اقتدار کی جنگ کب ختم ہو گی؟

اقتدار کی جنگ کب ختم ہو گی؟

دنیا چاند پر پہنچ گئی اور اس ملک کے وفادار کہلائے جانے والے سیاستدانوں کی اقتدار کی جنگ ختم نہیں ہو رہی۔ اپوزیشن میں بیٹھنا کوئی پسند نہیں کرتا اور اقتدار کی کرسی پر براجمان ہو کر کوئی کام کرنا پسند نہیں کرتا۔ میں اپنے ملک کے وفادار کہلائے جانے والے سیاستدانوں کی توجہ اس خبر کی جانب مرکوز کرانا چاہتی ہوں جو کہ چند روز پہلے آئی

Just Above Afghanistan and Iraq,Pakistani Passport is Fourth-Worst in the World.

تو جناب دیکھئے کہ آج ہم کدھر کھڑے ہیں اس وقت دنیا میں کوئی بھی ملک پاکستانی پاسپورٹ دیکھ کر بآسانی ناک منہ چڑھائی بغیر ویزہ دینا پسند نہیں کرتا خدارہ بند کریں اب یہ تماشا یہ روز روز کے انتخابات اور کام کریں پاکستان کی مضبوطی کیلئے پاکستان کتنا نیچے جا چکا ہے یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اور اس وقت جو بات میں اپنے قلم کی طاقت کے ذریعے کہنے جا رہی ہو سکتا ہے مجھے اس کے بعد بہت تنقید کا نشانہ بھی بنایا جائے کیونکہ سچ کڑوا ہوتا ہے 22 جولائی 2022 کو ہونے والے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے نتائج کے بعد جب حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ غداری ہاں کے صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ میرے اردگرد معروف اینکر پرسنز بھی ہیں جو بڑی دلیری کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ ملک کے حالات اب سری لنکا کی طرح ہو جائیں گے جیسے وہاں پر فسادات ہوئے اس ملک میں بھی بہت جلد ہوں گے آپ کے منہ میں خاک اگر اس چیز کا خیال ایک سیاستدان نہیں کر رہا تو ایک صحافی کا حق کہ وہ اس چیز کا خیال کریں آپ ٹی وی چینل پر بیٹھ کر ایسے بیانات دیں گے تو ظاہر ہے عوام کی توجہ اس طرف مرکوز ہو جائے گی خدارا ایسے بیانات سے گریز کریں اللہ پاک میرے اس وطن عزیز کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

پی ٹی آئی کو چاہیے کہ ضمنی انتخابات میں جیسے ن لیگ نے شکست تسلیم کی ویسے ہی آپ پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں دل بڑا کر کے شکست تسلیم کر لی بس کریں، اپوزیشن میں بیٹھ کر کام کرنے کی شان میں کمی نہیں آئے گی اور پنجاب جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ کہلایا جاتا ہے اس کو سنبھالنے والے بھی کوئی سمجھدار انسان ہی ہونا چاہیے عمران خان اگر پہلے ہی وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو منتخب کر دیتے بزدار کی ضد ختم کر کے تو شاید آج یہ دن بھی ان کو نہ دیکھنا پڑتا بہت جلد عمران خان کی جانب سے ایک بیان دیا جائے گا جس میں وہ احتجاج کی کال دیں گے اور منتخب ہوئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور حکومت پاکستان کو کام نہیں کرنے دیں گے ان کا تو وہی حال پنجابی کا ایک محاورہ ہے  نہ کھیڈاں گے نہ کھڈاواں گے، وچ پسوڑی پاواں گے

