یورپی تہذیب کی موت بوسنیا میں ہوئی، تدفین شام میں : اردگان

انقرہ: ترکی کے صدررجب طیب اردغان نے اہم بیان دیتے ہوئے شام اور میانمار میں انسانی المیہ پر یوروپی ممالک میں پائے جانے والے اختلافات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق انقرہ کے صدارتی کامپلکس میں بوسنیائی قائد عالیجاہ عزت بیگ کی 14 ویں برسی کے موقع پر منعقدہ ایک سادہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپی تہذیب کی موت بوسنیا میں ہوئی اور شام میں اسے دفن کیا گیا۔

معصوم و بے گناہ بچوں کی جو نعشیں ساحل سمندر پر مل رہی ہیں وہ یورپی تہذیب کی قبر کے کتبے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بوسنیا میں ہوئے تشدد اور ظلم و جبر کسی کو دکھائی نہیں دیا وہی لوگ راکھین اسٹیٹ میں جاری تشدد پر بھی بہرے اور اندھے ہوگئے ہیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف مظلوموں اور ظالموں کی شکلیں بدلی ہیں لیکن لوگوں کے مصائب جوں کے توں جاری ہیں۔ سرمایہ داروں کا خون چوسنے والا طبقہ اب بھی معصوم اور بے گناہوں کا استحصال کررہا ہے۔ 25 سال پہلے جو کچھ بوسنیا میں ہوا تھا اور جو آج شام میں ہورہا ہے ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔

انہوں نے یوروپی یونین کی جانب سے ترکی پر عائد کی جانے والی تحدیدات پر سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ یوروپی یونین کو ترکی کی بحیثیت ایک رکن ملک شدید ضرورت ہے۔ ترکی کا یوروپی یونین پر انحصار نہیں ہے بلکہ ترکی کے بغیر یوروپی یونین یکا و تنہا ہوجائے گا اور داخلی تنازعات کا شکار ہوجائے گا