ضمنی الیکشن اور سیاسی جماعتوں کا بیانیہ

ضمنی الیکشن اور سیاسی جماعتوں کا بیانیہ

17جولائی کوپنجاب میں ہونے والا ضمنی الیکشن کئی حوالوں سے انتہائی اہم حیثیت اختیار کر گیا ہے اِس الیکشن سے نہ صرف یہ پتہ چلے گا کہ عوام میں کس جماعت کے بیانیے کو پذیرائی حاصل ہے بلکہ مستقبل کا سیاسی منظر نامہ بھی واضح ہو جائے گا اگر مسلم لیگ ن زیادہ نشستیں حاصل کرتی ہے تو نہ صرف پنجاب میں حمزہ شہباز حکومت مستحکم ہو گی بلکہ مسلم لیگ ن کے اِس موقف کی تائید ہو گی کہ وہ آج بھی پنجاب کی سب سے مقبول جماعت ہے پی ٹی آئی کے امیدوار زیادہ تعدادمیں جیت جانے سے غیر ملکی مداخلت سے اقتدار کی تبدیلی کا بیانیہ درست ثابت ہو گا پنجاب کے ضمنی الیکشن پر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کا بیانیہ داﺅ پر لگا ہواہے یہ الیکشن سیاسی جماعتوں کے ساتھ کچھ سیاستدانوں کی حیثیت کابھی فیصلہ کردے گا ۔

ضمنی الیکشن میں پنجاب کی جن طاقتور سیاسی شخصیات کی اہمیت وحیثیت واضح ہو گی اُن میں جہانگیر ترین بھی شامل ہیں جو خود کوعلاقائی سیاست میں تمام سیاسی جماعتوں سے مقبول کہتے ہیں اِس وقت اُن کے گروپ کے کئی امیدوار میدان میں ہیں ن لیگ میں نہ جانے کیا کیا دعویٰ کر کے وہ اپنے امیدواروں کو اُس کا ٹکٹ دلانے کا مشکل مرحلہ تو سر کر چکے ہیں لیکن کیا یہ امیدوار عوام سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر پائیں گے؟ اِس کا جواب جاننے میں محض تین ہفتے رہ گئے ہیں اسی طرح علیم خان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اسی الیکشن میں ہونے والاہے شاہ محمود قریشی 2018میں جس آزاد امیدوار سلیمان نعیم سے پی پی 217میںشکست کھا گئے تھے اب مقابلے پر اپنے بیٹے زین قریشی کو میدان میں اُتاردیاہے کیا باپ سے زیادہ بیٹا صلاحیتوں کا مالک ہے؟اور بیٹے کو امیدوار کے طورپر سامنے لانے کا فیصلہ درست ہے یا غلط ،نتائج سے واضح ہوگا زین قریشی کی شکست پرتیس سالہ سیاسی تجربہ رکھنے والے شاہ محمود قریشی کی علاقائی سیاست میں اہمیت اور حیثیت پر سوال اُٹھیں گے کیونکہ جس آزاد امیدوار سے وہ عام انتخابات میں شکست کھا گئے اُس امیدوار کے پاس اب تو حکومتی جماعت کا ٹکٹ ہونے کے ساتھ بے تحاشا وسائل بھی ہیں اگر جائزوں کے عین مطابق زین قریشی والد کی طرح سلیمان نعیم سے ہارجاتے ہیں جس کا کافی حد تک امکان ہے تو یہ علاقائی سیاست میں قریشی خاندان کے لیے کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں ہو گاکیونکہ عام قیاس یہ ہے کہ زین قریشی کو وزارتِ اعلیٰ کی دوڑ میں شامل کرنے کے لیے ہی ضمنی انتخاب لڑایا جارہا ہے خیر شاہ محمود قریشی کا بیٹا محض اِس وجہ سے نہیں جیت سکتا کہ اُس کے والد نے بہترین اور کامیاب خارجہ پالیسی بنائی لوگوں میں شعور ہے وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ گزشتہ چار برس کے دوران زین قریشی حلقے میں کیوں نظر نہیں آئے یوسف رضا گیلانی خاندان بھی ضمنی الیکشن میں پوری طرح سرگرم ہے سیاسی جماعتو ں کے ساتھ اہم شخصیات کا بیانیہ اور ساکھ داﺅ پر ہے یہ الیکشن جہانگیرترین،علیم خان ،شاہ محمود قریشی اور یوسف رضا گیلانی کی سیاسی ساکھ کا بھی مسئلہ ہے جولائی کے ضمنی الیکشن نتائج سے سیاسی جماعتوں کی مقبولیت اور شخصیات کے عوامی مزاج آشنا ہونے کے بھرم کی حقیقت معلوم ہو جائے گی ۔

