پاکستان نہیں چاہتا کہ آبی تنازعات کسی خطرناک نہج تک پہنچ جائيں، دفتر خارجہ

پاکستان نہیں چاہتا کہ آبی تنازعات کسی خطرناک نہج تک پہنچ جائيں، دفتر خارجہ

پاکستان ایک پر امن ہمسائیگی چاہتا ہے لیکن اپنی سالمیت اور دفاعی ضروریات پر سمجھوتا نہیں کر سکتا۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان ایک پر امن ہمسائیگی چاہتا ہے لیکن اپنی سالمیت اور دفاعی ضروریات پر سمجھوتا نہیں کر سکتا۔

 

پاکستان میں پکڑے گئے بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر اور جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے انہوں نے کہا پاکستان کلبھوشن یادیو کيس ميں جولائی ميں جواب جمع کرائے گا ليکن اسے بھارت کے حوالے ہرگز نہيں کيا جائے گا۔

 

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں اسلحہ کی دوڑ کے خلاف ہے لیکن بھارت کی جدید ہتھیاروں کی خریداری خطے میں عدم استحکام کا باعث ہو گی تاہم ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔

 

مزید پڑھیں: نگران وزیراعظم کیلئے تصدق حسین جیلانی پہلی ترجیح نظر آ رہے ہیں، نثار

انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی اشتعال انگیزیاں جاری ہیں جس پر قائم مقام سیکریٹری خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کیا اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی اشتعال انگیزی سے شہادتوں پر شدید احتجاج کیا۔

 

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ عالمی بینک کے ساتھ کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو منصوبے پر گفتگو ہوئی جس میں پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کی۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستانی وفد نے کشن گنگا اور رتلے منصوبوں پر تحفظات سے آگاہ کیا اور واضح کیا کہ یہ منصوبے صرف تنازع نہیں بلکہ پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہیں۔

 

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے کشن گنگا منصوبے کا معاملہ عالمی بینک کے سامنے موثر انداز سے اٹھایا ہے تاہم عالمی بینک کی جانب سے ناکافی دلائل کہنے پر یہ معاملہ ختم نہیں ہو جاتا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اتحادی امدادی فنڈز اور مالی امداد بند کر چکا ہے لیکن امریکا کی جانب سے پاکستان کی معاشی و سماجی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔

 

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ امریکی سفارتکاروں کی ہراسگی سے متعلق کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔

 

یہ بھی پڑھیں: ہر سال پنجاب میں صحت عامہ میں اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں، شہباز شریف

ترجمان دفتر خارجہ کا بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک جاری ہے۔ بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ نفرت آمیز سلوک افسوسناک ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی جیلوں سے 54 پاکستانی قیدیوں کی جلد رہائی کا معاملہ اٹھایا ہے جب کہ پاکستان نے عام شہریوں، ماہی گیروں اور 18 سال سے کم عمر بچوں کی رہائی کی تجویز بھی دی ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں