منافع خور تاجر اور لولی لنگڑی حکومت

منافع خور تاجر اور لولی لنگڑی حکومت

لاٹھی ، گولی کی سرکار نہیں چلے گی کے نعرے ہمیشہ سے لگتے رہے ہیں مگر اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ نئی قسم کی آمریت مسلط ہو گئی ہے۔ آپ اپنا نقطہ نظر پیش کرنے سے قاصر ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر کوئی دانشور ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ٹھیک ہے میرا فرمایا ہوا۔ سچ صرف وہی نہیں ہے جو آپ کو نظر آ رہا ہے اس کی کئی اور شکلیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ہمارا معاشرے میں موجود چند گروہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کچھ بھی کرنے سے گریز نہیں کرتے اور ان کو اگر آئینہ دکھایا جائے تو وہ برا بھی مان سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ ان کی ناراضی مول نہیں لیتے اور وہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں اور حقیقت میں یہ ان کی جیت ہے جو لٹھ لے کر سوشل میڈیا پر دن رات یلغار کر رہے ہیں۔ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بار بار حملے کرتے ہیں۔ ان کا پہلا حملہ آپ کو کسی نہ کسی سیاسی جماعت کا آلہ کار ثابت کرنا ہوتا ہے۔ زبردستی آپ کو کسی نہ کسی سے نتھی کر دیا جاتا ہے۔ آج کے دور میں اگر آپ آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کریں گے تو آپ کو ن لیگی ہونے کے طعنے ملیں گے۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کی بات کریں گے تو آپ پر پیپلز پارٹی کا جیالا ہونے کا الزام دھر دیا جائے گا۔ اداروں کو اپنی آئینی اور قانونی حد میں رہنے کا کہنے والے کو غدار قرار دے دیا جائے گا۔ دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی روایت اس معاشرے سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔ جمہوریت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے والا معاملہ ہے۔ 

اس سارے معاملے کا گلہ کس سے کریں۔ کون سا ادارہ ہے جہاں آپ دادرسی کے لیے جا سکتے ہیں۔ ریاست کے تمام ادارے یرغمال بن چکے ہیں۔ آزادی اظہار رائے کو ہی لے لیں آپ کس سے شکایت کریں گے۔ کون ہے جو آپ کی بات کو سنے گا۔ دھمکی آمیز فون اور پیغامات کس کس کو دکھائیں گے۔ اب یہاں کوئی نہیں کوئی آئے گا۔ عدلیہ کیا ہے اور کس طرح کام کر رہی ہے اس کے بارے میں قانون دانوں نے بہت کچھ عوام پر واضح کر دیا ہے۔

آپ کے لیے ایک لائین کھینچ دی گئی ہے اس سے آگے آپ نہیں جا سکتے۔ جس طرح یہ لولی لنگڑی حکومت چل رہی ہے اسی طرح ہمیں آزادی رائے کا حق دیا گیا ہے۔ اس کی ایک مثال اور بھی سن لیں کہ جس طرح ہم کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا اعلان کرتے ہیں اور خود ہی اس حق کی نفی کرنے کے لیے ہر قدم اٹھاتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں سے لے کر پارلیمنٹ اور عدلیہ تک خاموش ہے کہ آپ نے گلگت بلتستان کو کس اختیار کے تحت ضم کر رکھا ہے اور اب تو یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہے کہ سی پیک کے لیے اس کا کچھ حصہ چین کے براہ راست کنٹرول میں ہو گا، اگر ایسا نہیں ہے تو اس کی وضاحت آنا بھی ضروری ہے۔ کشمیر سے محبت کے عالم کی مثال دیکھ لیجیے کہ گلگت بلتستان کو کشمیر کے ساتھ جوڑنے کے بجائے اپنے ساتھ مستقل نتھی کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہے۔ مجال ہے کہ کوئی آواز اٹھائے۔ کسی ادارے میں ہمت نہیں ہے کہ وہ کہے جناب گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے اور ایک محدود مدت کے لیے اس کا انتظام پاکستان کے حوالے کیا گیا ہے اب بس کیجیے اور اسے واپس کشمیر کے ساتھ جوڑ دیں۔ آپ اس میں مخلص ہوتے تو گلگت بلتستان کی اسمبلی بناتے اور اسے کشمیر کے ایک حصہ کی حیثیت سے رکھتے۔

