کوئٹہ: اغوا ہونے والے چینی باشندوں کا تاحال سراغ نہ مل سکا

کوئٹہ: اغوا ہونے والے چینی باشندوں کا تاحال سراغ نہ مل سکا

کوئٹہ: کوئٹہ کے علاقے جناح ٹاون سے اغوا ہونے والے چینی باشندوں کا تاحال سراغ نہ مل سکا۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ ملزمان کی تلاش کیلئے جناح ٹاون سمیت مختلف علاقوں میں چھاپے بھی مارے جا رہے ہی۔ اغوا کی کوشش کو ناکام بنانے کے دوران زخمی ہونے والے شہری عبدالظاہر کا کہنا ہے ایک چینی باشندے کو بچا لیا تھا اگر گولیاں نہ لگتیں تو دونوں کو بھی بچا سکتا تھا۔


گزشتہ روز واقعے کے حوالے سے پولیس نے مزید بتایا کہ یہ غیر ملکی باشندے چینی زبان سیکھانے کیلئے تعلیمی ادارے کی جانب جا رہے تھے اور وہ بغیر سیکیورٹی کے پیدل سفر کر رہے تھے۔ اس دوران نامعلوم مسلح افراد نے انہیں اغوا کر لیا۔ مغویوں میں ایک مرد اور ایک خاتون شامل ہے تاہم ایک اور خاتون کو اغوا کار انھیں اپنے ہمراہ لے جانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

یاد رہے گزشتہ روز کوئٹہ میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے سہولت کار کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر کو دو ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزمان کی اعترافی ویڈیو بھی جاری کی تھی جس میں 24 سے زائد دہشت گرد کارروائیوں میں سہولت کاری کا اعتراف کیا۔

اس موقع پر وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دہشت گردوں کی گرفتاری کو سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہماری فورسز نے صوبے میں دہشت گردی کی بڑی وارداتوں کو ناکام بھی بنایا ہے اور پورے بلوچستان میں ہائی الرٹ کیا ہوا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن کے اغواء کے حوالے سے پتہ چل گیا ہے تاہم ان کی بازیابی کے حوالے سے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

واضح رہے رواں سال مارچ کے مہینے میں سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن عبداللہ جان کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس سے قبل بلوچستان کے ضلع آواران سے ایسے تین سرکاری ملازمین کو اغوا کیا گیا ہے جنھوں نے 15 مارچ سے شروع ہونے والی مردم شماری میں حصہ لینا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں