بھارتی جاسوس کلبھوشن کی اہلخانہ سے ملاقات کرا دی گئی

بھارتی جاسوس کلبھوشن کی اہلخانہ سے ملاقات کرا دی گئی

اسلام آباد: پاکستان میں قید بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کی اپنی والدہ اور اہلیہ سے دفتر خارجہ میں ملاقات ختم ہو گئی۔ دفتر خارجہ کے اولڈ بلاکس میں جاسوس کلبھوشن سے اس کے اہلخانہ کی مخصوص کمرے میں ملاقات کرائی گئی جہاں شیشے کے ایک طرف جاسوس کلبھوشن اور دوسری طرف اس کی والدہ اور اہلیہ تھیں۔ کلبھوشن نے اپنے اہلخانہ سے انٹرکوم کے ذریعے بات چیت کی جب کہ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ملاقات 40 منٹ تک جاری رہی۔

 

جاسوس کلبھوشن کی والدہ، اہلیہ اور بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ ایک بجکر 25 منٹ پر دفتر خارجہ پہنچے۔ جس کے بعد انہیں قیام گاہ میں بٹھایا گیا اور مکمل سیکیورٹی چیکنگ کے بعد انہیں 2 بجکر 18 منٹ پر مخصوص کمرے میں لے جایا گیا جہاں جاسوس کلبھوشن یادیو پہلے سے موجود تھا۔

 

اس موقع پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ اور دفتر خارجہ کی ڈائریکٹر انڈیا ڈیسک ڈاکٹر فاریحہ بھی موجود تھیں۔

 

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق کلبھوشن یادیو سے اہلیہ اور والدہ کی ملاقات کا دورانیہ 30 منٹ ہو گا تاہم ملاقات 30 منٹ سے زائد وقت تک جاری رہی۔

کلبھوشن یادیو کی والدہ اور اہلیہ ملاقات کیلئے آج اسلام آباد پہنچیں تھیں۔ بھارتی دہشتگرد کلبھوشن یادیو کی والدہ ایوانتی یادیو اور اہلیہ چیتنا یادیو نجی ایئر لائن کی پرواز ای کے 612 کے ذریعے 45 منٹ تاخیر کے ساتھ 11 بج کر 35 منٹ پر دبئی سے اسلام آباد پہنچیں۔ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ بھی ان کے ہمراہ تھے۔

بینظیر انٹرنیشنل ائرپورٹ سے بھارتی جاسوس کے اہلخانہ سخت سیکورٹی حصار میں 12 بج کر 2 منٹ پر دفترخارجہ کیلئے روانہ ہوئے تاہم انہیں پہلے بھارتی ہائی کمیشن پہنچایا گیا۔ 12 بج کر 24 منٹ پر بھارتی ہائی کمیشن پہنچنے کے بعد کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کی بھارتی ہائی کمیشن سے ملاقات ہوئی۔ ذرائع کے مطابق کلبھوشن کے اہلخانہ کو بریفنگ کے ساتھ ساتھ مخصوص سوالات بھی بتائے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اجازت کے باوجود بھارت نے اپنے میڈیا کو کوریج اور کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کو میڈیا سے گفتگو سے روک دیا ہے۔ ملاقات کے بعد دفتر خارجہ کی جانب سے میڈیا کو بریفنگ دی جائے گی۔ کلبھوشن یادیو کے چیتنا سے 2 بچے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کافی عرصے سے میاں بیوی کے درمیان اختلافات تھے اور علیحدگی کی اطلاعات بھی ہیں۔

 

 

 ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے ٹوئٹر پیغام میں بتایا ہے کہ ملاقات میں موجود بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ مجرم سے کوئی بات نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی انہیں کسی سوال و جواب کی اجازت ہو گی۔ بھارت پر ملاقات کے بارے میں طریقہ کار واضح کر دیا گیا ہے۔

بھارت نے ملاقات کے لئے آنیوالی دونوں خواتین کی ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرانے سے انکار کر دیا ہے جو پاکستان نے مان لیا ہے تاہم بھارت کے اس ملاقات سے متعلق تین مطالبے مسترد کر دیئے گئے ہیں۔ کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ ملاقات کے بعد آج ہی واپس بھارت روانہ ہو جائیں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے یہ ملاقات خالصتاً انسانی بنیادوں پر کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور کلبھوشن یادیو نے خود اپنی اہلیہ سے ملاقات کی خواہش کی تھی۔

 

واضح رہے کہ کلبھوشن یادیو کو پاکستانی فورسز نے جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا تھا اور اس کے قبضے سے حساس مقامات کی تصویریں، اہم دستاویزات برآمد ہوئی تھیں۔ کلبھوشن یادیو بھارتی نیوی میں بھی ملازمت کرتا رہا ہے۔ کلبھوشن یادیو نے 1987 میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی جوائن کی اور 1991 میں بھارتی نیوی میں بحیثیت کمیشن افسر ملازمت کی۔ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہونے کے بعد را کیلئے بھارت میں ہی جاسوسی کے فرائض انجام دیئے۔

کلبھوشن یادیو گرفتاری کے وقت بھی بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر تھا اور اس کی 2022 میں بطور کمیشن افسر ہی ریٹائرمنٹ ہونا تھی۔ کلبھوشن یادیو نے 2013 میں را میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد بلوچستان، کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے اور علیحدگی کی تحریکیں چلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ اس کی پاکستان آمد کا مقصد بلوچستان اور کراچی میں علیحدگی کی تحریکوں کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں قتل و غارت گری بھی کرنا تھا۔

 

بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کرلیا تھا کہ کہ انھیں را کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

 

کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی فوجی عدالت نے رواں سال اپریل میں دہشت گردی اور جاسوسی کے جرائم میں سزائے موت سنا دی تھی جس کی توثیق پاک فوج کے سربراہ نے کی تھی۔

 

رواں برس 10 مئی کو بھارت نے ’را‘ کے جاسوس کو سزائے موت سنانے کا معاملہ عالمی عدالت انصاف آئی سی جے میں لے جانے کا فیصلہ کیا اور عالمی عدالت سے اس کیس کو ہنگامی نوعیت کا قرار دے کر اس پر فوری سماعت کے لیے درخواست کی۔

 

بعدِ ازاں 18 مئی کو آئی سی جے نے بھارت کی اپیل پر عبوری فیصلہ سنایا اور حکم امتناع جاری کرتے ہوئے پاکستان کو ہدایت کی کہ اس کیس میں عبوری فیصلہ آنے تک کلبھوشن کی سزائے موت پر عمل درآمد سے روک دیا جائے جبکہ یہ کیس عالمی عدالت میں اب بھی زیر التوا ہے۔

 

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں