آئی جی موٹر وے سے سی ٹی او لاہور تک۔۔۔۔

آئی جی موٹر وے سے سی ٹی او لاہور تک۔۔۔۔

ہمارے ہاں جہاں اور بہت سے مسائل موجود ہیں ہیں ان مین ایک ٹریفک کا مسئلہ بھی بہت اہم ہے لاہور،کراچی ،اسلام آباد ،پشاور ہو یا کوئٹہ سب طرف ٹریفک کا ایک ہی حال ہے ہر کوئی جلدی میں ہے اور اس جلدی کے چکر میں وہ اشارے سمیت ٹریفک کے تمام قوانین کو روند کر چلا جاتا ہے ۔ہر شہر میں ایک ٹریفک کا افسر بھی موجود ہے جسے سی ٹی او بھی کہتے ہیں بدقسمتی سے وہ اور اس کا عملہ بھی چالان کر کے ٹریفک قوانین کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیںاور چالان کا دائرہ کار بھی موٹر سائیکل سوار تک محدود ہوتا ہے ،شہر کے ہر دوسرے چوک پر ایک پولیس افسر موٹر سائیکل کے چالان میں مصروف نظر آتا ہے اس دوران چوک میں کیا ہو رہا ہے اسے کوئی پروا نہیں ہوتی ۔ایک زمانہ تھا جب ٹریفک سارجنٹ کا بہت رعب و دبدبہ ہوتا تھاکوئی بھی ہمت نہیں کرتا تھا کہ اس کے سامنے ٹریفک قانون کی خلاف ورزی ہو کیونکہ اسے ڈر ہوتا تھا کہ اشارہ کاٹنے کی صورت میں سارجنٹ صاحب پیچھے آ کر اسے پکڑ لیں گے لیکن آہستہ آہستہ یہ ڈر بھی ختم ہو گیا اب آپ جیسے مرضی خلاف ورزی کر سکتے ہیں کوئی پیچھے نہیں آئے گا ۔چند برس قبل حکومت نے سیف سٹی پروگرام کا انعقاد کیا تھاسارے شہر میں کیمرے لگائے گئے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر آٹومیٹک چالان ہونے لگے کچھ نہ کچھ کنٹرول ہوا لیکن بھلا ہو ہماری عدالت کا کہ اس کے نزدیک یہ کام غیر قانونی تھا انھوں نے چالان پر پابندی لگا دی لیکن بعد ازاں ایک ماہ کے بعد ایک اور عدالت نے پرانی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور چالان دوبارہ شروع کرنے کے احکامات مل گئے ۔سیلوٹ ہے اس شخص پر جس نے اس کے خلاف اپیل کی اور سیلوٹ ہے حکومت پر کہ اس نے نیا محکمہ بناتے ہوئے قواعد وضوابط مکمل نہیں کئے۔ریاست کے تمام ستونوں کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ اس وقت دنیا بہت آگے نکل چکی ہے صرف کیمروں سے ٹریفک کنٹرول کی جا رہی ہے ۔ہر کسی کو کوف ہوتا ہے کہ جہاں اس نے ٹریفک کی خلاف ورزی کی بھاری چالان ان کے گھر ہو گا ۔اب وہ تحمل کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں اور ٹریفک کا احترام بھی ۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں یہ کیوں ممکن نہیں ہم کیوں کیمروں سے ٹریفک کنٹرول نہیں کر سکتے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں جو قانونی رکاوٹیں ہیں انھیں کیوں نہیں دور کر سکتے بدقسمتی سے ہمارے ہاں قومی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے کبھی عدالت کو ایک درخواست دے کر اورنج ٹرین کے منصوبے کو روکا جاتا ہے اور کبھی ٹریفک چالان کے لئے جدید سسٹم کے استعمال کی راہ میں درخواستیں دے کر روڑے اٹکائے جاتے ہیں سوال ئی ہے کہ کیا کیا عوامی اور قومی مفادات کے منصوبوں کے ساتھ یہ ہونا چاہئے یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔

