سعودی شہری کو خا دمہ انعام کے طورپر پیش کر نے پر شدید تنقید کا سامنا  

جدہ:سعودی عرب میں  مشہور شخصیت کی جانب سے فلپائنی خادمہ کو انعام کے طور پر پیش کرنے کے اعلان کرنے کے بعد سعودی عرب میں نئی بحث چھڑ گئی ہے ۔ معروف قانون دان نے کہا ہے کہ انعام کے طور پر فلپائنی خادمہ کو پیش کرنا انسانی اسمگلنگ ہے۔

ماہرینِ قانون نے یہ تبصرہ اسنیپ چیٹ پر ایک مشہور شخصیت کی جانب سے فلپائنی خادمہ کو انعام کے طور پر پیش کرنے کے اعلان پر کیا۔ قانونی مشیر خالد الفاخری نے عاجل سے گفتگو میں کہا کہ ایک مشہور شخصیت نے اسنیپ چیٹ پر جو اشتہار دیا ہے کہ انعام میں فلپائنی خادمہ پیش کی جائیگی اس سے بالواسطہ طور پر یہ تاثر ملتا ہے کہ انسان کا نجی حق مارا جارہا ہے اور اسکے مستقبل کا فیصلہ اسکی مرضی کے بغیر کیا جارہا ہے۔

انسان کو وہ ملازمہ ہو یا کوئی اور سامان کے طور پر پیش کرنا انسانی اسمگلنگ ہے۔ اس سے انسانی وقار کی توہین ہوتی ہے۔ یہ قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے جس میں انسان کی خرید و فروخت یا اسے انعام کے طور پر پیش کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے سعودی شہری کے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاہے اور ان کا کہناہے کہ مملکت کے قوانین کے مطابق اس کو سزا دی جائے تاکہ کوئی اور شہری ایسی حرکت کرنے کی جرت نہ کرے ۔