اگر باوجود کوشش کے بچے خاموش نہ ہوں تو رونا فوری روکنے کیلئے ان کے جسم کا یہ حصہ دبائیں

: بچوں کو اگر جسم میں کوئی درد یا مسئلہ درپیش ہوتووہ رونے لگتے ہیں، بڑوں کی طرح بچے یہ نہیں بتاسکتے کہ انہیں کہاں درد ہورہی ہے لیکن زمانہ قدیم سے انسانی جسم کے مختلف حصوں کو دبا کر دردوں کاعلاج ممکن ہے۔چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کے پاﺅں کو دبایا جائے تو ان کے درد میں کمی ہونے لگتی ہے اور وہ چپ ہوجاتے ہیں۔

اگر باوجود کوشش کے بچے خاموش نہ ہوں تو رونا فوری روکنے کیلئے ان کے جسم کا یہ حصہ دبائیں

بیجنگ :  بچوں کو اگر جسم میں کوئی درد یا مسئلہ درپیش ہوتووہ رونے لگتے ہیں، بڑوں کی طرح بچے یہ نہیں بتاسکتے کہ انہیں کہاں درد ہورہی ہے لیکن زمانہ قدیم سے انسانی جسم کے مختلف حصوں کو دبا کر دردوں کاعلاج ممکن ہے۔چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کے پاﺅں کو دبایا جائے تو ان کے درد میں کمی ہونے لگتی ہے اور وہ چپ ہوجاتے ہیں۔


Reflexologyایک ایسا علم ہے جس میں جسم کے مختلف اعضاءپر دباﺅ کے ذریعے درد کو ٹھیک کیا جاتا ہے اور انہیں دبا کر فوری سکون ملتا ہے۔اگر بچوں کو کوئی چوٹ لگے یا انہیں کہیں درد ہورہی ہوتو وہ رونے لگتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ ان کی درد کا علاج جسم کے مختلف حصوں کودبا کرکیاجائے۔آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ جسم کے کون سے حصے کو دباکر کہاں کی درد دور کی جاسکتی ہے۔

اگر بنا ورزش پیٹ کی چربی پگھلانا چاہتے ہیں تو اِن 5 چیزوں کو اپنی غذاءکا حصہ بنالیں، دنوں میں ہی فرق واضح ہوجائے گا

سر یا دانت:اگر بچہ دانت نکال رہا ہوتو اس کے سر اوردانتوں میں درد رہتی ہے۔اگر پاﺅںکی انگلیوں کے کونوں بالخصوص انگوٹھے کے کونے کو دبایا جائے تو سر اور دانت کے درد میں فوری سکون ملتا ہے اور بچے کا روناختم یا کم ہوجاتا ہے۔

زکام اور بہتی ناک:اگر بچے کو سردی لگ جائے یا اس کی ناک بہنے لگے تو وہ رونے لگتے ہیں۔ایسی صورت میں بچے کے پاﺅں کے درمیانی حصے پر دباﺅ ڈالنے اور اسے دبانے سے خاطر خواہ آرام ملے گا۔

سینہ:اگر ہم پاﺅں کے اس حصے کو دبائیں جو جو زمین کو چھوتا ہے تو بچے کو سینے کی جکڑن اور بلغم سے نجات ملے گی اور اس کا رونا کم ہوجائے گا۔

پیٹ اور معدہ:ہمارے پاﺅں کی آرک براہ راست پیٹ کے ساتھ منسلک ہوتی ہے اور اگر معدے میں کوئی مسئلہ درپیش ہوتو اس جگہ دبانے سے معدہ اور پیٹ ٹھیک ہوتا ہے۔اس کی وجہ سے پیٹ میں گیس کم ہونے کے ساتھ قبض بھی کم ہوگی۔