ہم کس کس بات کا رونا روئیں گے۔ سب سے زیادہ قصور وار تو وہ لوگ ہیں جو جھنڈے والی گاڑی کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ نام نہاد لیڈر سیاسی رہنما نہیں بلکہ تاجر ہیں۔ سودے بازی کے لیے کچھ بھی کرنے کی صلاحیت ان میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ خودمختار کشمیر والے ایک عرصے سے صرف اس لیے انتخابی عمل میں شریک نہیں ہو رہے کہ کاغذ جمع کرانے کے لیے الحاق پاکستان کا بیان حلفی بھی لف کرنا ضروری ہے۔ کشمیر کے ایک وزیر اعظم تھے جب بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کیا تو اسمبلی میں ٹسوے بہا رہے تھے کہ سری نگر کے لوگ گلیوں میں آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں مگر وہاں کوئی نہیں گیا۔ کس نے جانا تھا بھائی۔ وزیراعظم آپ تھے آپ نے کوئی اعلان کرنا تھا کرتے اعلان کہ کنٹرول لائین کو توڑ کر عوام کشمیر میں داخل ہو جائے۔ کرتے اس کو لیڈ تو دیکھتے کہ کس طرح کشمیری آتے ہیں اور خون کے دریا بہاتے ہیں مگر آپ ڈرتے تھے۔ بھارتی فوج لاکھوں نہتے افراد کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی تھی۔ عوامی طوفان کو کوئی دیوار نہیں روک سکتی۔

ہم لالی پاپ لے کر خوش ہیں کہ خوبصورت وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کے حق کے لیے کیا جاندار تقریر کی ہے اور وہ بھی منہ زبانی۔ یہ مسئلہ تقریروں سے نہیں بلکہ تدبیر سے حل ہونا ہے۔ سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ ہر ہفتے آدھا گھنٹہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے احتجاج کرنے کا پروگرام خوبرو وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کیا تھا مگر دوسرے خطابات کی طرح یہ بھی صرف یوٹیوب پر موجود ہے۔ کچھ باخبر یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ بھارت نے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے پہلے تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا تھا۔ بعد میں دھویں والے بم چھوڑے گئے تاکہ لوگوں کو کچھ نظر نہ آئے۔

 اس طرف رہنے والے کشمیری تاجروں کو اپنی تجارت سے غرض ہے۔ ان کا سودا بک رہا ہے تو وہ کیوں سر درد لیں۔ ان کے گھر آباد ہیں۔ کنٹرول لائین پر رہنے والوں کو بھگتنا پڑتا ہے یا اس سے وہ متاثر ہیں جو دوسری طرف رہ رہے ہیں۔ ان میں سے کون ہے جو بے گھر ہوا ہے۔ انہیں اس سے بھی کوئی غرض نہیں کہ کشمیر سے زبردستی نکالے جانے والوں پر کیا بیتی ہے؟ گھر سے بے گھر ہونے کی تکلیف انہوں نے کہاں سہی ہے؟ ہجرت کے دکھ کی انہی کیا خبر کہ کتنے بزرگ آزاد وطن کا خواب آنکھوں میں سجائے دفن ہو گئے۔ ان کے پاس تو خواب بھی نہیں ہیں۔ ان کے خواب سودے بازی کے ہیں۔ طاقت اور اختیار کو حاصل کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرنے کے جتن ہیں۔ سیاسی نظریات میں اس قدر پختہ ہیں کہ کل تک کسی دوسری جماعت  کے وزیر تھے اور آج ترنگا گلے میں ڈال کر جل تو جلال تو کا ورد کر رہے ہیں۔ پہلے ہم لولی لنگڑی جمہوریت سنتے تھے اب لولی لنگڑی حکومت کے نظارے کر رہے ہیں۔ کشمیر ہمارا ہے سارے کا سارا ہے اب کہاں۔ سب نے اس کیک کو کاٹ کر اپنی اپنی پلیٹ میں سجا لیا ہے۔ اب تو فیض اور جالب کو بلانے والے بھی نہیں رہے جب کوئی قوم فکری افلاس کا شکار ہو جائے تو اس کو صدیوں تک مفتوح بنایا جا سکتا ہے۔ کس کس سے قبضہ چھڑائیں گے۔ مجھے وہ پہاڑی زبان کے اشعار یاد آ رہے ہیں جس میں ایک سیدھا سادا کشمیری جنت میں جا کر اللہ سے سوال کرتا ہے کہ اے اللہ یہ جنت کتنی خوبصورت ہے یہاں پر کوئی قبضہ کیوں نہیں کرتا۔