صدر آزاد جموں و کشمیر کی برطانوی وزیر خارجہ سے مختصر ملاقات

صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان کی پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ بورس جانس سے مختصر ملاقات ، صدر آزاد کشمیر نے برطانوی وزیر خارجہ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے انسانیت کے خلاف جرائم اور ایک منصوبہ بندی کے تحت جنگی حربے کے طور پر 980 نوجوانوں کی آنکھوں کو نشانہ بنا کر انہیں بصارت سے محروم کرنے ، کنٹرول لائن سے ملحقہ دیہات میں شہری آبادیوں کو ہدف بنانے خصوصاً گزشتہ روز وادی نیلم میں ایک مسافر بس پر گولہ باری کے بعد زخمیوں کو ریسکیو کرنے والی ایمبولینس پر اندھا دھند فارئرنگ کے واقعات سے آگاہ کی

صدر آزاد جموں و کشمیر کی برطانوی وزیر خارجہ سے مختصر ملاقات

اسلام آباد : صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان کی پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ بورس جانس سے مختصر ملاقات ، صدر آزاد کشمیر نے برطانوی وزیر خارجہ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے انسانیت کے خلاف جرائم اور ایک منصوبہ بندی کے تحت جنگی حربے کے طور پر 980 نوجوانوں کی آنکھوں کو نشانہ بنا کر انہیں بصارت سے محروم کرنے ، کنٹرول لائن سے ملحقہ دیہات میں شہری آبادیوں کو ہدف بنانے خصوصاً گزشتہ روز وادی نیلم میں ایک مسافر بس پر گولہ باری کے بعد زخمیوں کو ریسکیو کرنے والی ایمبولینس پر اندھا دھند فارئرنگ کے واقعات سے آگاہ کیا ۔ برطانوی وزیر خارجہ بورس جانس نے ان واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان اور بھارت دونوں سے کہیں گے کہ وہ کنٹرول لا ئن پر تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے پر امن طور پر حل کرنے کی راہیں تلاش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان واقعات کے حوالے سے غیر جانبدار ذرائع سے معلومات حاصل کریں گے ۔ جس کے بعد برطانوی حکومت با ضابطہ رد عمل ظاہر کرے گی ۔ صدر آزاد کشمیر نے برطانوی وزیر خارجہ کو یاد دلایا کہ یہ مسئلہ کشمیر برطانیہ کا پیدا کردہ اور تقسیم ہند کے نا مکمل ایجنڈے کا حصہ ہے ۔ اس لیے برطانیہ مسئلے کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کی کوشش کرے ۔ ملاقات برطانوی ہائی کمیشن میں ہوئی ۔ جہاں پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی موجود تھے ۔ مختصر ملاقات میں صدر آزاد کشمیر نے برطانوی وزیر خارجہ پر زور دیا کہ وہ بھارت کے ساتھ سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر اٹھائیں اور اسے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی روکنے پر مجبور کرے ۔ علاوہ ازیں یہاں کشمیر ہاؤس صدارتی سیکرٹریٹ میں رکن اسمبلی اور امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی ، رکن اسمبلی علی رضا بخاری ، نامزد امیدوار کشمیر کونسل عبدالخالق وصی ایڈووکیٹ ، ایس ڈی پی کے جنرل اوصاف ، سابق سفیر مسٹر جمشید اور دیگر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے انسانیت کے خلاف جرائم اور کنٹرول لائن سے ملحقہ دیہات کی شہری آبادیوں ، خصوصاً وادی نیلم میں مسافر بس اور ایمبولینس پر گولہ باری کے واقعات کو سفارتی سطح پر موثر انداز میں اجاگر کیا جائے گا ۔ اس سلسلے میں اندورن و بیرون ملک بین الاقوامی کانفرنسوں کے انعقاد ،وفود کو بیرون ملک بھجوانے سمیت دیگر اقدامات پر غور و خوض کیا جا رہا ہے ، سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی فوج نے مسافر بس اور ایمبولینس کو نشانہ بنا کر انسانیت کی تمام حدود کو عبور کر دیا ہے ۔ حالت جنگ میں بھی مسافر گاڑیوں اور ایمبولینس کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن حالت امن میں بھارتی فوج کے گھناؤ سے اقدامات سے اسے دنیا کی غیر پیشہ ور اور وحشی فوج ثابت کر دیا ہے ۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی اور سید علی رضا بخاری نے صدر سردار مسعود خان کو ملکی سطح پر عوام کو بھارتی جارحیت کے خلاف منظم کرنے کے لیے تجاویز پیش کیں ۔ عبدالرشید ترابی نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جلد برادر اسلامی ملک ترکی میں ایک بین الاقوامی کشمیر کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے ۔ جس میں کشمیری قائدین کی بڑی تعداد شریک ہو کر عالمی برادری کو مقبوضہ میں بھارتی مظالم اور کنٹرول لائن کی صورتحال سے آگاہ کرے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں بھی اس نوعیت کی ایک کانفرنس کے انعقاد کے لیے منصوبہ بندی اور صلاح و مشورہ کیا جا رہا ہے ۔ وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر اس تجویز سے اتفاق کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وفود کو بیرون ملک بھیجا جائے گا تاکہ وہ دوست ممالک کو بھارت کے جارحانہ اقدامات سے آگاہ کر سکیں ۔


اس موقع پر صدر آزاد کشمیر نے عبدالرشید ترابی اور سید علی رضا بخاری سے اتفاق کر تے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ہمار ا موقف عالمی سطح پر تسلیم شدہ اور اصولوں پر مبنی ہے ۔ اس لیے ہمیں اپنی کامیابی پر پختہ یقین ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ 1947ء کے بعد سے اب تک 5 لاکھ کشمیری اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ ان شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔ آزاد کشمیر کی حکومت خلوص نیت سے اپنا کردار ادا کرئے گی ۔ اس کے باوجود اگر ہم اپنے مقاصد میں جلد کامیاب نہ ہو سکے تو یہ اللہ کی رضا ہو گی کے اسے کشمیریوں کی مذید قربانیاں مقصود ہیں ۔ صدر سردار محمد مسعود خان نے کہا کہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام آزاد ہیں۔ وہ بے بس اور مجبور نہیں ۔ انہیں چاہیے کہ وہ ہر محاذ پر اپنے مظلوم بھائیوں کی داد رسی کے لیے آواز بلند کریں ۔ اس سلسلے میں ہمیں ذرائع ابلاغ کو حکمت عملی سے استعمال کرنا ہو گا ۔ سمندر پار آباد کشمیر ی اور پاکستانی اس سلسلے میں اپنا اثر و سوخ استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کا بار بار دروازہ کھٹکھٹانا ہو گا ۔ صدر آزاد کشمیر نے ملاقات کرنے والوں کو بتایا کہ گزشتہ روز انہوں نے سی ایم ایچ مظفرآباد میں وادی نیلم میں بس پر گولہ باری کے زخمیوں کی عیادت کی ہے ۔ زخمی نوجوانوں کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بے بسی اور لا چارگی ہماری قسمت نہیں ۔ آزاد کشمیر کے عوام اٹھ کھڑے ہوں اور متحد و منظم انداز میں دنیا کے سامنے بھارت کے جرائم کو بے نقاب کریں۔