ن لیگ اورپی ٹی آئی کی طرف سے ایک دوسرے پر سیاسی اور ذاتی حملے جاری ہیں حکومتی جماعت غیر ملکی سازش کا بیانیہ ملکی سلامتی کے اِداروں کے دوٹوک موقف کے بعد ختم کرنے پر زور دیتی ہے لیکن پی ٹی آئی اپنے بیانیے پر قائم ہے شاید اسی لیے دھاندلی کے الزامات کا شورقبل ازوقت ہی بلند ہونے لگا ہے حکومتی امیدواروں کو سرکاری مشینری کی اگر بھر پور اعانت ہے لیکن تلخ سچ یہ ہے کہ موجودہ اتحادی حکومت میں مہنگائی کو جیسے پَر لگ گئے ہیں اور ملک میں معاشی بے یقینی میں اضافہ ہو گیا ہے کہنے کو حکومت اِن فیصلوں کو مشکل فیصلے قرار دیتی ہے لیکن عوامی حلقے انھیں آسان ترین فیصلے کہتے ہیں کیونکہ تیل کی قیمتیں بڑھا کر مہنگائی کاسارا بوجھ عام اور غریب آدمی پر ڈال دیا گیا ہے اِس لیے حکومتی وسائل کے باوجود خیال کیا جارہا ہے کہ حکمران جماعتوں کے لیے سیاسی ماحول زیادہ سازگار نہیں اگر پی ٹی آئی کی بات کریں تو وہ اپنے امیدواروں کی الیکشن مُہم میں کچھ خاص سرگرم نہیں حالانکہ دھرنے و احتجاج سے زیادہ اِس وقت عوام سے رجوع کرناہی بہتر ہے ایسے حالات میں اگر مریم نواز اپنی تمام تر شعلہ بیانی کے ساتھ الیکشن مُہم چلاتی ہیں تو وہ پی ٹی آئی کے بیانیے کے پرخچے اُڑا دیں گی جس سے اپوزیشن کو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں اِس کا توڑ عمران خان کے جلسے ہی ہو سکتے ہیں کیونکہ ن لیگ کی طرح پی ٹی آئی کی ساکھ کے لیے بھی یہ الیکشن بہت اہم ہیں ذرا سی کمزوری یا غلط فیصلہ کسی بڑی سیاسی نقصان پرمنتج ہو سکتا ہے۔