ہم اگر ماضی کے ادوار سے موازنہ کریں تو ان سیاستدانوں کی جنگ میں ہمارے وطن کو بہت نقصان پہنچ چکا ہے اور یہ ہیں کہ باز ہی نہیں آ رہے اب اس جنگ کو ختم کرنے کی بہت ضرورت ہے میں کسی ایک پارٹی کو نہیں کہہ رہی کوئی بھی سیاسی پارٹی اس وقت کم نہیں ہے سب اپنی انا کی جنگ میں مصروف ہیں۔ اب جس طرح حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے ہیں ان کو پنجاب میں مزید کام کرنے کی بہت ضرورت ہے اگر شہباز شریف جو کہ موجودہ وزیراعظم ہیں انہوں نے اپنے دور اقتدار میں پنجاب کے لیے کافی خدمات سر انجام دیں اور اس وقت پی ٹی آئی کی جانب سے یہ الزام لگتا رہا کہ پنجاب دوسرے صوبوں کا حق کھا جاتا ہے اتنا بجٹ لے جاتا ہے اور جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو پنجاب کا حال وہ ہوا جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، ابلتے گٹر، صفائی کے ناقص انتظامات مگر میرے خیال سے حمزہ شہباز کو دن رات محنت کرنے کی ضرورت ہے ایک اچھا ایڈمنسٹریٹر بنیں گے تو ہی اس صوبے میں چل سکیں گے۔اقتدار کی جنگ میں سب سیاسی پارٹیاں اتنا مگن ہو گئیں کہ شاید ان کو یہ خیال ہی نہ رہا کہ ہم کیا بیانات دے رہے ہیں اور کیا فیصلے کر رہے ہیں عوام میں اس حد تک اشتعال انگیزی بھر دی کہ آج ہمارے سوشل میڈیا پر عوام کو اسٹیبلشمنٹ کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ عوام ان سیاستدانوں کی باتوں کو دل پر مت لیں یہ سب اندر سے ایک ہوتے ہیں اور اس ملک کے اصل وفادار مجھ جیسے آپ جیسے لوگ ہیں جن کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے تو ہمیں کم از کم اپنے ملک کے محافظوں کی قربانیوں کو نظرانداز نہیں کرنا جس اسٹیبلشمنٹ کو آج عوام سے گالیاں پڑوائی جا رہی ہیں وہ یہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے آج ہم لوگ چین کی نیند سوتے ہیں ورنہ اگر یہ لوگ نہ ہوں تو ہمارا حال بھی یوکرین جیسا ہو، بھارت ہمیں جینے نہ دے۔ ہر جگہ اچھے بُرے لوگ موجود ہوتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں کی قربانیوں کو نہیں بھلانا بارڈر پر کھڑے وہ جوان جو کہ عیدیں تک اپنے عوام کے لیے قربان کر دیتے ہیں مائیں اپنے لخت جگر کی شہادتیں قوم کی حفاظت کے لیے دیتی ہیں ہمیں ان کو نہیں بھلانا اگر کوئی سیاستدان جو ملک کا اتنا وفادار بنتا ہے تو کیوں عوام کی خدمت نہیں کرتا۔ یاد رہے جب کسی ملک میں جنگ ہوتی ہے تو اس ملک کی فوج ہی صرف عوام کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہوتی ہے اور دشمن کا مقابلہ کرتی ہے سب سے پہلے بھاگتا ہے تو اس ملک کا سیاستدان، وہی اقتدار کی کرسی پر براجمان ہو کر اپنی وفاداری کے بلند و بانگ دعوے کرتا ہے عوام سے میری اتنی التجا ہے کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں، سیاستدانوں کی جنگ میں آپ لوگ نہ کودیں ان سیاستدانوں کو لڑنے دیں ان کو تو شاید خیال ہی نہیں رہا اس ملک کی سالمیت کا مگر سوشل میڈیا پر عوام ایسے بیانات دے کر اپنا تماشا نہ بنائیں۔ یہ سیاست کی جنگ ہے، یہ سمجھتے ہیں جو یہ جنگ جیت گیا وہ غازی ہے اور جو ہار جاتا ہے وہ اپنی انا کا مسئلہ بنا کر مذہب کارڈ، عوامی کارڈ کھیلتا ہے۔ عمران خان صاحب بہت اچھے لیڈر ہوں گے مگر پچھلے پانچ سال سے دیکھ لیں اس ملک میں ہو کیا رہا ہے صرف عمران خان کا ایک ہی مسئلہ ہے کہ انہوں نے ابھی ہار تسلیم نہیں کی آپ خاموشی سے اپوزیشن میں بیٹھ کر اچھی پالیسی تو دیں مگر آپ عوام کو فسادات کی طرف کیوں لے جاتے ہیں اور رہی سہی کسر دوسری پارٹی کے اعلیٰ عہدے دار پوری کر دیتے ہیں، خدارا بس کریں، ختم کریں جیت اور ہار کا کھیل، ایک پیج پر آئیں اور ملک کے لیے کام کریں۔ اللہ پاک میرے ملک کوحفظ و امان میں رکھے۔ آمین

مصنف کے بارے میں