وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان کی نظرثانی درخواست پر کمیٹی بنانے کی منظوری دیدی

وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان کی نظرثانی درخواست پر کمیٹی بنانے کی منظوری دیدی
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے کالعدم قرار دی گئی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی نظرثانی درخواست پر وزارت داخلہ کی کمیٹی بنانے کی منظوری دیدی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے اور ملک میں معاشی نمو میں بہتری پر وزیراعظم کو ڈیسک بجا کر مبارکباد دی گئی۔ اجلاس میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے کالعدم قرار دینے کے خلاف درخواست پر وزارت داخلہ کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جو کالعدم جماعت کی درخواست کا آئینی طور پر جائزہ لے گی۔

علاوہ ازیں کابینہ نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) نئے بورڈ اور کیپٹن (ر) منیر اعظم کی بطور چیئرمین پاکستان ٹوبیکو بورڈ تعیناتی کی منظوری بھی دی جبکہ سی پیک سے متعلقہ چینی شہریوں کیلئے خصوصی ویزہ پیکیج اور کورونا سے متعلق سامان بوسنیا بھجوانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اجلاس کے آغاز پر کابینہ ارکان نے معاشی شرح نمو میں بہتری پر ڈیسک بجا کر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے کورونا کے دوران کمزور طبقے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات سے ترسیلات زر، برآمدات ، صنعتی ترقی اور زراعت کے شعبے میں بہتری آئی۔ 

اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ معاشی شرح نمو میں بہتری کی وجہ وزیراعظم کے کورونا کے دوران کمزور طبقے کیلئے کئے گئے اقدامات ہیں اور معاشی اعشارئیے مسلسل مثبت ہو رہے ہیں جس کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔

اسد عمر نے کہا وزیراعظم نے ذاتی طور پر کنسٹرکشن کے کام کو لیڈ کیا، پاکستان میں چار میں سے تین فصلوں کی تاریخی پیداوار ہوئی، احساس پروگرام کے تحت دیئے گئے 200 ارب روپے اور بیرون ملک پاکستانی ریکارڈ ترسیلات زر سے معیشت میں تیزی آئی۔