زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا نیا چہرہ

Rana Zahid Iqbal, Pakistan, Naibaat newspaper,e-paper, Lahore

انگریزوں نے 1906ء میں ساندل بار کے بے آب و گیاہ علاقے کو سرسبز کھیتیوں میں تبدیل کرنے کے لئے جب تین نہروں کے ذریعے آبپاشی کا اہتمام کیا اس وقت شاید کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ یہ علاقہ دیکھتے ہی دیکھتے اس خطے کی معیشت کے لئے ایک مرکزی حیثیت کا حامل علاقہ قرار پائے گا۔ ان تین نہروں میں گوگیرہ برانچ، جھنگ برانچ اور رکھ برانچ شامل تھیں اور پورے برصغیر سے لوگ کھیتیاں آباد کرنے کے لئے لائلپور کا رخ کرنے لگے۔ آٹھ بازاروں کا یہ شہر دراصل ہجرت کر کے منتقل ہونے والے کثیرالثقافتی تشخص کے حامل افراد نے لائل پور کو ایک متحرک اور فعال شہر کے طور پر پوری دنیا میں متعارف کروایا۔ جب یہاں زرعی فصلات کے اگاؤ کے لئے نئی ٹیکنالوجیز کی ضرورت محسوس کی گئی تو اس وقت پنجاب زراعتی کالج اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لائل پور کے نام سے برصغیر پاک و ہند کا علوم زراعت کا اولین ادارہ قائم کیا گیا۔ جس سے بھارت اور بنگلہ دیش میں کئی شاخیں پھوٹیں اور خطے کی زراعت کے لئے ہنرمند افرادی قوت فراہم ہونا شروع ہوئی۔ 

1906ء میں پنجاب زراعتی کالج و تحقیقاتی ادارہ لائل پور نہ صرف تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کر رہا تھا بلکہ یہاں سے نئے بیجوں کی دریافت اور نئی زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی کا اہتمام کرنے میں پیش پیش تھا اور 1961ء میں سرخ اینٹوں کی اطالوی تعمیراتی حسن کی حامل گنبدوں و محرابوں پر مشتمل اس عمارت کو علوم زراعت کی ایک علامت کے طور پر پوری دنیا میں تسلیم کیا جانے لگا۔ تعمیراتی حسن سے آراستہ یہ دیدہ زیب کیمپس برصغیر کے لوگوں کے لئے انتہائی پرکشش حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ 1961ء میں جب مغربی پاکستان زرعی یونیورسٹی لائل پور کے طور پر اس کالج کو ترقی دے دی گئی اس وقت یہاں نئے کیمپس کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ 70ء کی دہائی میں نیوکیمپس انتہائی دلکش اور خوبصورت خدوخال کے ساتھ رونما ہوا جس میں تین منزلہ ایڈمن بلاک، بہترین دو منزلہ کشادہ لائبریری، بارہ سو افراد کی گنجائش کا حامل اقبال آڈیٹوریم اور کم و بیش ایک کلومیٹر طویل کوری ڈور کے اردگرد جدید لیبارٹریز اور کلاس رومز کا ایسا خوبصورت منظرنامہ سجایا گیا کہ پاکستانی جامعات میں اسے بھرپور پذیرائی میسر آئی۔ یہ یونیورسٹی کا دوسرا روپ تھا جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اپنے سفیر بھجوائے اور فیصل آباد کا نام روشن کیا۔ 