پاکستان میں موٹر وے ایک جگہ ایسی تھی جہاں ٹریفک قوانیں کی خلاف ورزی کم ہوتی تھی لیکن بدقسمتی سے اب وہاں بھی کوئی اچھا حال نہیں ہے ۔ایک زمانہ تھا جب آپ موٹر وے پر سفر کرتے تھے تو اگر رات کو آپ کی لائٹ خراب ہوتی تھی تو موٹر وے پولیس والے اسے روک لیتے تھے اسکی لائٹ بھی ٹھیک کرواتے تھے اور جرمانہ بھی کرتے تھے غلط اوور ٹیک پر بھی روکتے تھے کسی بس یا ٹرک کی مجال نہیں تھی کہ کہ وہ تیسری لائن میں آ جائے لیکن اب لگتا ہے کہ آئی جی موٹروے بھی کسی سی ٹی او کے رنگ میں ڈھل چکے ہیں انھوں نے موٹر وے پر سفر کرنے والوں کے لئے بہت آسانیاں پیدا کر دی ہیں اب بس یا ٹرک کسی بھی لائن میں چلائی جا سکتی ہے ،آپ دائیں یا بائیں کہیں سے بھی اوور ٹیک کر سکتے ہیں سوائے دو تین جگہ کہ جہاں کیمرے کھڑے کئے گئے ہیں تاکہ کچھ چالان کر کے خانہ پری کی جا سکے اور یہاں بھی صرف اوور سپیڈ پر چالان ہوتے ہیں اگر آپ کو علم ہے کہ کیمرے والے کہاں کھڑے ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں آپ باقی سفر دو سو کلومیٹر کی رفتار پر بھی کر سکتے ہیں اور موٹر وے سے باہر نکلنے پر کوئی آپ سے نہیں پوچھے گا کہ آپ نے چار گھنٹے کا سفر دو گھنٹے میں کیسے طے کیا اوور ٹیک کرنے کے اصول موٹر وے پولیس کے سامنے توڑے جاتے ہیں ۔اسی موٹروے پر ایسی بہت سی گاڑیاں مل جائیں گی جن کی بیک لائٹس نہیں ہوتیں جو حادثات کا باعث بنتی ہے لیکن شاید موٹر وے پولیس کی تنخواہ اور بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ان میں کام کا جذبہ آ سکے ۔سوال یہ ہے کہ موٹر وے پولیس کی تنخواہیں جب باقی پولیس کے مقابلے میں زائد ہیں تو ان کا احتساب بھی اسی حساب سے کرنا بنتا ہے ۔لیکن یہ سب تب ہو گا جب سی ٹی او صاحبان یا آئی جی موٹر وے چاہیں گے ۔اگر آئی جی صاحب چاہیں گے تو موٹروے پر کیمرے بھی نصب ہو جائیں گے اور وہ بھی جدید طریقے سے موٹروے پر ٹریفک کو کنٹرول کر سکیں گے ۔ماضی میں بھی آئی جی موٹروے صاحبان نے ٹریفک کنٹرول کر کے دکھائی ہے اب پتہ نہیں ایسا کیوں نہیں کیا جا رہا ۔ دوسری طرف اگر شہر کی ٹریفک کا جائزہ لیں تو اس میں بھی مثال موجود ہے جب پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ کے دور میں ٹریفک وارڈن کا نیا نظام لایا گیا اور ٹریفک وارڈن کو سہولیات فراہم کی گئیں تو شہر کی ٹریفک کنٹرول ہو گئی تھی لین اور لائین کا سسٹم ٹھیک ہو گیا تھا لیکن بدقسمتی سے یہ سب زیادہ دیر نہ ہو سکانہ ہی بعد میں آنے والے کسی سی ٹی او نے اتنا درد لیا۔ویسے ہی جیسے شروع میں موٹر وے پولیس والے محنت کرتے تھے لیکن اب وہ باقیوں کے رنگ میں ڈھل چکے ہیں ،اللہ کرے کہ موجودہ سی ٹی او صاحبان اور آئی جی موٹروے پولیس اس قوم پر کچھ رحم کر لیں تاکہ اس ملک میں بھی ترقی یافتہ ممالک کی طرح تریفک سسٹم ٹھیک ہو سکے۔

مصنف کے بارے میں