پانی و بجلی کے امور پر ہنگامی صورتحال میں کام کرنا ہو گا، چیف جسٹس

پانی و بجلی کے امور پر ہنگامی صورتحال میں کام کرنا ہو گا، چیف جسٹس

وزیراعظم سے درخواست کروں گا پانی اور بجلی کے معاملے کو خود دیکھیں، چیف جسٹس۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جڑواں شہروں میں پانی کی قلت پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے نگراں حکومت کے حوالے سے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت ابھی تک اپنے بندے پورے نہیں کر سکی۔ کیا حکومت صرف پانچ وزراء کے ساتھ چل سکتی ہے؟۔ پانی و بجلی کے امور پر ہنگامی صورتحال میں کام کرنا ہو گا جبکہ وزیراعظم سے درخواست کروں گا پانی اور بجلی کے معاملے کو خود دیکھیں کیونکہ جب تک مسئلے کا حل نہ نکلے مت اٹھیں۔

 

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر بتایا کہ اسلام آباد کی روزانہ کی ضرورت 120 ملین گیلن ہے تاہم شہری علاقوں میں 58.71 ملین گیلن روزانہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ سی ڈی اے حکام نے کہا کہ 24 گھنٹے پانی کی فراہمی دیں تو سات روز میں پانی کے ذخائر ختم ہو جائیں گے۔

 

مزید پڑھیں: عمران خان کو میانوالی سے الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی

چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد کے لوگ پانی کے بغیر تو نہیں رہ سکتے اور شہر کی آدی آبادھی پانی سے محروم ہے۔ منصوبے افسر شاہی کا شکار ہو کر بند بھی ہو جاتے ہیں اور رپورٹس آ جاتی ہیں مگر پیش رفت کچھ نہیں ہوتی۔ ہر ادارہ دوسرے پر ذمہ داری ڈال دیتا ہے اور مجھے بتا دیں وفاقی حکومت کیا ہے میں اسے بلا لیتا ہوں۔

 

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سی ڈی اے نے پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے۔ پانی کی قلت کا ذمہ دار کون ہیں اور قلت کو دور کرنے کی پالیسی پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا۔ پالیسی پر عمل نہ کرنے والے ذمہ داری پہلے لوگوں پر ڈال دیں گے۔

 

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں