سی پیک سے پاک چین تعلقات معاشی شراکت داری میں تبدیل ہوئے، فواد چودھری

Pak-China relations turned into economic partnership with CPEC: Fawad Chaudhry
کیپشن:   فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ سی پیک سے پاک چین تعلقات معاشی شراکت داری میں تبدیل ہوئے۔ چین کو پاکستان سے ایک سال میں 25 ہزار انجینئرز چاہیں۔خصوصی اقتصادی زونز کا قیام معاشی ترقی کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری کی اہمیت پر بات کی اور کہا کہ پاکستان او چین تذویراتی شراکت دار ہیں۔ سی پیک سے دو طرفہ تعلقات معاشی شراکت داری میں تبدیل ہوئے ہیں۔ اس منصوبے کے دائرہ کار میں زراعت اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی شمولیت بہت اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خصوصی اقتصادی زونز کا قیام معاشی ترقی کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔ چین کو پاکستان سے ایک سال میں 25 ہزار سافٹ ویئر انجینئرز چاہیں۔ ہم چین کے تعاون سے سیمی کنڈکٹر شعبے کو بھی ترقی دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی وار جاری ہے۔ دنیا کی 5 بڑی سولر پینلز انڈسٹریز چین کی ہیں جبکہ دنیا کی 70 فیصد سولر انڈسٹری پر چین کی اجارہ داری ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سی پیک سے دو طرفہ تعلقات معاشی شراکت داری میں تبدیل ہوئے۔ سائنس و ٹیکنالوجی اور زراعت کو بھی سی پیک میں شامل کیا گیا ہے۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ چینی اور پاکستانی بزنس اکٹھا ہوا۔ ٹیکنالوجی کی ترقی سے آنے والے سالوں میں مختلف شعبوں میں انقلاب برپا ہوگا۔ مستقبل کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں ٹیکنالوجی کو ترقی دینی ہے۔

وفاقی وزیر فواد چودھری نے مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کو سیاست میں ابھی ''بچی''  قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی سیاست بس یہی تک ہے کہ نواز شریف کسی طرح کیسوں سے باہر نکلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا ایجنڈا وہی ہے کہ ان کے خلاف کیسز ہیں، ان میں مک مکا کر دیں تو وہ ٹھیک ہیں، اگر نہیں کرتے تو لڑائی ہے۔

وفاقی وزیر فواد چودھری نے اپوزیشن اتحاد کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم میں ہر ایک کا اپنا ایجنڈا ہے۔ کسی کو سمجھ نہیں ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ فروری میں اپوزیشن کہے گی ہم تو جنوری 2023ء کی بات کررہے تھے۔