حکومتی پارٹی نے بل پاس کر کے آئین و قانون پر شب خون مارا : سراج الحق

لاہور :امیر جماعت اسلامی پاکستان سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جس شخص کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا ہے اسے پارٹی سربراہ بنانے کا بل پاس کرکے حکومتی پارٹینے آئین و قانون پر شب خون مارا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو بلڈوز کرنے کی کوشش کی ہے۔


منصورہ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 62/63پر پورا نہ اترنے والے شخص کوسیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بنایا جاسکتا۔یہ بل نہ صرف آئین سے متصادم ہے بلکہ انتخابی قوانین کی بھی نفی ہے ۔حکومت فوری طور پر اس آئینی ترمیم کو واپس لے۔قبل از وقت انتخابات تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے ہی سے ہوسکتے ہیں ،حکومتوں کو سیاسی شہید بننے کا موقع دینے کی بجائے انہیں مدت پوری کرنے دی جائے تاکہ سب کی کارکردگی سامنے آسکے ۔


سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت نے انتخابی اصلاحات کیلئے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے تجویز کی گئی الیکشن ریفارمز کو خود ہی مشکوک بنادیا ہے ۔ایک نااہل شخص کو پارٹی سربراہ بنانے کیلئے سپریم کورٹ کے فیصلے اور آئین کے بنیادی اصول کے خلاف آئین سازی کی کوشش کی گئی ،جس سے الیکشن کا پورا نظام متنازعہ اور ملک بدنام ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے انتخابی اصلاحات کیلئے اپنی تجاویز سینیٹ اور قومی اسمبلی میں جمع کرائی تھیں جن پر عمل نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری معاشرے کیلئے عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن حکومتی پارٹی حق میں فیصلہ آنے پر مٹھائیاں تقسیم کرتی ہے اور اگر فیصلہ ان کی مرضی کے خلاف ہوتو احتجاج شروع کردیتی ہے ۔