاہور میں فٹ بال فیڈریشن کے ہیڈکوارٹرز سے دور رکھا۔رواں برس پاکستان ہاکی ٹیم نے پہلی بار اولمپکس میں شرکت سے محروم رہی اور ریو ڈی جنیرو میں پاکستان کی نمائندگی محض وائلڈ کارڈ ہولڈرز تک محدود رہی۔

پاکستان ہاکی ٹیم نے فروری میں میزبان بھارت کو گوہاٹی میں ہرا کرسال کا آغاز جنوبی ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغے کے ساتھ کیا لیکن اس کے بعد گرین شرٹس کے ستارے پھر گردش میں آگئے۔ اپریل میں سلطان اذلان شاہ کپ میں پاکستان کو آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، بھارت اور ملائشیا سے ہارنے کے بعد سات ممالک میں پانچویں پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا۔پاکستان کے ارسلان قادر 6 گول کے ساتھ چمپئن شپ کے ٹاپ اسکورر رہے۔ اکتوبر میں دفاعی چمپئن پاکستان ہاکی ٹیم نے ایشیائی چمپئن ٹرافی کا ٹائٹل بھی فائنل میں روایتی حریف بھارت سے 2-3 سے ہار کر گنوا دیا۔

دسمبر میں پاک بھارت سرحدی کشیدگی نے پاکستان کی جونیئرہاکی ٹیم کو جونیر عالمی کپ میں شرکت سے محروم رکھا۔سال 2016ءکا دکھ 11اگست کو لٹل ماسٹر حنیف محمد طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ پاکستان کے پہلے ورلڈ کلاس بیٹسمین تھے۔ حنیف کے علاوہ ٹیسٹ امپائر/ٹیسٹ کرکٹر جاوید اختر، مشہور کرکٹ اسکورر عبدالحمید اور ہاکی اولمپئن محمد اخلاق بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