سندھ اسمبلی نے خواتین پر تشدد کے عالمی دن پرخواتین پر تشدد کیخلاف متفقہ طورپر منظور

سندھ اسمبلی نے خواتین پر تشدد کے عالمی دن پرخواتین پر تشدد کیخلاف متفقہ طورپر منظور

کراچی:سندھ اسمبلی نے خواتین پر تشدد کے عالمی دن پرخواتین پر تشدد کیخلاف متفقہ طورپر قرارداد منظورکرلی ۔اراکین نے سندھ اسمبلی میں ہونے والی قانون سازی پر عملدرآمد کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ سندھ اسمبلی سے قراردادیں اور بل تو پاس کرلئے جاتے ہیں مگر عملدرآمد نہیں کروایاجاتا۔ نوکریوں کی بندر بانٹ پر ایوان میں پیش ہونے والی تحریک پر نثارکھوڑو کا کہناتھا کہ رکن اسمبلی قبل از وقت تحریک پیش کرکے نمبرگیم کرناچاہتے ہیں۔خواتین پر تشدد کے عالمی دن پر سندھ اسمبلی کی رکن غزالہ سیال اور ناہید بیگم نے خواتین پرتشدد کیخلاف قرارداد پیش کی ۔۔قرارداد پر بحث کرتے ہوئے اراکین کا کہناتھا کہ معاشرے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارا معاشرہ خواتین کو حقوق دینے کے لئے تیار نہیں ۔ ۔اراکین نے کہا کہ قانون ایک ہتھیار کی طرح ہے قانون سازی کرکے خواتین کومعاشرے میں اپنے حقوق کے حصول کے لئے یہ ہتھیار فراہم کیاجاسکتاہے ۔اراکین نے اس بات کا بھی شکوہ کیا کہ سندھ اسمبلی سے قراردادیں اور بل تو پاس کرلئے جاتے ہیں مگر عملدرآمد نہیں کروایاجاتا ۔اراکین نے مطالبہ کیا کہ سندھ اسمبلی سے ہونے والی قانون سازی پر عملد بھی کروایا جائے ۔


خواتین پر تشدد کیخلاف پیش کی جانے والی قرارداد بحث کے بعد ایوان سے متفقہ طورپرمنظورکرلی گئی ۔اجلاس کے دوران خیبرپختونخواہ اور بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے سندھ اسمبلی کادورہ کیا اوراجلاس کی کارروائی دیکھی۔ تحریک انصاف کے رکن کی جانب سے نوکریوں سے متعلق تحریک التو پیش کی گئی جسے نثارکھوڑو کے اعتراض پر اسپیکر نے خلاف ضابطہ قراردے کر رد کردیا۔نثارکھوڑو کا کہناتھا کہ سرکاری محکموں نے نوکریوں کااعلان ضرور کیاہے مگر ابھی تک نوکریاں دی نہیں ہیں ۔رکن اسمبلی قبل از وقت تحریک پیش کرکے نمبر گیم کرناچاہتے ہیں ۔ اجلاس میں شہید ذوالفقار بھٹو یونیورسٹی آف لاء ترمیمی بل 2016وزیرپارلیمانی امور کی درخواست پر آئندہ اجلاس تک موخر کردیاگیا۔۔اجلاس جاری تھا کہ اسپیکر نے معمول کی کارروائی کرتے ہوئے اجلاس پیرکی صبح دس بجے تک کے لئے ملتوی کردیا ۔