وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کی والدہ نے اپنے بیٹے کی 67ویں سالگرہ منائی

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کی والدہ نے اپنے بیٹے کی 67ویں سالگرہ منائی

لاہور: وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کی والدہ شمیم اخترنے اپنے بیٹے کی 67ویں سالگرہ منائی اس موقع پر انہوں نے سالگرہ کا کیک کاٹا۔ وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نوازشریف نے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ (ٹوئیٹر)پر سالگرہ کی تصاویرجاری کی ہیں ۔مریم نوازشریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ان کی دادی نے 67ویں سالگرہ پر میاں نوازشریف کو ڈھیروں دعائیں دی ہیں ۔مریم نوازشریف کے مطابق ان کے والد اپنے تمام قریبی عزیزوں کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ایک تصاویر میں نوازشریف اپنی والدہ محترمہ کو سالگرہ کا کیک کھلاتے نظر آرہے ہیں جبکہ دوسری تصاویر میں اپنی اہلیہ خاتون اول کلثوم نوازکے ساتھ اپنی سالگرہ کا کیک کاٹ رہے ہیں ۔ ایک اور تصاویر میں کلثوم نوازمیاںنوازشریف کو کیک کھلاتی نظر آرہی ہیں ۔


مریم نوازشریف نے اپنے ٹویٹر پیغام میں میاں نوازشریف کی اپنے والد میاں محمد شریف کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی تصاویر بھی اپ لوڈ کی ہیں ۔ جس کے بارے میں مریم نوازشریف نے کہا ہے کہ میاں نوازشریف نے اپنے مرحوم والد کی قبر پر حاضری دی اور ان کیلئے دعائے مغفرت کی ۔ اس تصویر میں وزیراعظم کے چھوٹے بھائی کی قبر بھی نمایاں ہے جبکہ تصویر میں وزیراعظم کے بیٹے حسین نوازشریف اور والدہ محترمہ بھی نظر آرہے ہیں۔یاد رہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اتوار کو اپنی 67ویں سالگرہ منائی میاں محمد شریف کے فرزند تین بار وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے والی پاکستان کی پہلی شخصیت ہیں، انہوں نے ضیا الحق کے دور میں سیاست میں قدم رکھا تھا۔میاں محمد نواز شریف کی 67 سالہ زندگی میں 31 سال براہ راست سیاست میں گزرے،انہوں نے سیاست چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ضیا الحق کے دور میں شروع کی۔1985 سے 1990 تک مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ضیا الحق کے دور میں پنجاب کے وزیر خزانہ اور پھر وزیر اعلی بنے، 1990میں پہلی بار ملک کے وزیر اعظم بنے، اس حکومت کا خاتمہ 1993 میں ہوا، مگروہ سیاسی محاذ پر پیچھے نہ ہٹے۔1997 میں ایک بار پھر وزیراعظم بنے.

لاہور اسلام آباد موٹر وے اور ایٹمی دھماکے ان کی عالمی سطح پر پہچان بنے. اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو ہٹانا انہیں مہنگا پڑگیا۔12 اکتوبر 1999 کوفوج نے اقتدار پر قبضہ کیا اور میاں نواز شریف کو جیل جانا پڑا، جس کے بعد انہیں 10 سال کے لیے سعودی عرب ملک بدر کر دیا گیا، وہ 2007 میں وہ وطن واپس آئے، 2008 کے پیپلز پارٹی دور میں نواز شریف نے تحریک چلا کر سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بحال کرانے میں کامیاب ہوئے۔2013 کے عام انتخابات میں تیسری بار ملک کے وزیراعظم بنے، میاں نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بننے والے پہلے سیاستدان ہیں۔