اپوزیشن کو جلسے، جلوسوں سے فائدہ نہیں ہو گا اور نہ این آر او ملے گا، وزیراعظم

اپوزیشن کو جلسے، جلوسوں سے فائدہ نہیں ہو گا اور نہ این آر او ملے گا، وزیراعظم
کیپشن:   فوٹو/اسکرین گریب

لاہور: وزیراعظم عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی وبا کے کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بطور قوم احتیاط نہ کی تو حالات خراب ہو جائیں گے جبکہ اسپتالوں پر بھی دباو بڑھ جانے کے ساتھ ساتھ معیشت پر منفی اثرات پڑیں گے۔ ہمارے ہمسائیہ ملک بھارت میں حالات بُرے ہیں اور ان کے معاشی حالات بھی ہم سے زیادہ خراب ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جس نے رمضان المبارک میں بھی مساجد کو کھلا رکھا گیا تھا۔ اب عالمی وبا کی دوسری لہر کی وجہ سے اموات تیزی سے بڑھ رہی ہیں جبکہ خدشہ ہے ڈاکٹرز اور نرسز پر پریشر پڑے گا تاہم وبا سے بچنے کا آسان طریقہ ماسک کا استعمال ہے کیونکہ حکومت اور عوام نے مل کر عالمی وبا کی دوسری لہر کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس وقت دوسری لہر کی وجہ سے ملک میں یومیہ اموات کی تعداد 50 سے زائد ہو گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ دیہاڑی دار اور محنت کش طبقے کو بیروز گار نہیں کرنا چاہتے اور فیکٹریوں کو بھی بند نہیں کیا جائے گا کیونکہ اگر یہ کام کریں گے تو سب سے زیادہ غریب طبقے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جو پہلے بھی غربت کا شکار ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک عرصے کے بعد ہماری ایکسپورٹس بڑھی ہیں اور اگر ہم بھارت ، بنگلہ دیش سے موازنہ کریں تو عالمی وبا میں ہماری پوزیشن بہتر تھی ۔ اس وقت فیصل آباد میں دن رات فیکٹریاں چل رہی ہیں بلکہ وہاں پر لیبر کم پڑ گئی ہے جبکہ  پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ایک حوصلہ افزا بات ہے۔ 

انہوں نے کہا ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جہاں لوگ زیادہ جمع ہوں اور اس وجہ سے ہم نے اپنا جلسہ ختم کر دیا تھا۔ اپوزیشن کو جلسے، جلوسوں سے فائدہ نہیں ہو گا اور این آر او بھی نہیں ملے گا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کا بھی حکم ہے کہ وبا کی وجہ سے کوئی جلسہ نہ کرے ۔

وزیراعظم نے بتایا کہ راوی ریور سٹی اور کراچی بنڈل آئی لینڈز پاکستان کیلئے ضروری ہیں کیونکہ لاہور کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے اور 20 سال میں لاہور کی آبادی میں ڈیڑھ گنا اضافہ ہوا جبکہ آلودگی بھی لاہور کا اہم مسئلہ ہے اس لئے راوی ریور منصوبے کا مقصد لاہور کو بچانا ہے اسی طرح بنڈل آئی لینڈز منصوبے کا مقصد کراچی کو بچانا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ ہم قبضہ گروپس کے پیچھے جا رہے ہیں اور پنجاب میں سب بڑے، بڑے قبضہ گروپوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بہت اچھے اقدامات کر رہے ہیں ۔ ہم نے تحقیقات کی تو پتہ چلا کہ قبضہ گروپوں نے اربوں روپے کی زمینوں پر قبضے کئے ہیں اور ان کو سیاسی جماعتیں سپورٹ کرتی تھیں ۔ ہم نے پلان کر لیا ہے قبضہ گروپس کے خلاف بہت بڑا ایکشن شروع کیا جائے گا اور لاہور میں جلد قبضہ گروپوں کی آوازیں سنیں گے ۔

وزیراعظم نے کہا اس وقت ملک میں چینی کی قیمتیں کم ہونی شروع ہو گئی ہیں اور ہمیں پہلی مرتبہ پتہ چلا ہے کہ قیمتیں کیسے بڑھائی جاتی ہیں جبکہ گندم کی کمی کی وجہ دو مرتبہ بے وقت کی بارشیں تھیں لیکن ہم نے امپورٹ کی اور گندم کی قیمتیں کم ہو گئیں ۔ اگر سابقہ حکومتوں کے قرضوں کی قسطیں نہ دینی پڑیں تو حالات اتنے مشکل نہ ہوتے کیونکہ ہماری آمدنی اس وقت خرچے سے زیادہ ہے ۔