شرجیل میمن کی گرفتاری سے نیب کی بدنامی ہوئی، خورشید شاہ

اسلام آباد: میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ نئے چیئرمین نیب کا بڑی امیدوں کے ساتھ فیصلہ کیا اور امید ہے کہ نیب قانون عام آدمی اور کسی بڑے کے لیے برابر ہو گا جب کہ شرجیل میمن کے ساتھ جو ہوا نیب کے اوپر بڑا داغ لگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن کے وارنٹ جاری ہوئے اور جو پیش نہیں ہوئے ان پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا اور جن کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہوئے ان کو 1 گھنٹے میں ضمانت مل گئی۔

انہوں نے کہا ایک شخص خود اپنے آپ کو پیش کرتا ہے مگر اسے اس طرح گرفتار کیا جاتا ہے۔ شرجیل میمن کی گرفتاری سے نیب کی بدنامی ہوئی تاہم امید کرتا ہوں چیئرمین نیب جاوید اقبال نوٹس لیں گے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ابھی تک کچھ اداروں میں لاڑکانہ اور لاہور کی الگ سوچ ہے تاہم اسے ختم کرنا ہو گا اور جمہوریت ڈی ریل ہوئی تو اچھا نہیں ہو گا کیونکہ اداروں کے درمیان جو صورتحال ہے حالات اچھے نہیں تاہم ہم پھر بھی توقع کرتے ہیں کہ جمہوریت ڈی ریل نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں نیشنل گورنمنٹ کی کوئی گنجائش نہیں اور ایسا اقدام ماورائے آئین ہوگا جب کہ پیپلز پارٹی اس لیے بچی ہوئی ہے کہ پرانے لوگوں کو آگے لے کر آتی ہے کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی میں راتوں رات پارٹیوں کو تبدیل کرایا گیا جب کہ جو جماعتیں اپنا دروازہ کھولتی ہیں ان کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ عمران کی سیاست ہی یہی ہے کہ کسی کو گالی گلوچ کر کے ہائی لایٹ کیا جائے جب کہ ان کے پاس کوئی ایجوکیشن یا ہیلتھ پالیسی نہیں۔خطے میں امن و سلامتی کے لیے امریکہ کو کردار ادا کرنا چاہیے اور امریکا کو اپنی خارجہ پالیسی کا ازسر نو جائزہ لینا چاہیے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں