لاہور کے شہریوں کیلئے خوشخبری، وزیراعلیٰ پنجاب نے اورنج ٹرین کا افتتاح کردیا

Lahore, Orange line train, Project
کیپشن:   Lahore, Orange line train, Project

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے  لاہور میں اورنج لائن ٹرین منصوبے کا افتتاح کر دیا ہے۔ ٹرین صبح ساڑھے 7 سے رات ساڑھے 8 بجے تک چلے گی۔ شہریوں کو کل سے سفری سہولتیں میسر ہونگی۔ خیال رہے کہ یہ منصوبہ گزشتہ چار سال سے جاری تھا جو بالاخر مکمل ہو چکا ہے۔ ٹرین کا ٹیسٹ رن چار ماہ سے جاری تھا۔

اورنج لائن ٹرین کے ٹریک پر 26 سٹیشنز بنائے گئے ہیں۔ ڈیرہ گجراں سے علی ٹاؤن تک ٹرین چلے گی جس کا کرایہ 40 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ مذکورہ ٹرین روزانہ صبح ساڑھے 7 بجے سے چل کر رات ساڑھے 7 بجے تک چلا کرے گی جبکہ اورنج لائن ٹرین کے روٹ پر دیگر روڈ پبلک ٹرانسپورٹ محلہ وار بند کی جائے گی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اورنج ٹرین کا کرایہ کم کیا جائے، مہنگائی کے اس دور میں 40 روپے کرایہ بہت زیادہ ہے۔

افتتاحی تقریب میں چینی قونصلیٹ کے افسران، صوبائی، وفاقی وزرا، اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی، آئی جی پولیس پنجاب، پاکستان ریلویز کے حکام اور دیگر ملحقہ اداروں کے اعلیٰ افسران  شریک ہوئے۔ منصوبے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایک پانچ بوگیوں پر مشتمل ایک ٹرین میں ایک ہزار مسافر سفر کر سکیں گے۔

اورنج لائن کے ٹریک پر 22 ٹرینیں چلیں گی اور ہر ٹرین میں ایک ہزار مسافروں کی گنجائش ہوگی۔ خواتین اور معذوروں کیلئے سیٹیں مختص ہیں۔ ٹرین بیک وقت تین سو مسافروں کو منزل مقصود تک پہنچائے گی۔فی مسافر یکطرفہ کرایہ چالیس روپے مقرر کیا گیا ہے۔

یہ منصوبہ صرف 27 ماہ کے دوران 2017ء میں مکمل ہونا تھا جبکہ تخمینہ 165 ارب کا تخمینہ لگایا گیا تھا جو بڑھ کر 300 ارب تک جا پہنچا۔ 28 جنوری 2016ء کو پراجیکٹ کے خلاف ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچانے سے متعلق دائر درخواستوں پر ہائیکورٹ نے حکم امتناعی جاری کیا جس کے باعث گیارہ مقامات پر ایک سال دس ماہ تک کام بند رہا۔ موجودہ حکومت نے 29 اپریل 2019ء کو میٹرو ٹرین کا پہلا ٹیسٹ رن کیا جس کے دوران انڈر گرائونڈ ٹریک کی چیکنگ بھی کی گئی۔ ٹریک پر 26 سٹیشنز میں سے دو زیر زمین بنائے گئے ہیں۔ ٹرین کے ساتھ پانچ بوگیاں منسلک ہوں گی اور ہر بوگی میں ساٹھ مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب کی اورنج لائن منصوبے کے افتتاح پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‎عمران صاحب! شہباز شریف کو جیل میں بند کرکے ان کے بنائے منصوبے کا افتتاح کرکے کچھ شرم تو آ رہی ہوگی۔ ‎عوام کو دنیا کی بہترین ٹرانسپورٹ سہولت دینے والا جیل میں ناحق قید ہے۔ ‎عمران صاحب آج کس منہ سے شہباز شریف کی اورنج ٹرین کا افتتاح کر رہے ہیں؟

اس موقع پر افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا ہم نے سابق حکومت کے ادھورے منصوبوں کی تکمیل کیلئے وسائل وقف کئے، اورنج ٹرین منصوبہ بھی ان میں سے ایک تھا۔ حکومت شہریوں کی سہولت کیلئے اس منصوبے کو سبسڈی بھی دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری ممنصوبہ دونوں ممالک کی دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے بہت سے منصوبے اب آخری مراحل میں پہنچ چکے ہیں۔