فاٹا کے انضمام پر کسی کی ذاتی رائے کی بجائے ملک کے وقار کو دیکھا جائے : مولانا فضل الرحمن


ڈیرہ:جے یو آئی ایف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ فاٹا کے انضمام کے معاملے پر کسی کی ذاتی رائے اورپسند وناپسند کی بجائے قبائل کے بہتر اور تابناک مستقبل کو بنیاد بنا کر کیے جانے والے فیصلے سے ہی ملک کا وقار وابسطہ ہے ۔ہمیں کسی بھی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے یہ ضرور دیکھنا ہوگا کہ قبائلی کیا چاہتے ہیں اور ان کے مفاد میں کیا بہتر ہے ۔


ایک بیان میں انہوںنے کہا کہ جلدبازی اور تمام ترآئینی رکاوٹیں پھلانگنا معقول عمل نہیں کہلائے گا بلکہ طریقے اور سلیقے سے اس عمل کو انجام دیا جائے ۔ فاٹا میں اگر کسی حدتک انضمام کو حمایت حاصل ہے توا س سے بڑھ کر مخالفت بھی موجود ہے جبکہ فاٹا کے اندر الگ صوبے اور پرانا نظام جاری رکھنے کی تحریک بھی ہے اس لئے جمہوری طریقہ اپناتے ہوئے فیصلہ کیا جائے ۔بعد ازاں تین سو زائد قبائلی عمائدین کے جرگہ نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی اور انہیں اپنے موقف سے آگاہ کیا ۔


مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جبر اور زبردستی کی بجائے جمہوری طریقہ استعمال کیا جائے ہم اس معاملے میں فاٹا سپریم کونسل کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں ۔ مولانا نے اس موقع پرکہا کہ ہم اس ملک کے مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔انہوں نے فاٹا کے مسئلہ کو سیاسی مسئلہ کی بجائے سٹریٹجیک مسئلہ قراردیا۔انہوں نے کہا کہ قبائلیوں کو ڈرایا جارہا ہے کہ امریکہ ڈرون حملے کرے گا اس لئے فاٹا کے مسئلہ کو جلد حل کیا جائے ۔عالمی دبائو میں آکر جلد بازی کے فیصلے صیحیح نہیں ہوں گے جس طرح نائن الیون کے بعد فیصلے کیے گئے جس کے نتائج اچھے نہیں نکلے ۔