تارکین وطن کے مسائل

Mohsin Goraya, Pakistan, Naibaat newspaper,e-paper, Lahore

اندرون ملک مسائل کے حل کی تلاش میں بیرون ملک پناہ لینے والے پاکستانیوں کی بڑی تعداد ترک وطن کے باوجودآج بھی مصائب کی چکی میں پس رہی ہے،عمران خان کی حکومت تارکین وطن پاکستانیوں کو ہمیشہ سے اپنا اثاثہ قرا دیتی رہی مگر ان کے دور میں بھی چند ایک معمولی اقدامات کے سوا تارکین وطن کے مسائل کے حل کی کوئی ٹھوس کوشش دکھائی نہیں دیتی،اگر چہ ان کی کابینہ کے وزرا اور مشیران میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ایک بڑا حصہ شامل ہے۔ترک وطن کے رحجان کا آغاز قیام پاکستان کے فوری بعد ہو گیا تھا جب برطانیہ سمیت یورپی ممالک نے کشمیریوں کو انسانی ہمدردی کے تحت شہریت دینے کے عمل کا آغاز کیا،تب تک رحجان یورپی ممالک میں سکونت حاصل کرنے کا تھا،مگر 70ء کی دہائی میں جب شرق اوسط کی ریاستوں میں تیل کی دولت بڑی مقدار میں دستیاب ہونا شروع ہوئی تو خلیجی ریاستوں کو اپنے تعمیراتی منصوبوں کیلئے انسانی وسائل کی ضرورت پیش آئی،ذوالفقار علی بھٹو کے ان ریاستوں کے حکمرانوں سے ذاتی نوعیت کے تعلقات تھے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں پاکستانوں کو خلیجی ریاستوں کے ویزے دئیے گئے اور انہیں وہاں روز گار میسرآیا،یہ پاکستان میں معاشی انقلاب کی ابتداء تھی۔

77ء میں بھٹو حکومت کے خاتمہ کے بعد آمریت کے مخالفین کی بڑی تعداد نے ترک وطن کا سلسلہ شروع کیا،یہ بیرون ملک پاکستانیوں کی تقسیم کا آغاز تھا جس کے بعد سے اب تک پاکستانی کمیونٹی میں ماضی جیسا بھائی چارہ اور یکجہتی دکھائی نہیں دی،14اگست کو آزادی کا جشن بھی سیاسی تقسیم کا شکار ہو چکا ہے اور یہ جشن بطور پاکستانی منانے کے بجائے پارٹی کی سطح پر منایا جاتا ہے،90ء کی دہائی میں ایم کیو ایم کیخلاف کارروائی کے آغاز کے بعد پاکستانیوں کی ایک بڑی کھیپ نے امریکہ و یورپ میں سیاسی پناہ حاصل کی،جس کے بعد یہ تقسیم مزید واضح ہو گئی،99ء ن لیگ کے قائدین کی ترک وطنیت نے اس تقسیم کو مزید گہرا اور زہریلا کر دیا،اس تمام صورتحال میں اوور سیز پاکستانیوں کے اندرون ملک مسائل نہ صرف گمبھیر ہوتے گئے بلکہ ان کی تعداد میں بھی خوفناک حد تک اضافہ ہوا،مگر کسی حکومت نے ان مسائل کے حل پر توجہ نہ دی۔

 بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد وہاں اس وجہ سے بھی مشکلات کا شکار ہے کہ وہ مقامی قوانین سے ناواقف ہے،غیر قانونی ذرائع سے ایجنٹوں کے ذریعے آنے والے پاکستانی اس حوالے سے سب سے زیادہ پریشان ہیں،جو گرفتار ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں،اکثر کے پاس اپنی شناخت ہی نہیں ہوتی جس بناء پر سفارتخانہ بھی فوری کچھ نہیں کر سکتا جب تک کہ شناخت کی تصدیق نہ ہو جائے،جو گرفتاری سے بچ جاتے ہیں وہ گرفتاری کے خوف سے چھپتے پھرتے ہیں ٹک کر کام نہیں کر سکتے،ان کا استحصال بھی کیا جاتا ہے اورآدھے سے بھی کم معاوضہ دیا جاتا ہے،سر چھپانے کو گھر کرایہ پر نہیں ملتا ملے تو کرایہ استطاعت سے زیادہ ہوتا ہے،یہاں سفارتخانہ تعاون کرنے کی خواہش کے باوجود کچھ کرنے سے قاصر ہوتا ہے،منشیات سمگلنگ کے قیدیوں کی زندگی درحقیقت عذاب سے کم نہیں،ان میں سے کچھ جرم بیگناہی کی سزا بھگت رہے ہیں جن کی لا علمی میں ایجنٹ نے منشیات کا پارسل ان کے سامان میں چھپا دیا یا بلیک میل کر کے لے جانے پر مجبور کیا،اچھے مستقبل خوشحالی اور جلد زیادہ پیسے کمانے کے لالچ میں وہ اس سے بھی دریغ نہیں کرتے نتیجے میں دھرے جاتے ہیں اور لمبی سزاپاتے ہیں۔

