آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم میں 3 سال بعد بھی لوگوں کو مکان نہیں ملے،نیب کا احد چیمہ کی گرفتاری پر ردعمل

لاہور:نیب نے احد چیمہ کو گرفتار کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے پنجاب حکومت کے الزامات کا جواب دیا ہے کہ آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم 3 سال بعد بھی مکمل نا ہوا اورسابق ڈی جی ایل ڈی اے نے کروڑوں روپے کے اثاثے بنائے۔

ذرائع کے مطابق نیب نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم میں 3 سال بعد بھی لوگوں کو مکان نہیں ملے،احد چیمہ نے بطور ڈی جی ایل ڈی اے اپنے اختیارات کاناجائزاستعمال کیا، آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم کے ٹھیکے کی دستاویزات غیر قانونی طور پر حاصل کیں اورمنصوبے کے ٹھیکوں میں بھی خوردبرد اور غیر قانونی طریقوں کا استعمال کیا گیا۔

نیب نے مزید بتایا کہ 61ہزار غریبوں نے سکیم کے تحت 60سوملین روپے ادا کیے اورانہیں ملا کچھ بھی نہیں،احد چیمہ نے 14ارب روپے مالیت کا آشیانہ اقبال کا ٹھیکہ کاسا ڈویلپرز کو دے دیا،کاسا ڈویلپرز،بسم اللہ انجینئرنگ سروسز کمپنی، سپارکو کنسٹرکشن کمپنی اور چائنہ فرسٹ میٹالرجیکل گروپ لمیٹڈ کے مشترکہ اداروں پر مشتمل ہے۔

مشترکہ کاسا ڈویلپرز کمپنی میں سی 4 کلاس کی کمپنی بسم اللہ انجینئرنگ کمپنی کو ٹھیکے کا 90فیصد حصہ دیدیا گیاجو پاکستان انجینئرنگ کونسل کے تحت ٹھیکے میں شمولیت کے قابل ہی نہ تھی۔

دوسری جانب سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ آشیانہ اقبال سکیم میں نجی شعبے نے سرمایہ کاری کرنا تھی، اس لیے حکومت کو کوئی مالی نقصان نہیں ہوا،احد چیمہ کی گرفتاری بلاجواز اور الزامات درست نہیں۔