لیڈر آف اپوزیشن ایوان میں نہیں آئے گا تو لیڈر آف ہاؤس بھی نہیں آئے گا :ن لیگ

لیڈر آف اپوزیشن ایوان میں نہیں آئے گا تو لیڈر آف ہاؤس بھی نہیں آئے گا :ن لیگ
نیو نیوز سکرین گریب

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی نعیم الحق کی جانب سے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کے بارے ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے سخت مذمت کی گئی اور شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن ایوان میں نہیں آئے گا تو لیڈر آف ہاؤس بھی نہیں آئے گا ،وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے اپوزیشن لیڈر کو دھمکیاں دیں ، ایسا تاریخ میں نہیں ہوا جبکہ خواجہ آصف نے کہا کہ ڈی چوک گواہ ہے یہ لوگ کیسی زبان استعمال کرتے رہے،وزیر اعظم گالیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں،اگر دھمکیاں دیں تو نہیں چل سکے گا ۔


تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ حکومت نے بجٹ پیش کیا اوربحث کرائے بغیراجلاس ملتوی کردیا،منی بجٹ سے کوئی بزنس نہیں بڑھے گا ، منی بجٹ میں عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں دیاگیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیاگیا تو یہ بات پہلے سے طے شدہ تھی،دوڑ لگی ہوئی ہے کہ جو بڑی اور زیادہ گالی دے اسکو بڑے عہدے ملیں گے،وزیراعظم کوایمنسٹی سکیم سے متعلق اپنی بہن کیلیے احکامات دینے کی ضرورت نہیں تھی،وزیراعظم گالیاں دینے کو پروموٹ کررہے ہیں ۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نعیم الحق کے ٹویٹ میں اپوزیشن کو دھمکی دی گئی،ملک کے وزیر اعظم اپوزیشن لیڈر کو دھمکیاں دے رہے ہیں،اگر لیڈر آف اپوزیشن اسمبلی نہیں آئے گا تو قائد ایوان بھی اسمبلی نہیں آئیں گے،آج حکومت والے خود پارلیمنٹ اور اپوزیشن کو دھمکیاں دے رہے ہیں ۔

جائیدادیں نکلنا شروع ہو چکی ہیں،اب منی ٹریل اور رسیدیں بھی مانگی جائیں گی،یہ معاملہ آج ایوان میں اٹھانا چاہتے تھے لیکن اسپیکر نے اجازت نہیں دی،ملک کا وزیراعظم پارلیمنٹ کو نہتا کررہاہے،اس طرح کے معاملے پاکستان کی تاریخ میں نہیں رہے،ہم نے سپیکر سے کہا کہ آپ ہاؤس کے کسٹوڈین ہیں،سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے،ہم نے اپنی شکایت اسپیکر چیمبر میں جاکر پیش کردی ہے جبکہ سپیکر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے کو دیکھیں گے،وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے تین ٹویٹ کیے اور دھمکیاں دیں،بدقسمتی سے حکومتی بنچز سے اجازت دی گئی کہ ٹیکس چور ہائیکورٹ کا جج بن سکتاہے،اس ایوان میں حکومت کا رویہ سب کے سامنے ہے۔

سابق وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ ٹویٹ کرنےوالے کی اپنی کوئی حیثیت نہیں،پی ٹی آئی کی روایت ہے کہ گالی دو مشہور بنو،اگر پارلیمنٹ میں انہوں نے یہی ماحول رکھنا ہے تو ٹھیک ہے،اگر یہ اس طرح دھمکیاں دیں گے تو ایسا نہیں چلے گا،ابھی تو 6 ماہ گزرے ہیں،ہم نہیں چاہتے کہ پارلیمنٹ عوام کے سامنے مذاق بنے۔خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے 5 سال انھوں نے اسمبلی کے اندر اور باہر کیا کیا سب کو معلوم ہے،6 ماہ بعد وزیر اعظم آئے اور ناراض ہو کر چلے گئے،ہم تو تلاش گمشدہ کا اشتہار دے رہے تھے،وزیر اعظم اچانک ایوان میں آ گئے،ہم چاہتے ہیں پارلیمنٹ کی توقیر ہو اورہم تو بجٹ کے دوران اپنی جگہ سے نہیں ہلے۔