امریکی والدین نے شمالی کوریا پر پانچ سو ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کر دیا

امریکی والدین نے شمالی کوریا پر پانچ سو ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کر دیا
image by facebook

نیویارک : امریکی والدین نے اپنے بچے کی ہلاکت پر شمالی کوریا کے خلاف پانچ سو ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کر دیا ہے۔


تفصیلات کے مطابق امریکی یونیورسٹی سنڈی وارمبیئر کا طالب علم جو کہ مارچ دو ہزار سولہ میں کالج ٹوور پر اپنے دوستوں کے ساتھ شمالی کوریا گیا تھا لیکن وہاں اسے متنازع سیاسی پوسٹر چوری کرنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

حراست کے دوران امریکی طالب علم کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا اور متنازع پوسٹر چوری کرنے کے حوالے سے حقائق جاننے کے لیے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے شدید دباو اور تشدد کیا گیا جس سے اس کی حالت بگڑ گئی تھی ۔

ایک سال کے عرصے کے بعد شمالی کوریا نے امریکی طالب علم کو جون دو ہزار سترہ میں امریکہ کے حوالے کر دیا تھا اور اس وقت اس کی جسمانی حالت انتہائی خراب تھی ، طالب علم کو فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ کومہ میں جانے کے بعد زندگی کی بازی ہار گیا ۔

طالب علم کے والدین نے شمالی کوریا کے اس ظالمانہ رویے کے خلاف امریکی عدالت میں پانچ سو ملین ڈالر ہرجانے کی اپیل دائر کی تھی جس کو عدالت نے منظور کرتے ہوئے شمالی کوریا حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ طالب علم کی ہلاکت پر امریکی والدین کو پانچ سو ملین ڈالر کی خطیر رقم فراہم کریں ۔