اسلام آباد:کاالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کے آبائی گاؤں میں پہلی بار پرامن طریقے سے انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔

افغان جنگ اور 2002 کے عام انتخابات کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ حکیم اللہ محسود کے آبائی گاؤں مرغی بند میں 25 جولائی 2018 کو ووٹ کاسٹ کیے گئے , یہ علاقہ پاکستان کے شورش زدہ علاقے جنوبی وزیرستان کے شہر جندولا کے قریب واقع ہے، جہاں ڈیڑھ دہائی قبل سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی خراب تھی۔

یہ بھی پڑھیئے:عمران خان کھلے عام ووٹ ڈالنے پر پھر طلب
 
 مگر 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں یہاں پولنگ کا انعقاد کیا گیا اور لوگوں نے بلا خوف و خطر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا (وی او اے) کی خاتون صحافی عائشہ تنظیم نے اس گاؤں کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں 2002 کے انتخابات کے بعد ہونے والے 2008 اور 2013 کے انتخابات میں پولنگ کا انعقاد نہیں کیا گیا تھا۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد کئی لوگوں نے علاقے کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا , ایک شخص کا کہنا تھا کہ علاقے میں مجموعی طور پر 136 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں , ایک صارف نے مرغی بند میں پہلی بار پولنگ کے انعقاد پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا، کیوں کہ پاک فوج کی وجہ سے وہاں امن قائم ہوا۔

یہ بھی پڑھیئے:پولنگ کے وقت میں اضافے کا مطالبہ مسترد
 
 
خیال رہے کہ حکیم اللہ محسود 2013 میں ایک ڈرون حملے کے دوران ہلاک ہوگئے تھے , رپورٹس کے مطابق ان کا اصل نام ذوالفقار تھا اور حکیم اللہ ان کا فرضی نام تھا۔

کاالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے امیر بننے سے قبل حکیم اللہ، تحریک طالبان پاکستان کے سابق امیر اور اپنے پیشرو بیت اللہ محسود کے محافظ تھے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے انتہائی ساتھی بن گئے۔

وہ امیر بننے سے قبل بیت اللہ محسود کے ترجمان بھی تھے اور اگست 2009 میں کیے گئے ڈرون حملے میں بیت اللہ کی ہلاکت کے بعد کالعدم تنظیم کے سربراہ مقرر ہوئے۔

تحریک طالبان کے سربراہ نے ابتدائی تعلیم ضلع ہنگو کے ایک گاؤں میں واقع مدرسے سے حاصل کی تاہم ان کو طالبان میں اصل شہرت 2007 میں 300 پاکستانی فوجیوں کو اغوا کرنے کے بعد حاصل ہوئی تھی۔