امریکا سے 'کسی بھی وقت، کسی بھی صورت میں' ملاقات پر تیار ہیں: شمالی کوریا

امریکا سے 'کسی بھی وقت، کسی بھی صورت میں' ملاقات پر تیار ہیں: شمالی کوریا
image by face book

پیونگ یانگ: شمالی کوریا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کم جونگ ان، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی سربراہ ملاقات کی منسوخی کے باوجود امریکا سے مسائل کا حل چاہتے ہیں اور کسی بھی وقت اور کسی بھی صورت میں امریکی صدر سے ملاقات کرنے کو تیار ہیں۔


امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کم کئے گوان نے ریاستی نیوز ایجنسی 'کے سی این اے' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اقدام جزیرہ نما کوریا میں امن کے قیام کی عالمی خواہش کے برعکس ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم انسانیت اور جزیرہ نما کوریا کے استحکام پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔شمالی کورین حکام کا کہنا ہے کہ پیونگ یانگ اب بھی امریکا کے ساتھ معاملات کو حل کرنے کے لیے تیار ہے اور امید ہے کہ یہ میٹنگ دوبارہ بحال ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ اُن سے 12 جون کو سنگاپور میں ہونے والی طے شدہ ملاقات منسوخ کردی تھی، جو تاریخی اعتبار سے دونوں ملکوں کے سربراہان کی درمیان پہلی ملاقات ہوتی۔

 وائٹ ہاؤس کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان کے نام لکھا گیا ایک خط شائع کیا گیا، جس میں ملاقات کی منسوخی کا اعلان کیا گیا۔

خط کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان سے ملاقات یہ کہہ کر منسوخ کردی ہے کہ 'یہ وقت ملاقات کے لیے مناسب نہیں ہے۔

اپنے خط میں ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کورین رہنما کم جانگ ان کو مخاطب کرکے لکھا،  میں اس ملاقات کے لیے بہت پرجوش تھالیکن آپ کی جانب سے دیئے گئے چند حالیہ بیانات کی وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ یہ وقت اس ملاقات کے لیے مناسب نہیں ہے'۔

ٹرمپ نے مزید کہا، 'آپ اپنی جوہری صلاحیتوں کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن ہمارے جوہری ہتھیار اتنے بڑے اور طاقتور ہیں کہ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ انہیں کھبی استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔

امریکی صدر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'مجھے لگا تھا کہ ہمارے درمیان موثر ڈائیلاگز ہونے جارہے ہیں اور واقعی مذاکرات ہی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