احد چیمہ اور شریک ملزم شاہد شفیق کی ضمانت منظور

Pakistan,Ahmad cheema,Paragon case
کیپشن:   فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نےآشیانہ اسکینڈل کے مرکزی ملزمان احد چیمہ ، شاہد شفیق کی ضمانت کی درخواستیں ہارڈ شپ کی بنیاد پر منظور کرتے ہوئے انہیں دس، دس لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت احد چیمہ کے وکیل اشتر اوصاف نے دلائل دئیے کہ ایک ملزم شاہد شفیق کو فروری 2018 میں گرفتار کیا گیا۔ معاملے میں نیب ریفرنس دسمبر 2018 میں دائر ہوا اور فرد جرم فروری 2019 میں عائد کی گئی۔ ملزمان دو سال 9 ماہ سے جیل میں ہیں۔

امجد پرویز ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پیراگون سوسائٹی کو احد چیمہ نے بطور چیئرمین ایل ڈی اے غیر قانونی قرار دیا اور احد چیمہ کے غیر قانونی قرار دینے کے بعد پیراگون پر نیب ریفرنس بنا۔ احد چیمہ پر پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہچانے کا الزام بے بنیاد ہے اور میرے موکل پر پیراگون ہاوسنگ سے 8 کنال زمین بطور رشوت لینے کا الزام بھی غلط ہے۔ 8 کنال زمین کی ادائیگی بنک میں موجود رقم سے کی گئی اور بہن سعدیہ منصور، بھائی احد سعود اور رشتہ دار احمد حسن کو آٹھ، آٹھ کنال زمین منتقلی کا میرے موکل سے تعلق نہیں۔ ریفرنس میں 13 شریک ملزمان کی ضمانت ہو چکی ہے۔

حکومت کو تین ہزار کنال زمین سے محروم کرنے کا الزام درست نہیں اور معاملے میں سرکار کی ایک انچ زمین کی رجسٹری کسی کے نام نہیں ہوئی نہ پیپرا رولز کی خلاف ورزی ہوئی نہ دوسری کوئی بے ضابطگی کی گئی۔

وکیل شاہد شفیق نے موقف اپنایا کہ آشیانہ ہاوسنگ سے خزانہ کو کوئی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی میرے موکل کا کوئی مالی فائدہ ثابت ہوا ہے۔ صوبائی حکومت کو کوئی مالی نقصان نہیں ہوا لیکن میرا موکل 3 سال سے قید میں ہے۔ سپیشل پراسیکیوٹر نیب عمران الحق نے اس موقع پر موقف اپنایا کہ بسم اللہ انجینئرنگ دراصل پیراگون ہاوسنگ کی ڈمی ہے اور پیراگون نے رقم بسم اللہ انجینئرنگ کے اکاونٹ میں منتقل کی اور وہی رقم بسم اللہ انجینئرنگ نے ایل ڈی اے کے اکاونٹ میں ڈالی۔

آشیانہ ہاوسنگ معاہدے سے قبل احد چیمہ، انکے بھائی احمد، بہن سعدیہ منصور اور رشتہ دار احمد حسن کے نام زمین ٹرانسفر کی گئی اور تمام افراد کے نام معاہدے سے تین ہفتے قبل آٹھ، آٹھ کنال زمین ٹرانسفر کی گئی۔ احد چیمہ اور دیگر افراد نے ملکر آشیانہ ہاوسنگ کو فائدہ پہنچایا۔

احد چیمہ آشیانہ میں مرکزی ملزم ہے اور مرکزی ملزم کو ضمانت نہ دی جائے۔ جسٹس سردار طارق مسعود نے اس موقع پر سوال اٹھایا کہ کیا یہ ہارڈ شپ کا کیس نہیں بنتا۔ عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر ملزمان احد چیمہ اور شاہد شفیق کی درخواست ضمانت ہارڈ شپ کی بنیاد پر منظور کرتے ہوئے انہیں دس، دس لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