نواز شریف کی جائیدادیں اور کارنامے سامنے آنے چاہئیں: فواد چوہدری

نواز شریف کی جائیدادیں اور کارنامے سامنے آنے چاہئیں: فواد چوہدری

image by facebook

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات فواد چوہدری نے مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کی جائیدادیں اور کارنامے سامنے آنے چاہئیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی نئی پراپرٹیز کے بارے میں انکشاف ہوا ہے، اینٹ اٹھاؤ تو نواز شریف کی جائیداد نکل آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی برطانیہ، سوئٹزر لینڈ، متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب میں جائیدادیں ہیں، نواز شریف اور ان کا خاندان کرپشن کی ایک بہت بڑی داستان ہے۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے کمپنیز کا ڈھکوسلا بنایا تھا، تمام کمپنیوں میں کرپشن سامنے آئی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان اور تحریک انصاف کلثوم نواز کی صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں لیکن کیا ایک خاندان کو اجازت دی جا سکتی ہے کہ 30 ہزار کروڑ روپے اٹھا کر کے باہر لے جائے۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ اگر بے شرمی کی تصویر دیکھنی ہو تو اسحاق ڈار کو دیکھ لیں، اسحاق ڈار 6 ہزار کروڑ کی کرپشن میں ملوث ہیں اور انہیں شاہد خاقان عباسی نے اپنے طیارے میں فرار کرایا۔

انہوں نے شاہد خاقان عباسی اور فواد حسن فواد کو طلب کر کے ملزم کو فرار کرانے کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔تحریک انصاف نے مرکزی رہنما نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس ہاؤسنگ اسکیم کے اسکینڈل میں ملوث ہیں، نیب انہيں فوری گرفتار کرے کیونکہ سابق جج ہونے کی بنیاد پر انہیں رعایت نہیں دی جا سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ احتساب کے عمل کی شفافیت کے لیے سب کا احتساب ضروری ہے، نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں فراڈ کا شکار ہونے والے دھکے کھا رہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا خاندان فراڈ میں ملوث ہے اور تحریک انصاف متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے، اگر متاثرین کو انصاف نہ ملا تو نیب کو شک کی نظر سے دیکھیں گے۔

ترجمان تحریک انصاف نے بیورو کریسی میں ٹرانسفرز اور پوسٹنگ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اہم پوزیشنز پر تعینات افسروں کے بارے میں سب کو علم ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے گھر کے لوگوں سے مشورے لے کر تعیناتیاں کی گئیں، ڈی جی اینٹی کرپشن مظفر رانجھا کو ہٹایا نہیں گیا جب کہ رانا مقبول اور ذوالفقار چیمہ نواز شریف کے گھر کے لوگ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زیادہ عرصے سے تعینات افراد کو دوسرے صوبوں میں نہیں بھجوایا گیا، سندھ اور خیبر پختونخوا میں بھی یہی حال ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ لگتا ہے نگراں حکومت نے تبادلوں سے قبل ہوم ورک نہیں کیا، کرپشن میں ملوث افسران کو ڈی سی لگا دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی ٹکٹوں کی تقسیم مکمل ہو چکی ہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ پولنگ کا وقت صبح 7 بجے سے رات 8 بجے تک کیا جائے۔