پی ڈی ایم کا عدم اتفاق پر اتفاق…

پی ڈی ایم کا عدم اتفاق پر اتفاق…

پی ڈی ایم اپنے ایجنڈے سے ہٹ چکی ہے اور اگر اس کی تحریک کی بات کی جاے تو یہ تاریخ پر تاریخ کے سوا کچھ نہیں اور اس کا ہر اجلاس مایوسی کے علاوہ کوئی تاثر چھوڑ کر نہیں جاتا۔ پیپلز پارٹی اور اے این پی کے نکالے جانے کے بعد اس کے ہر سربراہی اجلاس میں اگر اتفاق ہوتا ہے تو صرف عدم اتفاق پر۔ لگتا ہے کہ اونٹ کی طرح اس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہر جماعت اپنی اپنی بولی بول رہی ہے. لانگ مارچ اور استعفوں کی چھتیس چھتیس تاریخیں دی جا چکی ہیں لیکن اس پر عمل درآمد آج تک نہیں ہو سکا۔ پیپلز پارٹی کو اس لیے نکال باہر کیا گیا کہ وہ استعفوں کی حامی نہ تھی۔ پی ڈی ایم کی قیادت نے استعفوں پر اختلاف رائے کی وجہ سے اپوزیشن اتحاد توڑنا گوارہ کر لیا لیکن اس کے بعد اس پر خود عمل نہ کیا۔ مولانا فضل الرحمان کل کے اجلاس میں بھی کہتے رہے کہ استعفوں کے بغیر لانگ مارچ فضول ہے لیکن پی ڈی ایم کی سب سے بڑی سٹیک ہولڈر مسلم لیگ ان کی اس پکار پر آئیں بائیں شائیں کرنے لگی۔ مولانا بہت جز بز ہوئے اور یہاں تک کہہ دیا کہ ہم پی ڈی ایم کے ایجنڈے سے ہٹ رہیں اس پر بھی مسلم لیگی قیادت صمً بکمً رہی۔ مولانا کو کہنا پڑا کہ اگر یہی صورتحال ہے تو میں پی ڈی ایم کی قیادت سے ہٹ جاتا ہوں جس پر نواز شریف نے مداخلت کی کہ اور کہا کہ وہی پی ڈی ایم کی قیادت کریں گے اور ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن کے کچھ ’’رابطوں‘‘ کے بعد مولانا اور احتجاج کی سیاست سے دور ہوتی جارہی ہے جبکہ مولانا اپنے پرانے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم کے بے نتیجہ اجلاسوں کی سیریز کے بعد لگتا ہے کہ ان اجلاسوں میں مولانا کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہو رہی ہے۔ اب مایوس مولانا نے پی ڈی ایم کے ان کو ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے 6 دسمبر کی حتمی تاریخ دے دی ہے یاد رہے کہ یہ حتمی تاریخ درجنوں بار دی جا چکی ہے لیکن وہ دن کبھی نہیں آتا اور پھر نئی تاریخ دے دی جاتی ہے۔ 

جمعیت علما اسلام کے ایک سینئر لیڈر کا کہنا کہ پیپلز پارٹی کی طرح مسلم لیگ ن بھی ان سے ہاتھ کرنا چاہتی ہے۔ وہ مولانا فضل الرحمان کو طے شدہ امور پر انگیج رکھنا چاہتی ہے لیکن ان پر عملدرامد نہیں کرنا چاہتی کیونکہ یہ بھی ’’بیک ڈور‘‘ سے طاقتور حلقوں سے رابطے میں اور امید سے ہے کہ ایک بار پھر ان کی امیدیں بھر آئیں گی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ سب کچھ جانتے ہوئے پھر وہ پی ڈی ایم سے کیوں چمٹے ہوئے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں ’’گلوٹین‘‘ کے استعمال کو آخر حد تک اجتناب کرنا چاہیے۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ یہ ارشادات وہ ببانگ دہل کیوں نہیں کہتے تو کہنے لگے کہ حافظ حسین احمد کا انجام دیکھ لیں۔

اجلاس کے ایک شریک لیڈر کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں یک رکنی اور ایسی تانگہ پارٹیاں جن کی عوام میں پذیرائی ندارد اور پارلیمنٹ میں حیثیت صفر ہے استعفوں اور احتجاجی سیاست میں پیش پیش ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہا ان جماعتوں کا سٹیک پر کچھ نہیں اور یہ پی ڈی ایم قیادت کی جیب کی گھڑی ہیں لیکن پھر بھی ان کا بھی ایک ووٹ گنا جاتا ہے۔ اس شخصیت کا دعویٰ تھا پیپلز پارٹی کا بھی ان تانگہ پارٹیوں پر یہی اعتراض تھا لیکن ان کی سنی ان سنی کر دی گئی۔ 

ایک سینئر مسلم لیگی سے جب اس موضوع پر بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ پی ڈی ایم میں مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت ہے اور اس کے سٹیک بھی دوسری جماعتوں سے زیادہ ہیں۔ اس لیے ہماری ترجیحات بھی مختلف ہیں۔ ہر پارٹی کی طرح ہم پی ڈی ایم کا حصہ ہیں لیکن دوسری پارٹیوں کی طرح کبھی بھی اپنے مفاد پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جب پوچھا کہ کہاں گئے استعفے اور کہاں گیا احتجاج اور دھرنا ہو گا کہنے لگے اس پر اجتماعی فیصلہ ہو گا لیکن کب اس کا فیصلہ ہم کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں کہ مسلم لیگیوں کی اکثریت نے قیادت پر واضح کر دیا ہے کہ کسی قسم کے احتجاج یا استعفوں کے بجائے اگلے الیکشن کی تیاری کو ترجیح دینی چاہیے۔ کیا یہ قیادت کی احتجاجی سیاست سے اختلاف ہے؟ انہوں نے تسلیم کیا کہ مسلم لیگ ن میں یہ آواز تقویت پکڑ رہی ہے لیکن یہ قیادت کی مخالفت نہیں البتہ ہر ایک کو اپنی بات کرنے کا حق ہے اس کا فیصلہ قیادت کرے گی۔

مریم نواز نے آج انکشاف کیا کہ انہوں نے دو میڈیا ہائوسز کے اشتہارات بند کرنے کا حکم دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس حیثیت سے انہوں نے یہ سب کیا اور انہیں کیا حق تھا سیکڑوں میڈیا ورکرز کا روزگار بند کرتیں۔ میں مریم نواز کی میرے نزدیک بے حد عزت تھی لیکن ان کے اس اعتراف جرم نے ان کا قد چھوٹا کر دیا ہے۔ ماتم ہی کیا جاسکتا ہے اس بیانیے پر۔ 

قارئین کالم کے بارے میں اپنی رائے اس وٹس ایپ 03004741474 پر بھیجیں۔