زرعی یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر ڈاکٹر زیڈ اے ہاشمی اور ان کے بعد آنے والے وائس چانسلرز نے ان خوبصورتیوں کو نکھارنے اور سنوارنے میں بھرپور کوششیں کیں۔ یہ کیمپس فیصل آباد کے لوگوں کے لئے مرجع خاص و عام قرار پایا۔ 2008ء میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی قیادت یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ریورسائیڈ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے بین الاقوامی شہرت کے حامل وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے سنبھالی تو ان کے پاس دنیا کے متعدد ممالک میں خدمات سرانجام دینے کا وسیع ترین تجربہ تھا۔ انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں اور اس ادارے کے لئے اپنے دل میں پنہاں محبت کو ذوق جمال میں ڈھالنے کے لئے یہاں نئے منصوبہ جات کے اجراء اور نئی تعمیرات کو وقوع پذیر کرنے کا انتھک سفر شروع کیا۔ 2008ء سے 2017ء تک دیکھتے ہی دیکھتے یونیورسٹی اور گردونواح میں بلندوبالا اور نفاست کی حامل متعدد تعمیرات سامنے آنے لگیں۔ ان تعمیرات میں یونیورسٹی کا مرکزی دروازہ، گھنٹہ گھر، فیصل آباد شہر کا اولین اور اکلوتا ایگزی بیشن(ایکسپو) سنٹر جس میں آٹھ مختلف ہال موجود ہیں، فنانشل ایڈ بلڈنگ، امریکی امدادی ادارے(یو ایس ایڈ) کے مالی تعاون سے تین منزلہ سنٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈیز کی سٹیٹ آف دی آرٹ عمارت جس میں آٹھ جدید ترین لیبارٹریاں، آڈیٹوریم، لائبریری اور خوبصورت انفراسٹرکچر موجود ہے تعمیرکے مراحل سے آراستہ کیا۔ پاکستان کا سب سے بڑا ایک ہزار طالبات کے لئے انتہائی خوبصورت ہاسٹل کے علاوہ جھنگ روڈ پارس کیمپس پر کمیونٹی کالج کی عالیشان عمارت کے ساتھ ساتھ ترکی کے مالی تعاون سے ہاسٹل اور دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ پنجاب بائیوانرجی انسٹی ٹیوٹ کا قیام عمل میں لا کر یونیورسٹی کے تعمیراتی حسن کو چار چاند لگائے۔ 

دیگر عمارات میں یونیورسٹی کا سائنس بلاک، آئی ٹی و ای لائبریری بلڈنگ، کمپیوٹر سائنس بلاک، انجینئرنگ بلاک کے علاوہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی پانچ کونوں والی عالیشان عمارت بھی شامل ہیں۔ نوجوان نسل کو متحرک اور فعال کردار ادا کرنے کے لئے کھیلوں کی طرف راغب کیا گیا اور پاکستان کا بین الاقوامی معیار کا حامل پہلا ہینڈبال کورٹ اسی یونیورسٹی میں تعمیر کیا گیا۔ یہاں ہارس رائیڈنگ اور نیزہ بازی کے مقابلہ جات کے لئے ایک سٹیڈیم بھی قائم ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ دو مزید ہاسٹلز تعمیر کئے گئے۔ اس کے علاوہ ٹوبہ ٹیک سنگھ، دیپالپور اوکاڑہ اور بورے والا وہاڑی میں یونیورسٹی کے نئے کیمپسز تعمیر ہوئے جو عنقریب مکمل یونیورسٹیز کا روپ دھارتے دکھائی دیں گے۔ 

وقت کی حیرت زدہ آنکھ ان تعمیرات کو خوبصورتیوں کی حامل اور جدتوں سے آراستہ دیدہ زیب بلڈنگز کے طور پر دیکھتی چلی آ رہی ہے اور یونیورسٹی ایک نئے رنگ و روپ اور نئے آہنگ کے ساتھ پوری دنیا کے سامنے ہے۔ اس کے ابتدائی دو روپ اگرچہ خوبصورت ہیں مگر یہ تیسرا روپ اپنی رنگینیوں اور ذوق جمال کے لبادے کی وجہ سے سب سے پرکشش دکھائی دیتا ہے۔ میں جب بھی یونیورسٹی کا دورہ کرتا ہوں تو مجھے یونیورسٹی کا یہ جدید چہرہ بہت دیدہ زیب دکھائی دیتا ہے اس لئے میں نے سوچا کہ میں اپنے قارئین کو خوبصورتیوں کی حامل ان عمارات کی سیر کراؤں تاکہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ فیصل آباد میں علوم زراعت کی اولین اور قدیم ترین یونیورسٹی نئی جدتوں کے بعد اب کیسی نظر آتی ہے۔