بھارتی اور چینی افواج ایک بار پھر آمنے سامنے، متعدد فوجی زخمی

بھارتی اور چینی افواج ایک بار پھر آمنے سامنے، متعدد فوجی زخمی
کیپشن:    بھارتی اور چینی افواج ایک بار پھر آمنے سامنے، متعدد فوجی زخمی سورس:   فوٹو/بشکریہ رائٹرز

بیجنگ: بھارت اور چینی فوجیوں کے درمیان ایک مرتبہ پھر جھڑپ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں متعدد فوجی زخمی ہو گئے۔ شمالی سکم کی سرحد پر ہونے والی جھڑپ میں دونوں فریقین کے متعدد فوجی زخمی ہوگئے۔ واقعہ ریاست سکم کے نکولا پاس میں گزشتہ ہفتے کے روز پیش آیا تھا۔ ہندوستانی فوجی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقین کے فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

بھارتی فوج نے چین کے ساتھ ریاست سکم میں نکولا پاس کے قریب ہونے والے حالیہ تنازع کو معمولی قررا دیا۔ بھارتی فوج کی جانب سے یہ مختصر بیان میں کہا گیا کہ پہلے سے طے شہد پروٹوکولز کے تحت مقامی کمانڈرز نے معاملہ حل کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق گشت پر مامور چینی فوجیوں سے جھڑپ میں چار بھارتی فوجی زخمی ہوئے۔ انہوں نے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کو نامعلوم حد تک نقصان پہنچایا ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شمالی سکم کے علاقے ناکولا میں دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان تصادم ہوا جس میں کئی فوجی زخمی ہوئے۔ رپورٹس میں دعوی کیا گیا کہ صورتحال اب مکمل طور پر کنٹرول ہے اور دونوں ملکوں کی افواج کے اعلی حکام اعلی سطحی مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

اس سے قبل بھی دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان آخری تصادم اسی مقام پر 9 مئی کو ہوا جس میں دونوں فریقین کے مجموعی طور پر 150 فوجی آپس میں گتھم گتھا ہو گئے تھے اور نتیجتا متعدد فوجی زخمی ہوئے تھے۔ مذکورہ واقعے سے چند دن قبل 5 مئی 2020 کو مشرقی لداخ میں دونوں ملکوں کے درمیان خطرناک تصادم میں 250 فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔

ایٹمی طاقت سے لیس دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے فوجی بحران جاری ہے جس میں حالیہ کچھ عرصے میں شدت آئی ہے اور مغربی ہمالیہ میں گزشتہ سال جون میں دونوں فوجوں کے درمیان ہونے والے غیرمسلح تصادم میں 20 بھارتی فوجیوں کے ساتھ ساتھ نامعلوم تعداد میں چینی فوجی بھی مارے گئے تھے۔

اس حادثے کے بعد دونوں فریقین نے معاملات میں بہتری کے لیے مذاکرات شروع کیے تھے اور کہا تھا کہ وہ سرحد پر صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے راہیں تلاش کررہے ہیں لیکن بات چیت کے نتیجے میں بہت کم پیشرفت ہوئی ہے اور دونوں فریقوں نے شدید سردی کے باوجود علاقے میں بھاری نفری تعینات کر رکھی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت اور چین اپنے تقریبا 3500 کلومیٹر طویل سرحد پر اتفاق نہیں کر سکے ہیں اور اس کے لیے 1962 میں دونوں کے درمیان جنگ بھی ہوئی تھی تاہم نصف صدی کے دوران گزشتہ موسم گرما میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی انتہائی عروج پر پہنچ گئی تھی۔