میاں صاحب ہم سے گیم کھیل رہے تھے اور آج بھی کھیل رہے ہیں: آصف زرداری

میاں صاحب ہم سے گیم کھیل رہے تھے اور آج بھی کھیل رہے ہیں: آصف زرداری
فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا

اسلام آباد: سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میاں صاحب ہم سے گیم کھیل رہے تھے، آج بھی کھیل رہے ہیں، سیاسی طاقتیں اور جمہوریت ہی دہشتگردی کا علاج ہیں۔


سابق صدر آصف علی زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا انضمام ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر شہید کی سوچ تھی، بھٹو صاحب نے کہا تھا کہ 10 سال کے اندر فاٹا کا انضمام صوبے کیساتھ کردوں گا۔ بینظیر بھٹو فاٹا انضمام کا معاملہ عدالت لے کر گئیں تھیں، جب میں صدر تھا تو جرگہ بلایا تھا اور ان سے پوائنٹس لیے تھے۔ فاٹا کے لوگوں کو شناخت چاہیے تھی۔ آج بھٹو اور بے نظیر کا فاٹا کے بارے خواب پورا ہونے جا رہا ہے۔ فاٹا کا انضمام پاکستان اور عوام کے حق میں ہے۔

سابق صدر نے مزید کہا کہ آج بہت بڑا دن ہے اور میں مبارکباد دیتا ہوں، امید رکھتا ہوں فاٹا انضمام کا معاملہ مزید آگے بڑھے گا، فاٹا انضمام کی مخالفت چند لوگ اپنے ایجنڈے کی وجہ سے کرتے آئے ہیں۔ تمام مسائل کا حل صرف سیاست میں ہی ہے۔ میاں صاحب کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں، نواز شریف کہتے ہیں کہ مشرف کے معاملے پر زرداری میرے پاس آئے، میاں صاحب بتائیں پاکستان کے ساتھ ہیں یا کسی اور کے ساتھ۔ ہم اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں لیکن پاکستان کے ساتھ ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں: اسد درانی کی کتاب پر پاک فوج کو تحفظات، پوزیشن واضح کرنے کیلئے جی ایچ کیو طلب

 آصف زرداری نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے لیے ریٹائرڈ ججز کے نام نہیں دیئے، ہم نے ایک بزنس مین اور ایک بیوروکریٹ کا نام دیا ہے۔ سال 2008 کے الیکشن میں میاں صاحب کو پنجاب دیا، میں چاہتا تو ان کی پنجاب میں حکومت نہیں بن سکتی تھی، میرے سامنے سب سے اہم مسئلہ مشرف کو ایوان صدر سے نکالنا تھا۔ ڈکٹیٹر کو گھر بھیجنا میرے لیے بہت ضروری تھا۔

یہ خبر بھی پڑھیں: برائلر مرغی کے شوقین افرادہ کیلئے انتہائی تشویشناک خبر

 پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ آج شریفوں کو افسوس ہورہا ہے کہ بیٹی کٹہرے میں کھڑی ہے، ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی کتنا عرصہ کٹہرے میں کھڑی رہی، میرے لوگوں پر کیسز ہیں اور وہ جیلوں میں ہیں، ایسے کام کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی۔ مجھے مریم نواز کے کٹہرے میں کھڑے ہونے پر خوشی نہیں، جب بھٹو کی بیٹی، میری اہلیہ عدالتوں میں پیش ہوتی تھی تو یہ کیا کرتے تھے، یہ بی بی کی پیشیوں کی مذمت کرتے تھے یا اس عمل کا حصہ ہوتے تھے۔ نعیم الحق کا تھپڑ مارنا سیاست کا اچھا باب نہیں ہے۔

زرداری نے کہا کہ جنرل (ر) اسد درانی اور بھارتی جرنیل کی کتاب ابھی پڑھی نہیں، اس کتاب کو پڑھ کر ضرور ردعمل دوں گا۔

 نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں