تھکن کا شکار نوجوان جلد جرائم کو طرف راغب ہوتے ہیں، تحقیق

پنسلوانیا: نوجوانوں میں تھکن کا احساس سستی کی علامت ہے مگر ایک تحقیق کے مطابق ہر وقت تھکن کا شکار رہنے والے نوجوانوں میں سماج مخالف رویہ زیادہ پایا جاتا ہے اور وہ متشدد جرائم کا ارتکاب کرنے میں دوسروں سے کہیں آگے ہوتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کم سماجی واقتصادی حیثیت بھی نوجوانوں میں جرائم کی کشش پیدا کرتی ہے جبکہ سستی اور کاہلی بھی جرائم پر اکسانے کا بڑا سبب ہے۔

تھکن کا شکار نوجوان جلد جرائم کو طرف راغب ہوتے ہیں، تحقیق

پنسلوانیا: نوجوانوں میں تھکن کا احساس سستی کی علامت ہے مگر ایک تحقیق کے مطابق ہر وقت تھکن کا شکار رہنے والے نوجوانوں میں سماج مخالف رویہ زیادہ پایا جاتا ہے اور وہ متشدد جرائم کا ارتکاب کرنے میں دوسروں سے کہیں آگے ہوتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کم سماجی واقتصادی حیثیت بھی نوجوانوں میں جرائم کی کشش پیدا کرتی ہے جبکہ سستی اور کاہلی بھی جرائم پر اکسانے کا بڑا سبب ہے۔


کئی سابقہ تحقیقات میں زیادہ سونے کے نقصانات بتائے گئے ہیں مگر اس نئی تحقیق کا مقصد سستی،کاہلی کے جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ لینا ہے۔

یونورسٹی آف پنسلوانیا سے تعلق رکھنے والی پروفیسر رینا کا کہنا ہے کہ تھکن،سستی اور کاہلی کا شکار نوجوانوں میں جرائم کا ارتکاب کرنے کے امکانات عام انسانوں کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی سستی وکاہلی کی وجہ سے کوئی تعمیری کام انجام دینے کے قابل نہیں ہوتے۔

ایسے نوجوان اچانک ڈھیر ساری دولت سمیٹنا چاہتے ہیں،وہ زیادہ بھاگ دوڑ پسند نہیں کرتے اور اسی لئے دولت کمانے کے لئے شارٹ کٹ کا ستعمال کرنا چاہتے ہیں تا کہ کم وقت میں زیادہ پیسہ کما کر آرام سے بیٹھ کر کھائیں اور کوئی انہیں ڈسٹرب نہ کرے۔ریسرچ کے مطابق ہر وقت غنودگی طاری رہنا جرائم پر اکساتا ہے،نوجوانوں میں سستی و کاہلی ویسے بھی تشویشناک ہے کیونکہ یہ عمر تھکن کی نہیں ہوتی۔