حکومت سے محرومی کے بعد عمران خان کا مسلسل مطالبہ عام انتخابات ہیں مہنگائی کی موجودہ شدید لہر کی بناپر وہ سمجھتے ہیں کہ عام انتخابات باآسانی جیت سکتے ہیں اپنے مطالبے کو منوانے کے لیے بھی ضمنی الیکشن میں اُن کا اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے وگرنہ حریف باتیں بنائیں گے کہ غیر ملکی مداخلت اور مہنگائی کا بیانیہ عوام نے مسترد کر دیا ہے یہاں پیشِ نظر رکھنے والی ایک اور بات یہ ہے کہ عام انتخابات اور ضمنی الیکشن میں عوامی مزاج ایک جیسا نہیں ہوتا عام انتخابات میں عالمی اور قومی ایشوز کی اہمیت ہوتی ہے لیکن ضمنی الیکشن میں سڑکیں ،گلیاں ،نالیاں ودیگر ترقیاتی کام ووٹ دینے کا معیار ہیں اِس معیار کی لودھراں میں پختہ روایت ہے ترقیاتی کاموں کایہاںسیاست میں کافی عمل دخل ہے گزشتہ الیکشن میں بیلجیم سے کمائی دولت کی چکا چوند کے سہارے فتح سے ہمکنا ر ہونے والے زواروڑائچ ضمنی الیکشن میں اسی روایت کی وجہ سے شکست سے دوچار ہوتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ پیر عامر اقبال شاہ کا خاندان تین نسلوں سے سیاست میں ہے جنھوں نے علاقے میں ڈھیروں ترقیاتی کام کرائے ہیں اسی لیے جماعتوں کی تبدیلی کے باوجود اُن کی سیاسی اہمیت برقرار ہے اور انتخابی مُہم میں اُن کاپلڑابھاری ہے زواروڑائچ کی شکست دراصل جہانگیرترین کی ہار بھی تصور ہوگی۔

لاہورمیں گزشتہ عام انتخابات کے دوران پی ٹی آئی نے اچھی کارکردگی دکھائی اور چار قومی کے ساتھ آٹھ صوبائی نشستیں حاصل کر لیں لیکن علیم خان کی علیحدگی کے ساتھ ہی اُن کے گروپ کے لوگ بھی تحریکِ انصاف چھوڑ نے کی پاداش میں ڈی سیٹ ہوکر اب ضمنی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیںانھیں ن لیگ کے ٹکٹ کی وجہ سے امپورٹڈحکومت کا بیانیہ ناکام بنانے کا مرحلہ درپیش ہے علیم خان نے عقلمندی یہ کی ہے کہ خود الیکشن لڑنے کی بجائے اپنے امیدواروں کی کامیابی اور کاروبار پر توجہ مرکوز کرلی ہے تاکہ ہار کی صورت میں کسی الزام سے بچ جائیں مگر ایسا ہو نہیں سکتا بلکہ ہار یاجیت دونوں صورتوں میں علیم خاں بھی ذمہ دارقرارپائیں گے لاہور میں پی ٹی آئی نے چاروں نئے امیدوار میدان میں اُتارے ہیں جبکہ اُس کے تین منحرف اراکین ن لیگ کے ٹکٹ پر قسمت آزمائی کر رہے ہیں جنھیں جماعت سے بے وفائی کے الزام جیسے ردِ عمل کابھی سامنا ہے ٹی ایل پی اورجماعت اسلامی سمیت دیگرآزاد امیدواروں کی بڑی تعداد میں موجودگی سے ووٹ تقسیم ہونے کا امکان بھی موجودہے ۔

پنجاب کا اصل معرکہ حکمران جماعت ن لیگ اور پی ٹی آئی میں ہونے کی توقع ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کے امیدواروں کی ہار اور جیت کا فیصلہ تھوڑے ووٹوں سے ہونے کا امکان ہے اگر ن لیگ کامیاب ہوتی ہے تو حمزہ شہباز کا اقتدار محفوظ ہو جائے گا وگرنہ خطرات بڑھ جائیں گے ضمنی الیکشن کے لیے اگر یہ کہاجائے کہ جو جیتا وہی سکندرتو بے جا نہ ہو گا منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہ کرنے کا سپریم کورٹ سے فیصلہ آچکااِس کے اطلاق کا جائزہ لینے کے لیے 28جون کو لاہور ہائیکورٹ میں سماعت متوقع ہے جبکہ مخصوص نشستوں کے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ بھی چیلنج کیا جا چکا ہے اِس لیے پنجاب میں سیاسی کھیل دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا ہے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عدالتوں میں زیرِ سماعت سے زیادہ ضمنی الیکشن کے نتائج سے ہی اندازہ ہوگا کہ حکومت مدت پوری کرے گی یا نہیں۔

مصنف کے بارے میں