 یہ تو تھے تارکین وطن کے عمومی اور وہ مسائل جو ان کو میزبان ممالک میں در پیش ہیں،بہت سے اوورسیز پاکستانی جو قانونی ترک وطن کر کے گئے اور وہاں محنت کر کے پیسہ کمایا وطن کی محبت میں یہاں قیمتی پلاٹ خریدا کہ گھر بنا کر چھٹیاں گزارنے آئیں گے تو رہیں گے مگر یہ خواب تعبیر سے پہلے قبضہ گروپوں کی نذر ہو جاتا ہے اور جب وہ وطن آتے ہیں تو پلاٹ پر کسی اور کا قبضہ ہوتا ہے یا وہاں عالیشان عمارت کھڑی ان کا منہ چڑا رہی ہوتی ہے،اس صورتحال کے تدارک کیلئے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے تعاون سے قانونی کارروائی کی جاتی ہے کچھ کو انصاف مل گیا اور کچھ ابھی منتظر ہیں،حکومت نے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو تارکین وطن کے مسائل حل کرے گی،ممکن ہے اس کی کوششوں سے انہیں انصاف مل جائے مگر عدم اعتماد اور غیر یقینی کا جو تاثر ان کے ذہن پر نقش ہوااس کی تلافی نہیں کی جا سکتی،بہت سے تارکین وطن نے پاکستان آکر سرمایہ کاری کی کوشش کی مگر ان میں سے چند ہی کامیاب ہو سکے باقی یا تو متعلقہ محکموں کی نذر ہو گئے یا ان کو با اعتماد ملازمین نے ایس ڈسا کہ انہوں نے واپسی میں ہی عافیت جانی۔

 تارکین وطن کی طرف سے بھیجی گئی ترسیلات ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں حد درجہ اہمیت کی حامل ہیں،وزیر اعظم بھی ان کو معیشت کی شہ رگ قرار دیتے ہیں مگر زر مبادلہ بھیجنے والے ان تارکین وطن کو تحفظ کہیں سے نہیں ملتا،حکومت ایک طرف ان کو اثاثہ قرار دیتی ہے دوسری طرف ان کا لہو نچوڑنے کے ہر نوعیت کے اقدامات کو جائز قرار دے دیا گیا ہے،ڈالر کی روز افزوں قدر ہی ان کیلئے سوہان روح ہے،روپوں میں ترسیل زر کریں تو جس ملک سے بھیجتے ہیں وہاں ڈالر کی قدر کم ہے اور کم روپے ملتے ہیں،ڈالر کی شکل میں بھیجیں تو یہاں ڈالر کا حصول بہت مشکل کر دیا گیا ہے،اب وہ اپنے والدین کو ترسیل زر کا کون سا ذریعہ اختیار کریں،ایسی صورت میں ترسیل ذر کے غیر قانونی ذرائع کو فروغ ملے گا اور کرنسی ڈیلروں،منی چینجرز کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی،تارکین وطن کہاں جائیں کس سے فریاد کریں؟

بیرون ملک سفارتخانوں میں نادرا کے معاملات بھی قابل تعریف نہیں،پاسپورٹ،شناختی کارڈ کی تجدید کار لا حاصل ہے،اتنی جکڑ بندیاں ہیں کہ درخواست گزار کو سب کام چھوڑ کے کئی روز ضروری معلومات کی فراہمی اور تصدیق میں صرف کرنا پڑتے ہیں،جائیداد کی خرید و فروخت،نقل،فرد یا انتقال کا حصول تو جوئے شیر لانے سے بھی مشکل ہے۔

 اس صورتحال کا تدارک لمبی چوڑی قانون سازی اور متعدد محکمے،کمیٹیاں،کمیشن تشکیل دینا نہیں،بلکہ ایک ہی چھت کے نیچے مسائل کو حل کرنے کی سہولت دینا ہے، وہ اضلاع جن کے مکینوں کی بڑی تعداد بیرون ملک مقیم ہے وہاں ایک کمپلیکس بنا دیا جائے،جہاں تارکین وطن ثبوت و شواہد کیساتھ شکایات کا اندراج کرائیں اس کمپلیکس کو سفارتخانوں تک رسائی دی جائے تاکہ وہ تصدیق کر کے کارروائی کا آغاز کریں اسی عمارت میں ایک با اختیار عدالت قائم ہو،جو معاملات عدالتی ہوں متعلقہ افسر عدالت کو ریفر کر دے اور عدالت کو مخصوص مدت میں اس کا ازالہ کرنے کا پابند کیا جائے،اس طرح تارکین وطن کا اعتماد بحال ہو گا،ان کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے گا،ان کا وقت اور سرمایہ بچایا جا سکے گا،اور تارکین وطن زیادہ اعتماد کیساتھ اپنے ملک میں سرمایہ کاری کر سکیں۔