اسلام آباد دھرنا ختم کرانے کیلئے آپریشن، جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار شہید

اسلام آباد دھرنا ختم کرانے کیلئے آپریشن، جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار شہید

اسلام آباد: اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے فیض آباد انٹر چینج پر دھرنے کے شرکاء کو دی گئی گذشتہ رات 12 بجے کی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی تھی جس کے بعد پولیس نے کارروائی کا آغاز کر دیا تھا۔ 


اسلام آباد دھرنا ختم کرانے کیلئے حکومتی تمام حربے ناکام ہو گئے۔ آخری آپشن طاقت کے استعمال میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ فورسز نے دھرنے والوں سے فیض آباد کا قبضہ چھڑا لیا گیا لیکن جھڑپوں کا سلسلہ دوسرے علاقوں میں شروع ہو گیا۔ مذہبی تنظیم کے دھرنے کیخلاف پولیس، ایف سی اور رینجرز کی مشترکہ کارروائی کی گئی۔

دھرنے کے شرکاء کوچاروں اطراف سے گھیرے میں لے کر آپریشن کیا گیا۔ آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں، غلیلوں اور ڈنڈوں کا بے دریغ استعمال بھی کیا گیا ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف اسپتالوں میں 170 سے زائد زخمیوں کو لایا گیا جن میں 55 پولیس اور 35 ایف سی اہلکار بھی شامل ہیں۔

سرکاری ہسپتال پمز کے ترجمان ڈاکٹر الطاف کے مطابق زخمیوں میں سے کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے اور انھیں سر سمیت جسم کے مختلف حصوں پر پتھر لگنے کے باعث چوٹیں آئی ہیں جبکہ چند ایک آنسو گیس کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں:دھرنے کا مسئلہ پر امن طریقے سے حل کیا جائے : آرمی چیف

مظاہرین سے جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار شہید اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے۔ مظاہرین نے ایک ایف سی اہلکار کو پکڑ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا لیکن ساتھی اہلکاروں نے اسے فوری طور پر مظاہرین کے قبضے سے چھڑا لیا تھا۔ 

راولپنڈی میں مذہبی جماعت کے کارکنوں کی جانب سے سوہان روڈ اور کھنہ پل پر پولیس کی 4 بسوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔

خادم حسین رضوی فیض آباد پر اپنے سٹیج سے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کر کے ان سے اسٹیج کی جانب آنے سے رکنے اور واپس جانے کا کہہ رہے ہیں۔

پنجاب کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے

اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترامڑی چوک اور ارد گرد کے علاقوں میں مذہبی جماعتوں کے کارکنوں اکٹھے ہو کر اجتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے ترامڑی چوک میں رکاوٹیں لگا کر سٹرکیں بند کر دی ہیں۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ فیض آباد دھرنے کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن کے بعد پورے ملک میں دھرنوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

 

مظاہرین نے لاہور کے علاقے شاہدرہ پولیس سٹیشن پر دھاوا بول دیا جس کے بعد پولیس نے ان پر شیلنگ کی۔ مظاہرین لاہور شہر کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے ہیں۔ مظاہرین نے ملتان روڈ اور ٹھوکر نیاز بیگ روڈ کو بھی بند کر دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے سامنے چیئرنگ کراس روڈ پر مظاہرین کی بڑی تعداد موجود ہے۔

روات کے علاقے چھنی پل کے قریب مظاہرین نے جی ٹی روڈ بلاک کر دی جس سے ٹریفک بری طرح جام ہو گئی۔ اسی طرح لاہور میں بھی فیروزوالہ کے علاقے امامیہ کالونی میں مظاہرین جی ٹی روڈ پر آ گئے جہاں ٹائر جلا کر لاہور گوجرانوالہ جانے والا راستہ بلاک کر دیا۔ احتجاج کرنے والوں نے فیروزوالہ میں ریلوے ٹریک بند کر دیا۔ پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج پر مظاہرین نے جوابی پتھراؤ کیا۔

شیخوپور  ہ کے بتی چوک میں مظاہرین نے روڈ بلاک کر کے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ احتجاج کے باعث لاہور سرگودھا فیصل آباد روڈ بند ہو گیا۔ اوکاڑہ اور رینالہ خورد میں بھی مظاہرین نے جی ٹی روڈ ٹریفک کیلئے بند کر دی جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔ ڈسکہ میں بھی کالج روڈ پر احتجاج کیا گیا۔

فیصل آباد میں مظاہرین نے سمندری کے علاقے میں احتجاج کیا اور سرگودھا روڈ کو ٹریفک کے لیے بلاک کر دیا۔ مظاہرین نے رجانہ چوک میں ٹائر جلا کر سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

پیر آف گولڑہ کی دھرنا ختم کرنے کی اپیل

ادھر پیر آف گولڑہ نظام الدین جامی نے دھرنا شرکاء کے سربراہ خادم حسین رضوی سے رابطہ کیا ہے۔ پیر آف گولڑہ نے خادم حسین رضوی سے سرنڈر کرنے کی اپیل کر دی ہے۔ پیر نظام الدین جامی نے خادم حسین رضوی سے اپیل کی ہے کہ ملکی امن کے وسیع تر مفاد میں دھرنے کو ازخود ختم کرنے کا اعلان کر دیں

واضح رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت 'تحریک لبیک یارسول اللہ'کے دھرنے کو آج 20 روز ہو گئے  تھے جسے ختم کرانے کے لیے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔

دھرنے کے شرکاء وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے پر بضد تھے جب کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ سڑکوں پر بیٹھ کر یا دھونس دھاندلی سے کسی سے استعفیٰ نہیں لیا جا سکتا۔ گذشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین دن میں دھرنا پریڈ گراؤنڈ منتقل کرنے کے حکم کے بعد ضلعی انتظامیہ نے دھرنے کے شرکاء کو آخری وارننگ جاری کی تھی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں