ایک ماہ کی شامی بچی جو خوراک نہ ملنے کی وجہ سے انتقال کر گئی

دمشق:امریکا ،روس ،ایران اور سعودی عرب کا شامی بچوں کے ساتھ سلوک،سحر نامی بچی جو خوراک نہ ملنے کی وجہ سے انتقال کر گئی اس کی بچی کی عمر صرف ایک ماہ تھی،اس کی پسلیاں بھوک کا شکار ہونے کی وجہ سے نظر آ رہی ہیں،اس علاقے کا محاصرہ شامی فوج نے کئی سال سے کر رکھا ہے۔اس علاقے میں سیکڑوں بچے بھوک کی وجہ سے سحر جیسی حالت کا شکار ہورہے ہیں مگر اس بچی کی تصاویر نے دنیا بھر کو دہلا کر رکھ دی۔2013 سے دمشق کے مشرق میں واقع اس قصبے کو بشار الاسد کی حامی افواج نے گھیر رکھا ہے، جس کی وجہ یہاں باغیوں کا قصبہ ہے اور امداد نہ ہونے کے برابر عام شہریوں تک پہنچ رہی ہے۔

21 اکتوبر کو 34 روز کی سحر دوفدا کے والدین مشرقی غوطة کے قصبے حموریہ میں واقع ہسپتال لے کر گئے تھے، جہاں خبررساں ادارے اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے اس بچی کی تصاویر لیں جس کی آنکھیں کمزوری کی وجہ سے پھٹی ہوئی تھیں جبکہ وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ لگ رہی تھی۔

ہسپتال میں اس بچی نے رونے کی کوشش کی مگر جسمانی کمزوری کی وجہ سے منہ سے آواز نہیں نکل سکی جبکہ اس کی ماں قریب بیٹھی آنسو بہاتی رہی۔جب اس بچی کا وزن کیا گیا تو وہ دو کلو گرام سے بھی کم تھا جو اس عمر کے بچوں کے لیے بہت کم ہوتا ہے،عام صحت مند بچے کا وزن ایک ماہ بعد چار سے پانچ کلو تک ہوتا ہے۔

غوطة کے سیکڑوں بچوں کی طرح سحر غذا کی شدید کمی کا شکار تھی۔اس کی ماں بھی اتنی کمزور ہوچکی تھی کہ بچی کو دودھ پلانے سے قاصر تھی، جبکہ والد کی آمدنی اتنی کم تھی کہ وہ باہر کے دودھ اور بے بی سپلیمنٹس کا خرچہ اٹھانے سے قاصر تھا۔والدین کی اس اکلوتی اولاد کا انتقال اتوار کی صبح ہسپتال میں ہوا جسے قریبی قصبے میں دفنایا گیا۔

ایسے ہی بچوں میں سحر اس خطے میں خوراک کے بحران کا تازہ ترین شکار بنی۔اتوار کو اس ننھی بچی کو والد نے قبر میں اتارا اور اس موقع پر سحر کی والدہ غم کے نتیجے میں وہاں بے ہوش ہوگئی۔

واضح رہے کہ شام میں 2011 سے حکومت کے خلاف ایک مسلح گروپ کی جدوجہد کے نتیجے میں وہاں خانہ جنگی کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک، زخمی یا بے گھر ہوچکے ہیں۔اسی بحران کے نتیجے میں 2014 میں داعش کو وہاں ابھر کر بڑے رقبے پر قبضہ کرنے کا موقع ملا جس کے خلاف امریکا سمیت دیگر ممالک کی بمباری بھی وہاں جاری ہے۔