پاکستان میں دہشتگردی کم ہوئی ہے ختم نہیں: نثار

پاکستان میں دہشتگردی کم ہوئی ہے ختم نہیں: نثار

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے میڈیا کا تعاون چاہتے ہیں۔ میڈیا عوام کو متحرک اور پرعزم کرے۔ ملکی استحکام کے لیے دہشت گردی کی تشہیر روکنا ضروری ہے۔ اے پی ایس واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا تھا۔ ساڑھے تین سال میں سکیورٹی میں بہتری آئی اور نیشنل ایکشن پلان کا ون پوائنٹ ایجنڈ اہے۔ خوف کی فضا پیدا کرنے سے عوام خوفزدہ ہوتے ہیں۔ مایوسی اور خوف کے بادل نزدیک نہ آنے دیں۔


چودھری نثار نے کہا کیا گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے یا نہیں۔ دہشت گرد تنظمیوں اور ان کے نمائندوں کو مکمل بلیک لسٹ کرنا ہے۔ دہشت گردی کم ہوئی ہے ختم نہیں۔ پاکستان میں بہتر سکیورٹی صورتحال کا اعتراف پوری دنیا نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہزاروں کی تعداد میں افغانی بغیر دستاویزات کے پاکستان میں داخل ہوئے۔ ہمیں نہ کریڈٹ لینا ہے اورنہ ہی کسی کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔ ہماری حکومت سے پہلے یومیہ چالیس ہزار افراد افغانستان سے پاکستان آ رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا صوبوں کو کئی بار سکیورٹی الرٹس بھیجیں کہ دہشت گردی کے واقعات ہو سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات پر سیاست کرنا گناہ عظیم ہے۔ سیہوں شریف درگارہ کے واک تھرو گیٹ بھی خراب تھے۔ میں نے بطور وزیر داخلہ کسی پر تنقید نہیں کی۔ چیف سیکرٹری سندھ کے پاس سکیورٹی کے حوالے سے کوئی جواب نہ تھا۔ سیہون کی سیکیورٹٰی کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہی تھی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں