آسکر پانے والی ماضی کی چند یادگار فلمیں !

آسکر پانے والی ماضی کی چند یادگار فلمیں !

لاہور:آسکر ایوارڈ کو فلمی دنیا کا بہترین ایوارڈ کہا جاتا ہے اور ہر فلم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ آسکر کے معیار تک پہنچ سکے ۔لیکن کئی فلمیں اس دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں اور کچھ اپنا نام امر کر جاتی ہیں۔آسکر ایوارڈ ہمیشہ ہی مستحق فلموں کو نظر انداز کرنے کے حوالے سے تنقید کا نشانہ رہا ہے لیکن جناب کچھ ایسی شہرہ آفاق فلمیں بھی ہیں جو واقع ہی اس ایوارڈ کی مستحق تھیں اور ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔


دی اپارٹمنٹ(1960)

اس فلم کو مختلف 10شعبوں میں نامزد کیا گیا تھا جس میں سے فلم نے پانچ آسکرز اپنے نام کر لیے جن میں بہترین فلم کا یوارڈ بھی تھا۔فلم ایک ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے جو اپنا اپارٹمنٹ اپنی کمپنی کے ایگزیکٹو کو کرائے پر دیتا ہے۔

لارنس آف دی عریبیہ(1962)

بہت محدود تکنیکی سہولیات کے ساتھ اُس دور میں اس فلم میںایسے مناظر پیش کیے گئے کہ دیکھنے والے دیوانے ہو گئے۔لارنس آف دی عریبیہ کو آج بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔

دی گاڈ فادر(1972)

لاطینی امریکہ میں جرائم کے موضوع پر بنی یہ فلم بہترین فلموں میں شمار کی جاتی ہے جس میں ہر منظر پہلے سے بڑھ کر تھا جسے شائقین نے بے حد پسند کیا۔

ون فلیو اوور دی کوکُوز نیسٹ(1975)

سنجیدہ موضوع پر مبنی یہ فلم کین کیسی کے ناول پر مبنی تھی اور بہترین فلم کا ایوارڈ حاصل کیا ۔کہا یہ جاتا ہے کہ کین کو اپنے ناول پر فلم بنانے کا آئیڈیا اچھا نہیں لگا تھا۔

عینی ہال(1977)

کامیڈی فلم عینی ہال نے بھی بہترین فلم کا ایوارڈ پایا حالانکہ کامیڈی فلموں کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ ان کو آسکر کے لیے زیادہ سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