دنیا کا نیا شہنشاہ 'وائٹ ہاؤس کا تخت طاؤس اور نیو ورلڈ آرڈر

دنیا کا نیا شہنشاہ 'وائٹ ہاؤس کا تخت طاؤس اور نیو ورلڈ آرڈر

ایک طرف لاکھوں افراد اس کے خلاف مظاہروں میں شریک ہیں اور دنیا کی سب سے باوسائل اور طاقتور انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے اس کے خلاف روسی مدد کی چارج شیٹ دے جکی ہے جو امریکی تاریخ کا بے حد منفرد اور انوکھا واقعہ ہے اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ اس دنیا کے نئے شہنشاہ کی حیثیت سے وائٹ ہاؤس کے تخت طاؤس پر رونق افروز ہو کر نیا ورلڈ آرڈر لکھنے کے لئے تیار ہیں۔


یہ یقینی طور پر ایک غیر متوقع فتح تھی لیکن ایک شخص اس کامیابی کے لئے انتہائی پرامید تھا اور وہ تھا ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا نیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ،

‎اس طرح امریکہ کی تاریخ میں ایک نیا اور‎حیرت انگیز باب لکھا گیا۔ ایک شخص جسے حکومت کا کسی شکل میں کوئی تجربہ نہ ہو اور کبھی کسی منتخب عہدے پر نہیں رہا ہو وہ امریکہ کا نیا صدر ہے۔ اس نے اپنے ناقدوں اور مخالفین کو چپ کرا دیا ہے۔

ٹرمپ کی کامیابی کی خبر سن کر دنیا بھر کے مبصرین بھونچکے رہ گئے

سٹاک ماکیٹوں پر یہ خبر گویا نائیٹروجن بم بن کے گری اربوں ڈوب گئے۔دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے سربراہ کے طور ٹرمپ زبردست قوت کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں داخل ہوئے ہیں جہاں صدارت، رپبلیکن سینٹ اور رپبلیکن کے زیر کنٹرول ایوان نمائندگان کی ہوگی۔

‎اور ٹرمپ وہ سب کچھ کر سکیں گے جو اوباما چاہنے کی باوجود نہیں کر سکے ایک نیا امریکہ جنم لے چکا ہے جو اب روائتی امریکی سیاست کو مسترد کر کے نئے فیصلے کرنے کے لئے نئی دنیا بنانے چلا ہے اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ امریکی ادارے بہت مضبوط ہیں وہاں ایک شخص خواہ وہ امریکی صدر ہی کیوں نہ ہو اپنی من مانی نہیں کر سکتا لیکن یاد رہے وائیٹ ہاؤس کا مکین اب ایک مختلف شخص ہے جس نے روائتی امریکی سیاست کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے، اس کے پاس اپنے وعدے پورےکرنے کے مواقع ہیں۔ وہ اپنے نامزد شخص سے سپریم کورٹ کی خالی جگہ کو پر کرے گا۔ ٹرمپ کو اس ڈیڈ لاک کا شکار نہیں ہونا پڑے کا جس کا صدر براک اوباما کو سامنا تھا۔

ٹرمپ نے انتخابی ریلیوں کے دوران پہلے مسلمانوں کی امریکہ آمد پر پابندی کی بات کی

   مگر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کے بعد انھیں اپنا موقف تبدیل کرنا پڑا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقلتیوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف بیان نے مسلمان ووٹروں کو ناراض کیا مگر بعض پاکستانی نژاد امریکی ووٹرز نے ان کی حمائت بھی کی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی اور کہا کہ

میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان دوستانہ ماحول دیکھنا چاہتا ہوںکیوں کہ یہ معاملہ بہت گرم ہے،

اگر دونوں ملک دوستانہ ماحول میں ساتھ رہیں تو یہ بہت اچھا ہوگا اور مجھے امید ہے کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار انہوں نے مسئلہ  کشمیر سے بھی کیا۔ گو کہ ان کی کامیابی پر انڈیا میں جشن کا سا سماں ہے لیکن پاکستان کے ساتھ آنےُوالے دنوں میں امریکہ کے تعلقات میں بہتری آئے گی کیونکہ آنے والا وقت بہت اہمیت کا حامل ہے امریکہ خطے میں چین کے بڑھتےاثر پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات امریکہ کے اپنے مفاد میں ہیں ماضی کو دیکھا جائے تو عموماً ری پبلکن دور صدارت میں پاکستان کو فائدہ ہوا ہے جبکہ ڈیموکریٹس کے دور میں پاک امریکا تعلقات کھچاؤ کا شکار رہےگو ٹرمپ کو ان کے پالیسی بیانات کے باعث دنیا بھر کے لیے 'خطرہ' قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ اپنے بیانات سے قطع نظر ٹرمپ پاکستان کے لیے کسی حقیقی خطرے کا باعث نہیں ہو سکتے۔بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکا میں حکومتی تبدیلی بالواسطہ طور سے پاکستان پر کچھ اثرات ضرور مرتب کر سکتی ہے۔ چنانچہ آنے والے دنوں میں پاک بھارت تعلقات اور پاک بھارت افغان تعلقات میں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔بلاشبہ یہ سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ ہے۔

‎ڈونلڈ ٹرمپ وہ امیدوار ہیں جن کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں تھا، جنھوں نے ’قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی، جنھوں نے رائے عامہ کے جائزوں اور تمام پیشن گوئیوں کو غلط ثابت کر دیا۔

ٹرمپ کی صدارت پر پاکستان یا دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت خود امریکیوں کو زیادہ تشویش ہے کیونکہ ان کے خیال میں امریکی قومی سلامتی کے بارے میں ٹرمپ کی پوزیشن مبہم ہے۔ امریکی یہ سوچتے ہیں کہ ٹرمپ کو صرف مضبوط اداروں کی مدد سے اپنے عجیب و غریب خیالات پر عملدرآمد سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔اگر یہ کہا جائے تو بےجا نہیں ہو گا کہ ٹرمپ کی صدارتی مہم نے امریکہ کا سیاسی اور سماجی نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا اور ٹرمپ کی کامیابی امریکی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے جس کی بازگشت سالوں تک سنائی دیتی رہے گی۔ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو انھیں امریکہ کے لیے 'باعث شرم' قرار دے رہے ہیں،

دوسری جانب ٹرمپ کے کروڑوں ووٹرز سمجھتے ہیں کہ وہ امریکہ کو پھر سے عظیم طاقت بنانے کی 'آخری امید' ہیں۔

ٹرمپ نے امریکہ کے مزدوروں کے غصے کو پہچانا جن کا خیال تھا کہ ملک غلط سمت میں جارہا ہے، امیگریشن کے متعلق لوگوں کے خدشات کو پہچانااور یہ بھی پہچانا کہ تجارتی معاہدوں سے امریکہ کے محنت کش مزدوروں کو نقصان پہنچا ہےانھوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ امریکہ بہت تیزی کے ساتھ بدل رہا ہے اور واشنگٹن میں بیٹھے سیاست داں اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ٹرمپ کا انداز سیاست اور انکے اندازے کامیاب رہے اور وہ وائٹ ہاوس کے مکیں بن کر دنیا پر حکومت کرنے

اپنے مرضی کے فیصلے کرنے کے لئے آزاد ہیں۔

      صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر پچاس کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ

ممتاز صحافی،محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں     

 نوٹ: بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں